🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. ضَرْبُ عُنُقِ مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ
جو شخص اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرے اس کی گردن مارنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2811
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا يحيى بن فَصِيل، حدثنا الحسن بن صالح، عن السُّدِّي، عن عَدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال: لَقِيتُ خالي ومعه الرايةُ، قلت: أين تريدُ؟ قال: بَعَثَني النبيُّ ﷺ إلى رجلٍ تَزوّج امرأةَ أبيه من بعدِه، فأمرني أن أضربَ عُنقَه (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شواهد عن عَدِيّ بن ثابت، وعن البراء مِن غير حديث عَدِيِّ بن ثابت:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری ملاقات اپنے ماموں (سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ) سے ہوئی جبکہ ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: آپ کا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی (اپنی سوتیلی ماں) سے نکاح کر لیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کے عدی بن ثابت اور براء سے دیگر شواہد بھی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2811]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد لا بأس برجاله غير يحيى بن فَصيل - وهو الغَنوي الكوفي - فحسن في المتابعات والشواهد، وقد توبع. وقد اختُلف على عدي بن ثابت فيه اختلافًا لا يضرُّ كما أشار ابن القيم في "حاشيته على سنن أبي داود" 6/ 266، وسنذكر هذه الخلافات، ...» [ترقيم الرساله 2811] [ترقيم الشركة 2792]

الحكم على الحديث: حديث صحيح إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2812
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الرَّبيع بن الرُّكَين بن الرَّبيع بن عُمَيلة، قال: سمعتُ عديّ بن ثابت يحدِّث عن البراء بن عازب، قال: مَرَّ بنا ناسٌ يَنطلِقون، فقلنا لهم: أين تَذهبُون؟ قالوا: بعثَنا رسولُ الله ﷺ إلى رجلٍ يأتي امرأةَ أبيه أن نَقتُلَه (1) . وأما حديث أبي الجَهْم عن البراء:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس سے کچھ لوگ گزرے جو (کسی مہم پر) جا رہے تھے، ہم نے ان سے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے تاکہ ہم اسے قتل کر دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2812]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد رجاله ثقات غير الرَّبيع بن الرُّكين، فقد روى عنه- شعبة ومروان بن معاوية الفَزاري، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع في الطريق التي قبل هذه، وانظر تمام الكلام عليه هناك.» [ترقيم الرساله 2812] [ترقيم الشركة 2793]

الحكم على الحديث: حديث صحيح إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2813
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا أسباط بن محمد، عن مُطَرِّف، عن أبي الجَهْم، عن البراء بن عازب، قال: إني لأطوفُ على إبلٍ لي ضَلّت في عهد رسول الله ﷺ، فبَيْنا أنا أجُول في أبيات، فإذا أنا برَكْبٍ وفوارسَ جاؤوا فأطافُوا فاستخرجُوا رجلًا، فما سألوه ولا كَلَّموه حتى ضربوا عنقَه، فلما ذهبُوا سألتُ عنه، قالوا: عَرَّس بامرأةِ أبيه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2778 - إسناده مليح
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے ان اونٹوں کو تلاش کر رہا تھا جو گم ہو گئے تھے، اسی دوران میں کچھ گھروں کے پاس گھوم رہا تھا کہ اچانک میں نے سواروں اور شہسواروں کو دیکھا جو آئے اور انہوں نے (ایک گھر کا) گھیراؤ کر لیا اور ایک شخص کو باہر نکالا، انہوں نے اس سے کوئی سوال کیا نہ بات چیت کی یہاں تک کہ اس کی گردن اڑا دی، جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا: اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2813]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد حسن من أجل أبي الجهم: وهو سليمان بن الجَهْم بن أبي الجَهْم، وقال الذهبي في إسناده في "التلخيص": مليح. مُطرِّف: هو ابن طريف الحارثي.» [ترقيم الرساله 2813] [ترقيم الشركة 2794] [ترقيم العلميه 2778]

الحكم على الحديث: حديث صحيح إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں