🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

96. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ: (وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى)
آیت“اور وہ تم سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3278
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: لما أَنزل الله: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [الأنعام:152] ، و ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾ [النساء: 10] ، انطَلَقَ من كان عنده يتيمٌ فعَزَلَ طعامَه من طعامِه، وشرابَه من شرابِه، فجعل يَفضُلُ الشيءُ من طعامه فيُحبَسُ له حتى يأكلَه أو يَفسُدَ، فاشتَدَّ ذلك عليهم، فذكروا ذلك لرسول الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ [البقرة: 220] ، فخَلَطُوا طعامَهم بطعامِهم، وشرابَهم بشرابِهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ؤلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (الانعام: 152) اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقے سے ۔ اور اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا (النساء: 10) وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے بھڑکتے دمڑے (آتش کدے) میں جائیں گے ۔ (،) تو جس کی کفالت میں کوئی یتیم تھا وہ اپنے گھر گیا اور یتیم کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے الگ کر دیا پھر یوں ہوتا کہ ان کے کھانے پینے کی کوئی چیز بچ جاتی تو وہ اسی کے لیے سنبھال کر رکھ لیتے۔ پھر وہی اس کو استعمال کرتا یا پھر وہ (چیز پڑی پڑی) خراب ہو جاتی، یہ بات ان لوگوں کو ناگوار گزری، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کا تذکرہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَیْرٌ وَ اِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ (البقرہ: 220) (اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ۔ تب انہوں نے ان کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3278]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3279
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن أبي إدريس، عن عُبادة بن الصامت قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن يُبايعُني على هؤلاءِ الآياتِ"، ثم قرأ: ﴿قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ﴾ [الأنعام: 151] حتى خَتَمَ الآياتِ الثلاثَ"فمَن وَفَّى فأَجرُه على الله، ومَن انتَقَصَ شيئًا أدرَكَه اللهُ بها في الدنيا، كانت عقوبتَه، ومن أُخِّرَ إلى الآخرة، كان أمرُه إلى الله، إن شاء عذَّبه وإن شاء غَفَرَ له" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا جميعًا على حديث الزُّهري عن أبي إدريس عن عُبادة:"بايِعُوني على أن لا تُشرِكوا بالله شيئًا". وقد روى سفيانُ بن حسين الواسطي كِلا الحديثين عن الزُّهري (1) ، فلا ينبغي أن يُنسَبَ إلى الوهم في أحد الحديثين إذا جُمِعَ بينهما، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3240 - صحيح
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون شخص ان آیات پر میری بیعت کرے گا۔ پھر آپ نے: قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ (الانعام: 151) (تم فرماؤ! آؤ میں تمہیں پڑھ سناؤ جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا ۔ اور اس سے آگے مکمل تین آیات پڑھیں (پھر فرمایا) جو شخص (اپنے عہد کو) پورا کرے گا، اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور جو اس کو توڑے گا تو اگر دنیا میں اس کی کوئی پکڑ آ گئی تو یہ اس کی سزا ہو جائے گی اور جس کا معاملہ آخرت تک موخر کر دے گا تو پھر یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہو گا اگر چاہے تو اس کو عذاب دے اور چاہے تو اس کو معاف کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کی ہے (کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔ جبکہ سفیان بن حسین نے دونوں حدیثیں بھی زہری سے روایت کی ہیں، اس لیے جب انہوں نے دونوں حدیثوں کو ہی روایت کیا ہے تو یہ مناسب نہیں ہے کہ دونوں حدیثوں میں سے ایک کے متعلق ان کی طرف کوئی غلطی منسوب کی جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3279]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3280
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، حدثنا عاصم بن أبي النَّجُود. وأخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حمَّاد بن زيد، حدثنا عاصم، عن أبي وائل، عن عبد الله قال: خَطَّ لنا رسول الله ﷺ خَطًّا، ثم خَطَّ عن يمينِه وعن شمالِه خُطوطًا، ثم قال:"هذا سبيلُ الله، وهذه السُّبُلُ على كلِّ سبيل منها شيطان يَدعُو إليه" ثمَّ تلا: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾ [الأنعام: 153] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وشاهده لفظًا واحدًا حديثُ الشَّعْبي عن جابر من وجهٍ غير مُعتمَد (1) . [7 - سورة الأعراف]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکیر کھینچی پھر اس کے دائیں بائیں متعدد لکیریں کھینچیں۔ پھر فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے اور ان راستوں میں سے ہر ایک پر شیطان موجود ہے، جو ان راستوں کی طرف بلاتا ہے (پھر آپ نے یہ آیت پڑھی): وَ اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ (الانعام: 153) اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور اور راہیں نہ چلو کہیں تمہیں اس کی راہوں سے جدا کر دیں گی ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ انہی الفاظ میں شعبی کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد بھی موجود ہے تاہم وہ ناقابل اعتماد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3280]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں