🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. حق الزوج على زوجته
بیوی پر شوہر کا حق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2803
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المُغيرة السُّكّري بهَمَذان، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا سليمان بن داود اليَمَامي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، قال: جاءت امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ، فقالت: يا رسول الله، أنا فلانةُ بنت فلانٍ، قال:"قد عرفتُكِ، فما حاجتُك؟" قالت: حاجتي إلى ابن عمِّي فلانٍ العابِد، قال رسول الله ﷺ:"قد عرفتُه" قالت: يَخطُبني، فأخبِرْني ما حقُّ الزوج على الزوجةِ، فإن كان شيئًا أُطيقُه تزوّجتُه، وإن لم أُطِقْ لا أتزوّج، قال:"مِن حقِّ الزوج على الزوجةِ أن لو سالَ مَنْخِراهُ دمًا وقَيْحًا وصَديدًا فلَحِسَتْه بلسانها، ما أدَّت حقَّه، لو كانَ ينبغي لبشرٍ أن يَسجُدَ لبشرٍ، لأمرتُ المرأةَ أن تَسجُدَ لزوجِها إذا دخل عليها، لِمَا فضَّله اللهُ عليها"، قالت: والذي بعثك بالحقّ لا أتزوّجُ ما بقِيتُ في الدنيا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2768 - بل منكر وسليمان واه والقاسم صدوق تكلم فيه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں کی بیٹی فلاں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں پہچان لیا، تمہاری حاجت کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: میری ضرورت میرے چچا زاد بھائی فلاں عابد کے متعلق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اسے (بھی) جانتا ہوں، اس نے عرض کیا: وہ مجھے نکاح کا پیغام دے رہا ہے، تو آپ مجھے بتائیں کہ شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا حق ہوا جسے میں نبھا سکی تو میں اس سے نکاح کر لوں گی، ورنہ میں نکاح نہیں کروں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کا بیوی پر حق یہ ہے کہ اگر اس کے نتھنوں سے خون، پیپ اور زرد پانی بہہ رہا ہو اور وہ اسے اپنی زبان سے چاٹ لے تب بھی اس نے اس کا حق ادا نہیں کیا، اور اگر کسی انسان کے لیے یہ جائز ہوتا کہ وہ کسی انسان کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ جب اس کا شوہر اس کے پاس آئے تو وہ اسے سجدہ کرے، اس فضیلت کی بنا پر جو اللہ نے اسے (شوہر کو) اس (بیوی) پر دی ہے، اس نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں جب تک دنیا میں رہوں گی کبھی نکاح نہیں کروں گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود اليمامي، فهو واهٍ كما قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 3/ 35، والذهبي في "تلخيص المستدرك"، وقد خالفَه محمد بن عمرو بن علقمة، فرواه عن أبي سلمة عن أبي هريرة مقتصِرًا على ذكر السجود، فهذا هو المحفوظ في حديث أبي هريرة.» [ترقيم الرساله 2803] [ترقيم الشركة 2784] [ترقيم العلميه 2768]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود اليمامي
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2803 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود اليمامي، فهو واهٍ كما قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 3/ 35، والذهبي في "تلخيص المستدرك"، وقد خالفَه محمد بن عمرو بن علقمة، فرواه عن أبي سلمة عن أبي هريرة مقتصِرًا على ذكر السجود، فهذا هو المحفوظ في حديث أبي هريرة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند سلیمان بن داود الیمامی کی وجہ سے "انتہائی ضعیف" ہے۔ وہ ایک کمزور (واہی) راوی ہیں جیسا کہ المنذری نے "الترغیب والترہیب" (3/ 35) میں اور ذہبی نے "تلخیص المستدرک" میں فرمایا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: نیز محمد بن عمرو بن علقمہ نے ان کی مخالفت کی ہے، چنانچہ انہوں نے اسے ابو سلمہ سے اور انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے صرف "سجدے" کے ذکر پر اکتفا کیا ہے؛ لہذا ابو ہریرہ کی حدیث میں یہی بات "محفوظ" ہے۔
وأخرجه الترمذي (1159) من طريق النضر بن شُميل، وابن حبان (4162) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، كلاهما عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، بقصة السجود. وقال الترمذي: حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (1159) نے نضر بن شمیل کے طریق سے، اور ابن حبان (4162) نے ابو اسامہ حماد بن اسامہ کے طریق سے تخریج کیا ہے؛ یہ دونوں اسے محمد بن عمرو بن علقمہ سے، وہ ابو سلمہ سے، اور وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے "سجدے کے قصے" کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن غریب" ہے۔
وسيتكرر حديث سليمان بن داود برقم (7512).
📝 نوٹ / توضیح: سلیمان بن داود کی حدیث دوبارہ نمبر (7512) پر آئے گی۔
ويغني عنه ما قبله مع ما تقدم برقم (2798).
📝 نوٹ / توضیح: اور اس سے پچھلی روایت اور جو روایت نمبر (2798) پر گزر چکی ہے، وہ اس سے کفایت کرتی ہیں (یعنی اس ضعیف روایت کی ضرورت نہیں رہتی)۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2803 in Urdu