🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. لَعَنَ اللَّهُ الْمُحِلَّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2840
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو زكريا يحيى بن عثمان بن صالح بن صفوان السَّهْمي بمصر، حدثنا أبي، قال: سمعتُ الليث بن سعد، في المسجد الجامع يقول: قال أبو مصعب مِشرَحُ بن هاعانَ: قال عُقْبة بن عامر الجُهَني: قال رسول الله ﷺ:"ألا أُخبركم بالتَّيس المُستعارِ؟"، قالوا: بلى يا رسول الله، قال:"هو المُحِلُّ، فلعنَ اللهُ المُحِلَّ والمُحَلَّلَ له" (2) . وقد ذكر أبو صالح كاتب الليث عن الليث سماعَه من مِشرَحِ بن هاعان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2804 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ادھار والے بکرے کے بارے میں بتاؤں؟ صحابہ کرام نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلالہ کرنے والا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے (اس پر) لعنت کی ہے پھر رسول اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے حلالہ کرنے والے پر اور اس پر جس کے لیے حلالہ کیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ لیث کے کاتب ابوصالح نے لیث کے حوالے سے ان کا سماع مشرح بن ھاعان سے ذکر کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2840]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2841
أخبرَنيهِ أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا أبو صالح، حدثنا الليث بن سعد، قال: سمعت مِشرَحَ بن هاعان يحدِّث عن عُقبة بن عامر، قال: قال رسول الله ﷺ:"ألا أُخبركم بالتَّيس المُستعار؟ هو المُحِلُّ"، ثم قال رسول الله ﷺ:"لَعَنَ الله المُحِلَّ والمُحلَّلَ له (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ادھار والے بکرے کی خبر دوں؟ صحابہ کرام نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: وہ حلالہ کرنے والا ہے۔ پھر رسول اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر لعنت فرمائی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2841]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2842
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا أبو غسان محمد بن مُطرِّف المدني، عن عمر بن نافع، عن أبيه، أنه قال: جاء رجل إلى ابن عمر، فسأله عن رجل طلَّق امرأتَه ثلاثًا، فتزوجها أخٌ له عن غير مُؤامَرة منه، لِيُحلَّها لأخيه: هل تَحِلُّ للأول؟ قال: لا، إلّا نِكاحَ رَغبةٍ، كنا نَعُدُّ هذا سِفاحًا على عهد رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2806 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا نافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ایک شخص (سیدنا عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ایک ایسے آدمی کے متعلق مسئلہ پوچھا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں اور اس کے بھائی نے اس سے مشورہ کیے بغیر اس خاتون سے نکاح کر لیا تاکہ وہ اس عورت کو اپنے بھائی کے لیے حلال کر دے۔ کیا وہ (بھائی) اس خاتون کو پہلے شوہر کے لیے حلال کر دے گا؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ نکاح تو دلچسپی کے ساتھ ہوتا ہے ہم اس عمل کو رسول اللہ کے زمانے میں زناکاری سمجھتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2842]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں