🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

370. تَفْسِيرُ سُورَةِ {سَأَلَ سَائِلٌ}
تفسیر سورۂ سأل سائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3896
أخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن سفيان الثَّوْري، عن الأعمش، عن سعيد بن جُبير: ﴿سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ (1) ﴾ قال: كائنٌ ﴿لِلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ (2) مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ (3) ﴾: ذو الدَّرَجات، ﴿سَأَلَ سَائِلٌ﴾ قال: هو النَّضْر بن الحارث بن كَلَدَةَ؛ قال: اللهمَّ إن كان هذا هو الحقَّ من عندِك، فأمطِرْ علينا حجارةً من السماء (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3854 - على شرط البخاري
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: سَاَلَ سَآئِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ لِّلْکٰفِرینَ لَیْسَ لَہٗ دَافِعٌ مِّنَ اللّٰہِ ذِی الْمَعَارِجِ (المعارج: 1، 2، 3) ایک مانگنے والا وہ عذاب مانگتا ہے، جو کافروں پر ہونے والا ہے، اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں، وہ ہو گا اللہ کی طرف سے جو بلندیوں کا مالک ہے یعنی درجات والا ہے۔ کے متعلق فرماتے ہیں (وہ سائل) نضر بن حارث بن کلدہ رضی اللہ عنہ ہے۔ اس نے کہا تھا: اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3896]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3897
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن الفضل الصائغ بعَسْقلانَ، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حَريز بن عثمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَيسَرة، عن جُبير بن نُفير، عن بُسْر بن جِحَاش القُرَشي قال: تلا رسولُ الله ﷺ هذه الآية: ﴿فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ (36) عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ (37) أَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِنْهُمْ أَنْ يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ (38) كَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاهُمْ مِمَّا يَعْلَمُونَ (39) ﴾ ثم بَزَقَ رَسولُ اللهِ ﷺ على كفِّه فقال:" [يقول الله] (1) : يا ابنَ آدم أنَّى تُعجِزُني وقد خلقتُك من مثلِ هذه، حتى إذا سوَّيتُك وعَدَلتُك، مشيتَ بين بُردَينِ وللأرض منك وَئِيدٌ - يعني شَكْوى - فَجَمَعتَ ومَنَعتَ (2) ، حتى إذا بَلَغَت التَّراقيَ قلتَ (3) : أتصدَّقُ، وأَنَّى أَوَانُ الصَّدقةِ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [71 - [تفسير سورة نوح] ]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3855 - صحيح
سیدنا بسر بن جحاش القرشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات پڑھیں: فَمَالِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا قِبَلَکَ مُھْطِعِیْنَ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ اَیَطْمَعُ کُلُّ امْرِءٍٔ مِّنْھُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّۃَ نَعِیْمٍ کَلَّا اِنَّا خَلَقْنٰھُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ) (المعارج: 36، 37، 38، 39) تو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں، داہنے اور بائیں گروہ کے گروہ، کیا ان میں ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ چین کے باغ میں داخل کیا جائے، ہرگز نہیں، بیشک ہم نے انہیں اس چیز سے بنایا جسے جانتے ہیں۔ پھر آپ نے اپنی آستین پر تھوکا پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم تو مجھے کیسے عاجز کر سکتا ہے حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی (مٹی) سے پیدا کیا، جب تیری تخلیق مکمل کرلی تو تو دو چادروں میں چلا جبکہ زمین کو تجھ سے شکایت تھی تو میں نے جمع کیا اور منع کیا یہاں تک کہ جب ہنسلی تک پہنچ گیا تو تو نے کہا: میں صدقہ کروں گا اور صدقہ کا کون سا وقت ہے؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3897]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں