🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. حَقُّ الزَّوْجَةِ عَلَى الزَّوْجِ
شوہر پر بیوی کا حق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2800
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن إياس بن عبد الله بن أبي ذُبَاب، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تَضرِبُوا إماءَ اللهِ". فجاء عمرُ إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، ذَئِرنَ النساءُ على أزواجهنّ. فرَخَّص في ضَرْبهن، فأطافَ بآلِ رسول الله ﷺ نساءٌ كثيرٌ يَشكين أزواجَهُنَّ، فقال النبي ﷺ:"لقد طافَ بآلِ محمدٍ نساءٌ كثيرٌ يَشكين أزواجَهُنَّ، ليس أُولائك بخِيارِكم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2765 - صحيح
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں (عورتوں) کو مت مارو۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عورتیں تو اپنے شوہروں پر شیر (دلیر) ہو گئی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (تادیباً) مارنے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد بہت سی خواتین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا گھیراؤ کر لیا جو اپنے شوہروں کی شکایت کر رہی تھیں، تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے گرد بہت سی عورتیں جمع ہوئی ہیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کر رہی ہیں، (یاد رکھو!) وہ لوگ (جو اپنی عورتوں کو مارتے ہیں) تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2800]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إياس بن عبد الله بن أبي ذباب، أثبت صحبته أبو حاتم وأبو زرعة، وجزم به أبو عمر بن عبد البر، ورجّح الحافظ صحبته في "التهذيب"، وصحَّح إسناد حديثه هذا في "الإصابة" 2/ 280، ونفى صحبته أحمد بن حنبل والبخاري، واختلف فيه قول ابن حبان، فأثبته مرة ونفاه أخرى.» [ترقيم الرساله 2800] [ترقيم الشركة 2781] [ترقيم العلميه 2765]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2801
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، حدثني مُسلم بن خالد، عن موسى بن عُقبة، عن أمِّه، عن أم كُلْثوم بنت أبي سَلَمة، قالت: لما تزوج رسولُ الله ﷺ أمَّ سلَمة، قال لها:"إني أَهدَيتُ إلى النَّجَاشيِّ أَواقيَّ (1) من مِسكٍ وحُلَّةً، وإني لا أُراه إلا قد ماتَ، ولا أُرى الهديةَ التي أَهدَيتُ إليه إلّا سَتُردُّ، فإذا رُدَّت إليَّ فهو لكِ - أو لكم (2) -"، فكان كما قال، هَلَكَ النجَاشيُّ، فلما رُدّت إليه الهديةُ، أعطى كلَّ امرأةٍ من نسائه أوقيّةً من ذلك المِسك، وأعطى سائرَه أمَّ سلَمةَ وأعطاها الحُلَّة (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2766 - منكر ومسلم الزنجي ضعيف
سیدہ ام کلثوم بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تو ان سے ارشاد فرمایا: میں نے نجاشی کی طرف کستوری کے کچھ اوقیے اور ایک حلہ (لباس) بطور ہدیہ بھیجا ہے، اور میرا خیال یہی ہے کہ وہ وفات پا چکا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا بھیجا ہوا وہ ہدیہ واپس آ جائے گا، پس اگر وہ مجھے واپس مل گیا تو وہ تمہارے لیے (یا تم سب کے لیے) ہوگا۔ پھر ویسا ہی ہوا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، نجاشی کا انتقال ہو گیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ہدیہ واپس ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہر زوجہ مطہرہ کو اس کستوری میں سے ایک ایک اوقیہ عطا فرمایا اور بقیہ کستوری اور وہ حلہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2801]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف مسلم بن خالد - وهو الزَّنجي - وقد تفرَّد به عن موسى بن عقبة، واضطرب فيه في ذكر أم موسى بن عقبة، فمرة يقول فيه: عن أمه عن أم كلثوم، كما وقع عند المصنف هنا، ومرة يقول: عن أمه أم كلثوم، فيجعل أمَّ كلثوم هي أمَّه. ابن وهب: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 2801] [ترقيم الشركة 2782] [ترقيم العلميه 2766]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف مسلم بن خالد - وهو الزَّنجي - وقد تفرَّد به عن موسى بن عقبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2802
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفرّاء، أخبرنا جعفر بن عَوْن، حدثنا ربيعة بن عثمان، عن محمد بن يحيى بن حَبّان، عن نَهار العَبْدي - وكان من أصحاب أبي سعيد الخُدْري - عن أبي سعيد الخُدْري، قال: جاء رجلٌ إلى النبيّ ﷺ بابنةٍ له، فقال: يا رسول الله، هذه ابنتي قد أبَتْ أن تَزَوَّجَ، فقال لها النبي ﷺ:"أَطِيعي أباكِ" فقالت: والذي بعثك بالحقّ لا أتزوَّجُ حتى تُخبرني ما حقُّ الزوج على زوجتِه، قال:"حقُّ الزوج على زوجته أن لو كانت به قُرْحةٌ فَلَحِسَتْها ما أدَّتْ حقَّه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2767 - بل منكر قال أبو حاتم ربيعة منكر الحديث
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری یہ بیٹی نکاح کرنے سے انکار کرتی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی سے فرمایا: اپنے والد کی اطاعت کرو۔ اس نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں اس وقت تک نکاح نہیں کروں گی جب تک آپ مجھے یہ نہ بتا دیں کہ بیوی پر شوہر کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کا اپنی بیوی پر یہ حق ہے کہ اگر اس کے جسم پر کوئی زخم (پھوڑا) ہو اور وہ اسے چاٹ بھی لے تو تب بھی اس کا حق ادا نہ ہوگا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2802]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد كما قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 3/ 35، وصحَّحه ابنُ حبان، وإنكار الذهبي له في "تلخيصه" بحجة قول أبي حاتم الرازي بأنَّ ربيعة بن عثمان منكر الحديث، غير مُسلَّم له، لأنَّ ربيعة هذا وثقه ابن معين وابن نمير والواقدي والحاكم في "سؤالات مسعود السِّجْزي"، وقال فيه أبو زرعة: ...» [ترقيم الرساله 2802] [ترقيم الشركة 2783] [ترقيم العلميه 2767]

الحكم على الحديث: إسناده جيد كما قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 3/ 35
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں