المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ
بیوی پر شوہر کا حق
حدیث نمبر: 2803
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المُغيرة السُّكّري بهَمَذان، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا سليمان بن داود اليَمَامي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، قال: جاءت امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ، فقالت: يا رسول الله، أنا فلانةُ بنت فلانٍ، قال:"قد عرفتُكِ، فما حاجتُك؟" قالت: حاجتي إلى ابن عمِّي فلانٍ العابِد، قال رسول الله ﷺ:"قد عرفتُه" قالت: يَخطُبني، فأخبِرْني ما حقُّ الزوج على الزوجةِ، فإن كان شيئًا أُطيقُه تزوّجتُه، وإن لم أُطِقْ لا أتزوّج، قال:"مِن حقِّ الزوج على الزوجةِ أن لو سالَ مَنْخِراهُ دمًا وقَيْحًا وصَديدًا فلَحِسَتْه بلسانها، ما أدَّت حقَّه، لو كانَ ينبغي لبشرٍ أن يَسجُدَ لبشرٍ، لأمرتُ المرأةَ أن تَسجُدَ لزوجِها إذا دخل عليها، لِمَا فضَّله اللهُ عليها"، قالت: والذي بعثك بالحقّ لا أتزوّجُ ما بقِيتُ في الدنيا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2768 - بل منكر وسليمان واه والقاسم صدوق تكلم فيه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2768 - بل منكر وسليمان واه والقاسم صدوق تكلم فيه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں کی بیٹی فلاں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں پہچان لیا، تمہاری حاجت کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: میری ضرورت میرے چچا زاد بھائی فلاں عابد کے متعلق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے (بھی) جانتا ہوں“، اس نے عرض کیا: وہ مجھے نکاح کا پیغام دے رہا ہے، تو آپ مجھے بتائیں کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا حق ہوا جسے میں نبھا سکی تو میں اس سے نکاح کر لوں گی، ورنہ میں نکاح نہیں کروں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شوہر کا بیوی پر حق یہ ہے کہ اگر اس کے نتھنوں سے خون، پیپ اور زرد پانی بہہ رہا ہو اور وہ اسے اپنی زبان سے چاٹ لے تب بھی اس نے اس کا حق ادا نہیں کیا، اور اگر کسی انسان کے لیے یہ جائز ہوتا کہ وہ کسی انسان کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ جب اس کا شوہر اس کے پاس آئے تو وہ اسے سجدہ کرے، اس فضیلت کی بنا پر جو اللہ نے اسے (شوہر کو) اس (بیوی) پر دی ہے“، اس نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں جب تک دنیا میں رہوں گی کبھی نکاح نہیں کروں گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2803]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود اليمامي، فهو واهٍ كما قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 3/ 35، والذهبي في "تلخيص المستدرك"، وقد خالفَه محمد بن عمرو بن علقمة، فرواه عن أبي سلمة عن أبي هريرة مقتصِرًا على ذكر السجود، فهذا هو المحفوظ في حديث أبي هريرة.» [ترقيم الرساله 2803] [ترقيم الشركة 2784] [ترقيم العلميه 2768]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود اليمامي
حدیث نمبر: 2804
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن بُشَير بن يَسار، عن حُصين بن مِحْصَن قال: حدثتني عمّتي، قالت: أتيتُ النبي ﷺ في بعض الحاجة، فقال:"أيْ هذه، أذاتُ بَعْلٍ أنتِ؟" قلت: نعم، قال:"كيف أنتِ له؟" قالت: ما آلُوه إلّا ما عَجَزْتُ عنه، قال:"فأين أنتِ منه، فإنما هو جَنّتُكِ ونارُكِ" (1) . هكذا رواه مالك بن أنس، وحماد بن زيد، والدَّرَاوردي (2) ، عن يحيى بن سعيد، وهو صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2769 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2769 - صحيح
حصین بن محصن اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کسی ضرورت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے خاتون! کیا تم شوہر والی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اس کے ساتھ کیسی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی مگر وہی جس سے میں عاجز آ جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غور کرو کہ تم اس کے لیے کیسی ہو، کیونکہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری دوزخ ہے۔“
یہ روایت امام مالک بن انس، حماد بن زید اور دراوردی نے یحییٰ بن سعید سے نقل کی ہے اور یہ صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2804]
یہ روایت امام مالک بن انس، حماد بن زید اور دراوردی نے یحییٰ بن سعید سے نقل کی ہے اور یہ صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،إن شاء الله من أجل حُصَين بن مِحْصَن، وقد ذكره بعضُهم في الصحابة، وبعضهم ذكره في التابعين كما نبَّه عليه الحافظُ في "الإصابة" 2/ 89، وكونه تابعيًا هو الأظهر، لأنه ليست له رواية عن النبي ﷺ كما قال ابن السكن وما وقع في بعض طرق هذا الحديث عن يحيى ...» [ترقيم الرساله 2804] [ترقيم الشركة 2785] [ترقيم العلميه 2769]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2805
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب وأبو عبد الله علي بن عبد الله الحَكِيمي، قالا: حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا بِشر بن عمر الزَّهْراني، حدثنا شعيب بن رُزَيق الطائفي، حدثنا عطاء الخُراساني، عن مالك بن يُخَامر السَّكْسَكي، عن معاذ بن جبل، عن رسول الله ﷺ، قال:"لا يَحِلُّ لامرأةٍ تُؤمن بالله واليوم الآخر أن تأذَنَ في بيت زوجها وهو كارِهٌ، ولا تَخرُجَ وهو كارِهٌ، ولا تُطيعَ فيه أحدًا، ولا تُخَشِّنَ بصَدْرِه، ولا تعتزلَ فِراشَه، ولا تُصَرِّبَهُ (1) ، فإن كان هو أظلمَ، فلتأتِه حتى تُرضيَه، فإن كان هو قَبِلَ منها، فبِها ونِعْمَتْ، وقَبِلَ اللهُ عُذْرَها وأفْلَجَ حُجَّتَها، ولا إثمَ عليها، وإن هو أَبَى يَرضى عنها، فقد أبلغَتْ عند الله عُذْرَها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2770 - بل منكر وإسناده منقطع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2770 - بل منكر وإسناده منقطع
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں اس کی ناپسندیدگی کے باوجود کسی کو آنے کی اجازت دے، نہ اس کی مرضی کے بغیر گھر سے نکلے، نہ گھر کے معاملات میں (شوہر کے مقابلے میں) کسی کی اطاعت کرے، نہ اس کے سامنے سختی اور بدکلامی کرے، نہ اس کے بستر سے علیحدگی اختیار کرے اور نہ ہی اسے مارے (تکلیف پہنچائے)، پس اگر شوہر ہی زیادہ زیادتی کرنے والا ہو تو وہ (بیوی) اس کے پاس جائے یہاں تک کہ اسے راضی کر لے، پس اگر وہ اس سے (صلح) قبول کر لے تو یہ بہت اچھا ہے اور اللہ اس کا عذر قبول فرمائے گا اور اس کی دلیل کو واضح کر دے گا اور اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا، لیکن اگر شوہر راضی ہونے سے انکار کر دے تو اس عورت نے اللہ کے ہاں اپنا عذر پہنچا دیا (یعنی وہ بری الذمہ ہو گئی)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2805]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2805]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل عطاء بن أبي مسلم الخراساني وشعيب بن رُزيق: وهو أبو شيبة الشامي، لا الطائفي كما وقع في رواية المصنف، فإنه وهمٌ، فالشامي هو المعروف بالرواية عن عطاء الخراساني. وقول الذهبي في "تلخيصه" بأنه منقطع، لا ندري ما وجهه، فإن كان أراد نفي سماع مالك من معاذ فغَير ...» [ترقيم الرساله 2805] [ترقيم الشركة 2786] [ترقيم العلميه 2770]
الحكم على الحديث: إسناده حسن