🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. لعن الله المحل ، والمحلل له
اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2841
أخبرَنيهِ أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا أبو صالح، حدثنا الليث بن سعد، قال: سمعت مِشرَحَ بن هاعان يحدِّث عن عُقبة بن عامر، قال: قال رسول الله ﷺ:"ألا أُخبركم بالتَّيس المُستعار؟ هو المُحِلُّ"، ثم قال رسول الله ﷺ:"لَعَنَ الله المُحِلَّ والمُحلَّلَ له (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ادھار والے بکرے کی خبر دوں؟ صحابہ کرام نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: وہ حلالہ کرنے والا ہے۔ پھر رسول اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر لعنت فرمائی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2841]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2841 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) لفظة "له" سقطت من (ز) و (ص) و (ع)، وأثبتناها من (ب)، وهي ثابتة في رواية عثمان بن صالح عن الليث في الطريق التي قبل هذه، وإن كان اللعن يطال أيضًا المرأةَ إذا شرطت ذلك.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "لہ" نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) سے گر گیا تھا، ہم نے اسے نسخہ (ب) سے ثابت کیا ہے۔ اور یہ اس سے پچھلے طریق میں عثمان بن صالح کی لیث سے روایت میں بھی ثابت ہے۔ اگرچہ لعنت عورت پر بھی پڑتی ہے اگر وہ اس کی شرط رکھے۔
(2) صحيح لغيره كسابقه. وما وقع من تصريح الليث هنا بسماعه من مِشْرح فيه نظر، لما قدّمنا بيانه في الطريق السابقة من نفي يحيى بن عبد الله بن بكير أن يكون الليث سمع من مشرح شيئًا وأنَّ الليث إنما حدثه بهذا الحديث عن سليمان بن عبد الرحمن مرسلًا، ويحيى هذا أوثق الناس في الليث، كما قال ابن عدي، إذ كان جارًا له، وممّا يؤيد الوهم في ذكر السماع هنا في رواية أبي صالح - وهو عبد الله بن صالح - مخالفة عثمان بن صالح المصري له في الطريق السابقة في روايته عن الليث إذ لم يصرح فيها بالسماع، بل أورد الرواية على صورة تقوي عدم سماعه منه، وقال البخاري فيما نقله عنه الترمذي في "العلل" (274): لم يكن أخرجه عبد الله بن صالح في أيامنا.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث پچھلی حدیث کی طرح "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں جو لیث کا مشرح سے سماع کی تصریح واقع ہوئی ہے اس میں "نظر" (اشکال) ہے، کیونکہ ہم پچھلے طریق میں بیان کر چکے ہیں کہ یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر نے اس بات کی نفی کی ہے کہ لیث نے مشرح سے کچھ سنا ہو، اور یہ کہ لیث نے انہیں یہ حدیث سلیمان بن عبد الرحمن سے "مرسلاً" بیان کی تھی۔ اور یہ یحییٰ لیث کے شاگردوں میں سب سے زیادہ "اوثق" (قابلِ اعتماد) ہیں جیسا کہ ابن عدی نے کہا، کیونکہ وہ ان کے پڑوسی تھے۔ ابو صالح (عبد اللہ بن صالح) کی روایت میں سماع کے ذکر کے وہم ہونے کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ پچھلے طریق میں عثمان بن صالح المصری نے ان کی مخالفت کی ہے اور لیث سے روایت میں سماع کی تصریح نہیں کی، بلکہ روایت کو ایسی صورت میں پیش کیا ہے جو ان کے عدمِ سماع کو تقویت دیتی ہے۔ اور بخاری نے فرمایا (ترمذی کی "العلل" 274 میں): "عبد اللہ بن صالح نے ہمارے زمانے میں اسے بیان (تخریج) نہیں کیا تھا۔"