المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. قِصَّةُ إِسْلَامِ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ الثَّقَفِيِّ وَتَخْيِيرِهِ لِأَرْبَعَةٍ مِنَ النِّسَاءِ
غیلان بن سلمہ ثقفی کے اسلام لانے اور چار عورتوں کے انتخاب کا واقعہ
حدیث نمبر: 2814
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون. وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة. وأخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن معمر، عن الزُّهْري، عن سالم، عن أبيه، قال: أسلم غَيلانُ بن سَلَمة الثَّقَفي وعنده عشرُ نِسوةٍ، فأمره النبيُّ ﷺ أن يأخذَ منهن أربعًا (1) . هكذا رواه المتقدّمون من أصحاب سعيد: يزيد بن زُريع وإسماعيلُ ابن عُلَيَّة وغُنْدَر والأئمة الحفاظ من أهل البصرة، وقد حكم الإمام مسلم بن الحجّاج أنَّ هذا الحديث ممّا وَهِمَ فيه معمرٌ بالبصرة، فإن رواه عنه ثقةٌ خارجَ البصريين حكمْنا له بالصحة، فوجدتُ سفيان الثَّوْري وعبدَ الرحمن بن محمد المُحارِبي وعيسى بن يونس، وثلاثتُهم كوفيون، حدَّثوا به عن معمر. أما حديث الثَّوْري:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دس بیویاں تھیں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے صرف چار کو اپنے پاس رکھیں۔
اس روایت کو سعید کے قدیم تلامذہ مثلاً یزید بن زریع، اسماعیل بن علیہ، غندر اور بصرہ کے دیگر حفاظِ حدیث نے اسی طرح روایت کیا ہے، تاہم امام مسلم بن حجاج نے حکم لگایا ہے کہ اس حدیث میں معمر کو بصرہ میں وہم ہوا ہے، لیکن اگر اسے معمر سے بصریوں کے علاوہ کسی ثقہ راوی نے روایت کیا ہو تو ہم اس کی صحت کا حکم لگائیں گے، چنانچہ مجھے سفیان ثوری، عبدالرحمن بن محمد محاربی اور عیسیٰ بن یونس (جو کہ کوفی ہیں) کی روایات ملیں جنہوں نے اسے معمر سے بیان کیا ہے۔ جہاں تک ثوری کی حدیث کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2814]
اس روایت کو سعید کے قدیم تلامذہ مثلاً یزید بن زریع، اسماعیل بن علیہ، غندر اور بصرہ کے دیگر حفاظِ حدیث نے اسی طرح روایت کیا ہے، تاہم امام مسلم بن حجاج نے حکم لگایا ہے کہ اس حدیث میں معمر کو بصرہ میں وہم ہوا ہے، لیکن اگر اسے معمر سے بصریوں کے علاوہ کسی ثقہ راوی نے روایت کیا ہو تو ہم اس کی صحت کا حکم لگائیں گے، چنانچہ مجھے سفیان ثوری، عبدالرحمن بن محمد محاربی اور عیسیٰ بن یونس (جو کہ کوفی ہیں) کی روایات ملیں جنہوں نے اسے معمر سے بیان کیا ہے۔ جہاں تک ثوری کی حدیث کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2814]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواهده وبعمل الأئمة به كما قال الترمذي، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه قد أُعِلَّ بالوصل والإرسال كما نبه عليه المصنف بإثره، لأنه تفرَّد بوصله معمر بن راشد، وخالفه أصحاب الزُّهْري، رووه عنه فأرسلوه، فلم يذكروا فيه سالمًا - وهو ابن عبد الله بن عمر بن الخطاب - ...» [ترقيم الرساله 2814] [ترقيم الشركة 2795]
الحكم على الحديث: حديث صحيح بطرقه وشواهده وبعمل الأئمة به كما قال الترمذي
حدیث نمبر: 2815
فحدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل ويحيى بن منصور القاضي، قالا: حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو عُبيد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن معمر، عن الزُّهْري، عن سالم، عن أبيه: أنَّ غَيلان بن سَلَمة أسلم وعنده عشرُ نِسوةٍ، فأمره رسولُ الله ﷺ أن يَختارَ منهن أربعًا (1) . وأما حديث المُحارِبي:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا جبکہ ان کے پاس دس بیویاں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے (صرف) چار کا انتخاب کر لیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2815]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات كسابقه، أبو عُبيد: هو القاسم بن سلّام، ويحيى بن سعيد. هو القطّان.» [ترقيم الرساله 2815] [ترقيم الشركة 2796]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2816
فحدَّثَناه إسماعيل بن أحمد التاجر، أخبرنا علي بن أحمد بن الحسين العِجْلي، حدثنا محمد بن طَريف، حدثنا المُحارِبي، عن معمر، عن الزُّهْري، عن سالم بن عبد الله، عن أبيه: أنَّ غَيلان بن سَلَمة أسلَم وعنده عشرُ نِسوةٍ في الجاهلية، وأسلَمْن معه، فقال رسول الله ﷺ:"اختَرْ منهن أربعًا" (2) . وأما حديث عيسى:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے جاہلیت کے دور میں نکاح کی ہوئی دس بیویوں کی موجودگی میں اسلام قبول کیا اور وہ بیویاں بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2816]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات.» [ترقيم الرساله 2816] [ترقيم الشركة 2796/1]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2817
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا إبراهيم بن موسى، أخبرنا عيسى بن يونس، عن معمر، عن الزُّهْري، عن سالم بن عبد الله، عن أبيه، قال: أسلَم غَيلانَ بن سَلَمة الثَّقَفي وله عشرُ نِسوةٍ، فأمرَه رسولُ الله ﷺ أن يَتَخيّر منهن أربعًا، ويَتركَ سائرَهن (1) . وهكذا وجدتُ الحديثَ عند أهل اليَمَامة عن معمر:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ان کی دس بیویاں تھیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے چار کو منتخب کر لیں اور باقیوں کو چھوڑ دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2817]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات. عيسى بن يونس: هو ابن أبي إسحاق السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 2817] [ترقيم الشركة 2797]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2818
حدثني [أبو] (2) الحسين بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن محمد بن سليمان، أنَّ أحمد بن محمد بن عمر بن يونس حدثهم، حدثني أَبي، حدثنا عمر بن يونس، حدثنا يحيى بن أبي كثير، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري، عن سالم، عن أبيه، قال: أسلم غَيلانُ بن سَلَمة الثَّقَفي وله ثمانِ نسوةٍ، فأمره رسولُ الله ﷺ أن يَتخيّر منهن أربعًا (3) . وهكذا وجدتُ الحديث عن الأئمة الخُراسانيين عن معمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2782 - أحمد بن محمد كذاب
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2782 - أحمد بن محمد كذاب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا جبکہ ان کی آٹھ بیویاں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کر لیں۔
اہل یمامہ نے معمر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2818]
اہل یمامہ نے معمر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2818]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ بمرّة من أجل أحمد بن محمد بن عمر بن يونس، فقد كذّبه ابن صاعد كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وزاد في "الميزان" أنَّ أبا حاتم كذّبه أيضًا، وقال عنه الدارقطني: متروك، ومرة قال: ضعيف، وقال ابن عدي: حدث عن الثقات بمناكير. قلنا: وهذا الإسناد من مناكيره، فلم يروه ...» [ترقيم الرساله 2818] [ترقيم الشركة 2798] [ترقيم العلميه 2782]
الحكم على الحديث: إسناده واهٍ بمرّة من أجل أحمد بن محمد بن عمر بن يونس
حدیث نمبر: 2819
حدثني أبو العباس أحمد بن سعيد المروَزي ببُخاري، حدثنا عبد الله بن محمود السَّعْدي، حدثنا محمد بن موسى الخلّال، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا معمر، عن الزُّهْري، عن سالم بن عبد الله، عن أبيه: أنَّ غَيلان بن سَلَمة الثَّقَفي أَسلَم وعنده عشرُ نِسوةٍ، فأمره رسولُ الله ﷺ أن يُمسِكَ أربعًا، ويُفارقَ سائرَهنّ (1) . والذي يؤدِّي إليه اجتهادي أنَّ معمر بن راشد حدَّث به على الوجهَين، أرسله مرةً ووصلَه مرةً، والدليل عليه أنَّ الذين وصلُوه عنه من أهل البصرة فقد أرسلوه أيضًا، والوصلُ أولَى من الإرسال، فإنَّ الزيادة من الثقة مقبولة، والله أعلم.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ان کے پاس دس بیویاں تھیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ چار کو اپنے نکاح میں روک لیں اور باقیوں کو جدا کر دیں۔
میری علمی تحقیق کا نتیجہ یہ ہے کہ معمر بن راشد نے اسے دو طرح سے بیان کیا ہے، کبھی اسے مرسل روایت کیا اور کبھی متصل، اس کی دلیل یہ ہے کہ جن اہل بصرہ نے اسے متصل بیان کیا انہوں نے اسے مرسل بھی روایت کیا ہے، اور وصل (اتصال) ارسال پر مقدم ہے کیونکہ ثقہ راوی کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2819]
میری علمی تحقیق کا نتیجہ یہ ہے کہ معمر بن راشد نے اسے دو طرح سے بیان کیا ہے، کبھی اسے مرسل روایت کیا اور کبھی متصل، اس کی دلیل یہ ہے کہ جن اہل بصرہ نے اسے متصل بیان کیا انہوں نے اسے مرسل بھی روایت کیا ہے، اور وصل (اتصال) ارسال پر مقدم ہے کیونکہ ثقہ راوی کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2819]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات. أبو العباس أحمد بن سعيد: هو ابن معدان صاحب "تاريخ المراوزة"، ومحمد بن موسى الخلال يُعرف بالدولابي.» [ترقيم الرساله 2819] [ترقيم الشركة 2799]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2820
حدثنا أبو أحمد الحسين بن علي التميمي، حدثنا الإمام أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا بشر بن معاذ العَقَدي، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا حَبيبٌ المعلِّم، قال: جاء رجلٌ من أهل الكوفة إلى عمرو بن شعيب، فقال: ألا تَعجَبُ، إنَّ الحسن يقول: إنَّ الزانيَ المجلُودَ لا يَنكِحُ إِلّا مَجلُودةً مثلَه؟ فقال عمرو: وما يُعجِبُك، حدَّثَناه سعيدٌ المقبُري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، وكان عبدُ الله بن عمرو ينادي بها نداءً (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2784 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2784 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوفہ کا ایک شخص عمرو بن شعیب کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا آپ کو تعجب نہیں کہ حسن بصری کہتے ہیں کہ جس زانی کو (حد کے) کوڑے مارے گئے ہوں وہ اپنے جیسی ہی کسی (کوڑے کھائی ہوئی) عورت سے نکاح کرے گا؟ تو عمرو نے کہا: اس میں تعجب کی کیا بات ہے، ہمیں سعید مقبری نے سیدنا ابوہریرہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ہے، اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما (مسجد میں) بلند آواز سے پکار کر یہی اعلان کیا کرتے تھے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2820]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2820]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل بشر بن معاذ، وقد توبع في الطريق المتقدمة» [ترقيم الرساله 2820] [ترقيم الشركة 2800] [ترقيم العلميه 2784]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2821
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المُعتمِر، عن أبيه، قال: حدثنا الحَضرميُّ بن لاحِق، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رجلًا من المسلمين استأذن نبيَّ الله ﷺ في امرأةٍ يُقال لها: أم مَهزُول، كانت تُسافِح وتشترط أن تُنفِقَ (1) عليه، وأنه استأذنَ فيها نبيَّ الله ﷺ، وذكَرَ له أمرَها، فقرأ نبيُّ الله ﷺ: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾، ونزلت ﴿وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ﴾ [النور: 3] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2785 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2785 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ”ام مہزول“ نامی ایک عورت سے نکاح کی اجازت چاہی، جو بدکاری کرتی تھی اور اس نے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ اس شخص پر (اپنے مال سے) خرچ کرے گی، اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں اجازت مانگی اور ان کا سارا معاملہ ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ اور یہ نازل ہوئی ﴿وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ﴾ [سورة النور: 3] ”بدکار مرد نکاح نہیں کرتا مگر بدکار عورت یا مشرکہ سے، اور بدکار عورت سے نکاح نہیں کرتا مگر بدکار مرد یا مشرک (اور ایمان والوں پر یہ حرام کر دیا گیا ہے)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2821]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2821]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله من أجل الحضرمي، وهو ليس بابن لاحق، كما جاء مقيَّدًا في رواية مُسدَّد خطأً، وإنما هو رجلٌ آخر جهَّله ابنُ المَديني، وقال عنه ابن مَعين وابن عَدي: ليس به بأس. المعتمر: هو ابن سليمان بن طَرْخان التيمي، وأبو المثنَّى: هو معاذ بن المثنَّى العنبري.» [ترقيم الرساله 2821] [ترقيم الشركة 2801] [ترقيم العلميه 2785]
الحكم على الحديث: إسناده حسن إن شاء الله من أجل الحضرمي
حدیث نمبر: 2822
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا خَلّاد بن يحيى وعبد الصمد بن حسان، قالا: حدثنا سفيان بن سعيد، عن حبيب بن أبي عَمْرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ قال: أمَا إنه ليس بالنكاح، ولكنه الجِماعُ؛ لا يزني بها إلّا زانٍ أو مشركٌ (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2786 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2786 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے بارے میں فرمایا: ”آگاہ رہو کہ اس سے مراد شرعی نکاح نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد جماع (بدکاری) ہے؛ یعنی اس (بدکار عورت) کے ساتھ صرف بدکار یا مشرک ہی بدکاری کرتا ہے۔“
اس کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2822]
اس کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2822]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، سفيان بن سعيد: هو الثَّوري.» [ترقيم الرساله 2822] [ترقيم الشركة 2802] [ترقيم العلميه 2786]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح. سفيان بن سعيد: هو الثَّوري.