🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. النِّسَاءُ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ
عورتیں دوزخ میں زیادہ ہوں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2807
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان، عن منصور والأَعمش، عن ذَرٍّ. وأخبرنا عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل - واللفظُ له - حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير، عن منصور، عن ذَرٍّ، عن وائل بن مَهَانة السَّعدي، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ:"يا معشرَ النساء، تَصدَّقْنَ ولو من حُلِيِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثرُ أهلِ جهنَّم"، فقالت امرأةٌ ليست من عِلْية النساء: وبِمَ يا رسول الله نحن أكثرُ أهل جهنّم؟ قال:"إنكن تُكثِرنَ اللَّعْن، وتَكفُرنَ العَشِيرَ. وما وُجِدَ من ناقصِ الدِّين والرأي أغْلبَ للرجال ذوي الأمر على أُمورهم، مِن النساء" قالوا: وما نَقْصُ دينِهنّ ورأيِهنّ؟ قال:"أمَّا نَقْصُ رأيهِن، فجُعلَت شهادةُ امرأتَين بشهادة رجلٍ، وأما نَقْصُ دينِهِنّ، فإنَّ إحداهن تقعُد ما شاء اللهُ من يومٍ وليلةٍ لا تَسجُدُ لله سجدةً" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2772 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات ہی میں سے کیوں نہ ہو، کیونکہ تم جہنم والوں میں اکثریت میں ہو، تو ایک خاتون نے جو بڑے طبقے سے نہیں تھی عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جہنم والوں میں اکثریت میں کیوں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ اور میں نے دین اور عقل میں ناقص ہونے کے باوجود (تم سے زیادہ) کسی کو بااثر مردوں کی عقلوں پر غالب آنے والا نہیں دیکھا، لوگوں نے پوچھا: ان کے دین اور عقل کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک عقل کے نقصان کا تعلق ہے تو دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دی گئی ہے، اور دین کا نقصان یہ ہے کہ تم میں سے کوئی عورت کئی دن اور راتیں ایسی گزارتی ہے کہ اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہیں کرتی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن شاء الله، وائل بن مهانة تابعي كبير، ذكره ابن سعد ومسلم في الطبقة الأولى من أهل الكوفة، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وصحَّح حديثه هذا، لكن قوله في الحديث: وما وُجد من ناقص … إلى آخره، إنما هو من قول ابن مسعود، كما جاء ...» [ترقيم الرساله 2807] [ترقيم الشركة 2788] [ترقيم العلميه 2772]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2808
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلّام، عن جدِّه، قال: كتب معاويةُ إلى عبد الرحمن بن شِبْل: أَنْ عَلِّمِ الناسَ ما سمعتَ من رسول الله ﷺ، فقال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ الفُسّاق هم أهلُ النار" قالوا: يا رسول الله، ومَن الفُسّاق؟ قال:"النساءُ" قالوا: يا رسول الله، ألسنَ أمهاتِنا وبناتِنا وأخواتِنا؟ قال:"بلى، ولكنهنَّ إذا أُعطِينَ لم يَشكُرنَ، وإذا ابتُلِينَ لم يَصبِرنَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2773 - على شرط مسلم
سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یقیناً فساق ہی جہنم والے ہیں، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فساق کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتیں، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بیٹیاں اور بہنیں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں (وہ ہیں تو سہی)، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ جب انہیں دیا جائے تو وہ شکر نہیں کرتیں اور جب انہیں کسی آزمائش میں ڈالا جائے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن وهم فيه معمر - وهو ابن راشد - بإسقاط أبي راشد الحُبراني بين جدِّ زيد بن سلّام؛ وهو أبو سلّام ممطور الحبشي، وبين عبد الرحمن بن شِبْل، وقد روي هذا الحديث بهذا الإسناد مجموعًا إلى حديثين آخرين تقدم أحدهما برقم (2174) و (2175)، ...» [ترقيم الرساله 2808] [ترقيم الشركة 2789] [ترقيم العلميه 2773]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2809
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن إياس بن عبد الله ابن أبي ذُباب، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تضرِبُوا إماءَ الله" فجاء عمرُ إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسول الله، قد ذَئِرنَ النساءُ على أزواجهنّ، فأَذِنَ رسولُ الله ﷺ أن يَضربوهنّ، قال: فأطافَ بآل محمد ﷺ سبعون امرأةً، كلُّهن يشتَكين أزواجَهنَّ، فقال رسول الله ﷺ:"ليس (1) أولئك خِيارَكم" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أم كُلثوم بنت أبي بكر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2774 - صحيح
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو مت مارو، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: عورتیں اپنے شوہروں پر شیر ہو گئی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (تادیباً) مارنے کی اجازت دے دی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے گرد ستر عورتیں جمع ہو گئیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کر رہی تھیں، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ (جو عورتوں کو مارتے ہیں) تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد روایت ام کلثوم بنت ابی بکر کی سند سے بھی صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد تقدم برقم (2800).» [ترقيم الرساله 2809] [ترقيم الشركة 2790] [ترقيم العلميه 2774]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2810
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلمي، حدثنا سعيد بن كَثير بن عُفَير وسعيد بن أبي مريم، قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن حُميد بن نافع، عن أم كُلثوم بنت أبي بكر، قالت: كان الرجالُ نُهوا عن ضَرْب النساءِ، ثم شَكَوهُنَّ إِلى رسول الله ﷺ، فخلَّى بينهم وبين ضربِهنَّ (3) ، ثم قال:"لقد أطافَ الليلةَ بآل محمد ﷺ سبعونَ امرأةً كلُّهن قد ضُربتْ". قال يحيى: وحسبتُ أنَّ القاسم قال: ثم قيل لهم بعدُ:"ولن يَضربَ خِيارُكم" (1) .
ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مردوں کو عورتوں کو مارنے سے منع کیا گیا تھا، پھر مردوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کی رخصت دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے گرد ستر عورتیں اکٹھی ہوئی ہیں جن سب کو مارا گیا ہے، یحییٰ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ قاسم نے یہ بھی کہا کہ اس کے بعد ان سے کہہ دیا گیا: تم میں سے بہتر لوگ کبھی نہیں ماریں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2810]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وهو مرسل، لأنَّ أم كلثوم بنت أبي بكر» [ترقيم الرساله 2810] [ترقيم الشركة 2791]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں