سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. باب التَّعْجِيلِ مِنْ جَمْعٍ
باب: مزدلفہ سے منیٰ جلدی واپس لوٹ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1939
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعْفَةِ أَهْلِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے لوگوں میں سے کمزور جان کر مزدلفہ کی رات کو پہلے بھیج دیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1939]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل کے ان ضعیف افراد میں شامل تھا جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات قبل از وقت روانہ فرما دیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 98 (1678)، وجزاء الصید 25 (1856)، صحیح مسلم/الحج 49 (1293)، سنن النسائی/الحج 208 (3032)، (تحفة الأشراف: 5864)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 58 (292، 893)، سنن ابن ماجہ/المناسک 62 (3025)، مسند احمد (1/221، 222، 245، 272، 334، 346) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ روانہ کر دینا جائز ہے، تا کہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہو جائیں، لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1678) صحيح مسلم (1293)
حدیث نمبر: 1940
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ: أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: اللَّطْخُ: الضَّرْبُ اللَّيِّنُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے مزدلفہ کی رات پہلے ہی روانہ کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رانوں پر دھیرے سے مارتے تھے اور فرماتے تھے: ”اے میرے چھوٹے بچو! جمرہ پر کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہو جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لطح» کے معنی آہستہ مارنے کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1940]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات ہم بنی عبدالمطلب کے چھوٹے لڑکوں کو گدھوں پر سوار کر کے آگے بھیج دیا تھا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رانوں پر آہستہ آہستہ مارتے ہوئے فرما رہے تھے: ”بچو! سورج طلوع ہونے سے پہلے جمرہ کو کنکریاں نہ مارنا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «اللَّطْخُ» کا معنی ہے ”نرم انداز میں مارنا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 222 (3066)، سنن ابن ماجہ/ المناسک 62 (3025)، (تحفة الأشراف: 5396)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 58 (893)، مسند احمد (1/234، 311، 343) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3066) ابن ماجه (3025)
الحسن العرني ثقة أرسل عن ابن عباس (تق : 1252)
ولبعض الحديث شواھد بعضھا حسنة عند الطحاوي (مشكل الآثار 9/ 119ح 3494) وغيره
والحديث الآتي (الأصل : 1941) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
إسناده ضعيف
نسائي (3066) ابن ماجه (3025)
الحسن العرني ثقة أرسل عن ابن عباس (تق : 1252)
ولبعض الحديث شواھد بعضھا حسنة عند الطحاوي (مشكل الآثار 9/ 119ح 3494) وغيره
والحديث الآتي (الأصل : 1941) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
حدیث نمبر: 1941
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَدِّمُ ضُعَفَاءَ أَهْلِهِ بِغَلَسٍ وَيَأْمُرُهُمْ يَعْنِي لَا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کمزور اور ضعیف لوگوں کو اندھیرے ہی میں منیٰ روانہ کر دیتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب نہ نکل آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1941]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے ضعیف افراد کو اندھیرے ہی میں آگے روانہ فرما دیا کرتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ ”سورج طلوع ہونے تک جمرہ کو کنکریاں نہ ماریں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1941]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ الحج 222 (3067)، (تحفة الأشراف: 5888) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد حسن عند الطحاوي في مشكل الآثار (9/119 ح 3494 وسنده حسن) والبخاري (1678) وغيرھما
وللحديث شواھد حسن عند الطحاوي في مشكل الآثار (9/119 ح 3494 وسنده حسن) والبخاري (1678) وغيرھما
حدیث نمبر: 1942
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي عِنْدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو نحر کی رات (دسویں رات) کو (منیٰ کی طرف) روانہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رہا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1942]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نحر والی رات فجر سے پہلے ہی (منیٰ کی جانب) بھیج دیا۔ پس انہوں نے (طلوع) فجر سے پہلے ہی جمرہ کو کنکریاں مار لیں پھر وہ چلی گئیں اور طوافِ افاضہ کر لیا۔ اور یہ انہی کی باری کا دن تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:16961) (ضعیف)» (اس میں ضحاک ضعیف الحفظ ہیں، اور سند ومتن میں اضطراب ہے، ثقات کے روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود 2؍ 177)
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2614)
مشكوة المصابيح (2614)
حدیث نمبر: 1943
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ أَسْمَاءَ،" أَنَّهَا رَمَتِ الْجَمْرَةَ، قُلْتُ: إِنَّا رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ، قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں، مخبر (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہم نے رات ہی کو جمرے کو کنکریاں مار لیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1943]
ایک خبر دینے والے نے بیان کیا کہ سیدہ اسماء (بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا) نے جمرہ کی رمی کی تو میں نے کہا: ”ہم نے تو رات میں رمی کی ہے۔ (کنکریاں ماری ہیں)“ انہوں نے جواب دیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم یہی کیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 214 (3053)، (تحفة الأشراف: 15737)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 98 (1679)، صحیح مسلم/الحج 49 (1291)، موطا امام مالک/الحج 56 (172)، مسند احمد (6/347، 351) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
المخبر ومولي أسماء: عبد الله بن كيسان التيمي
المخبر ومولي أسماء: عبد الله بن كيسان التيمي
حدیث نمبر: 1944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو حکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1944]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مزدلفہ سے) روانہ ہوئے اور بڑے سکون اور آرام سے چلے اور لوگوں کو حکم دیا کہ ”چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں“ (مگر) وادی محسر میں سے تیزی سے نکلے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ الحج 204 (3024)، سنن ابن ماجہ/ المناسک 61 (3023)، (تحفة الأشراف: 2747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301، 332، 367، 391)، سنن الدارمی/المناسک 59 (1940) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2611)
رواه مسلم (1299 مختصرًا جدًا) وللحديث شواھد صحيحة ما رواه النسائي (3023)
مشكوة المصابيح (2611)
رواه مسلم (1299 مختصرًا جدًا) وللحديث شواھد صحيحة ما رواه النسائي (3023)