سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب الْمُحْرِمِ يَحْتَجِمُ
باب: محرم پچھنا لگوائے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1835
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ حالت احرام میں تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1835]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں سینگی لگوائی تھی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 11 (1835)، الصوم 32 (1938)، الطب 12 (5695)، 15(5700)، صحیح مسلم/الحج 11 (1202)، سنن الترمذی/الحج 22 (839)، الصوم 61 (775)، سنن النسائی/الحج 92 (2849)، (تحفة الأشراف: 5737)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 87 (3081)، مسند احمد (1/215، 221، 222، 236، 248، 249، 260، 283، 286، 292، 306، 315، 333، 346، 351، 372، 374)، سنن الدارمی/المناسک 20(1860) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1835) صحيح مسلم (1202)
حدیث نمبر: 1836
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ مِنْ دَاءٍ كَانَ بِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیماری کی وجہ سے جو آپ کو تھی اپنے سر میں پچھنا لگوایا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1836]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں اپنے سر میں ایک بیماری کی بنا پر سینگی لگوائی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 15 (5700)، سنن النسائی/ الکبری/ الطب (7599)، (تحفة الأشراف: 6226)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/236، 249، 259، 272) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5700)
مشكوة المصابيح (4543)
مشكوة المصابيح (4543)
حدیث نمبر: 1837
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ، قَالَ: ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ أَرْسَلَهُ، يَعْنِي عَنْ قَتَادَةَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا، آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا کہ ابن ابی عروبہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے یعنی قتادہ سے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1837]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت احرام اپنے پاؤں کی پشت پر، ایک تکلیف کی وجہ سے سینگی لگوائی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ابن ابی عروبہ نے اس روایت کو قتادہ سے مرسل بیان کیا۔ (یعنی جناب انس کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔)“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الشمائل 49 (348)، سنن النسائی/الحج 94 (2852)، (تحفة الأشراف: 1335)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/164، 267) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر پچھنے (سینگی) لگانے میں بال اتروانا پڑے تو فدیہ لازم ہوگا، اسی لئے بعض علماء نے سرے سے محرم کے لئے پچھنا لگوانے کو مکروہ جانا ہے، ورنہ حقیقت میں حالت احرام میں پچھنا لگوانا مکروہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2852)
قتادة مدلس وعنعن
وللحديث شاھد ضعيف يأتي(3863)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
إسناده ضعيف
نسائي (2852)
قتادة مدلس وعنعن
وللحديث شاھد ضعيف يأتي(3863)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72