المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
370. تفسير سورة { سأل سائل }
تفسیر سورۂ سأل سائل
حدیث نمبر: 3897
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن الفضل الصائغ بعَسْقلانَ، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حَريز بن عثمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَيسَرة، عن جُبير بن نُفير، عن بُسْر بن جِحَاش القُرَشي قال: تلا رسولُ الله ﷺ هذه الآية: ﴿فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ (36) عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ (37) أَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِنْهُمْ أَنْ يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ (38) كَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاهُمْ مِمَّا يَعْلَمُونَ (39) ﴾ ثم بَزَقَ رَسولُ اللهِ ﷺ على كفِّه فقال:" [يقول الله] (1) : يا ابنَ آدم أنَّى تُعجِزُني وقد خلقتُك من مثلِ هذه، حتى إذا سوَّيتُك وعَدَلتُك، مشيتَ بين بُردَينِ وللأرض منك وَئِيدٌ - يعني شَكْوى - فَجَمَعتَ ومَنَعتَ (2) ، حتى إذا بَلَغَت التَّراقيَ قلتَ (3) : أتصدَّقُ، وأَنَّى أَوَانُ الصَّدقةِ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [71 - [تفسير سورة نوح] ]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3855 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [71 - [تفسير سورة نوح] ]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3855 - صحيح
سیدنا بسر بن جحاش القرشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات پڑھیں: فَمَالِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا قِبَلَکَ مُھْطِعِیْنَ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ اَیَطْمَعُ کُلُّ امْرِءٍٔ مِّنْھُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّۃَ نَعِیْمٍ کَلَّا اِنَّا خَلَقْنٰھُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ) (المعارج: 36، 37، 38، 39) ” تو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں، داہنے اور بائیں گروہ کے گروہ، کیا ان میں ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ چین کے باغ میں داخل کیا جائے، ہرگز نہیں، بیشک ہم نے انہیں اس چیز سے بنایا جسے جانتے ہیں۔“ پھر آپ نے اپنی آستین پر تھوکا پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم تو مجھے کیسے عاجز کر سکتا ہے حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی (مٹی) سے پیدا کیا، جب تیری تخلیق مکمل کرلی تو تو دو چادروں میں چلا جبکہ زمین کو تجھ سے شکایت تھی تو میں نے جمع کیا اور منع کیا یہاں تک کہ جب ہنسلی تک پہنچ گیا تو تو نے کہا: میں صدقہ کروں گا اور صدقہ کا کون سا وقت ہے؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3897]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3897 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين ليس في نسخنا الخطية، وأثبتناه من المطبوع و "شعب الإيمان" للبيهقي (3198) حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان والی عبارت ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں ہے، ہم نے اسے مطبوعہ نسخے اور بیہقی کی "شعب الایمان" (3198) سے ثابت کیا ہے جہاں انہوں نے اسے مصنف سے ان کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) في (ص) و (ع): فجمعت وسعيت.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (ع) میں "فجمعت وسعیت" ہے۔
(3) في (ز) و (ص) و (ع): وقلت، بالواو، وإسقاطها أوجهُ.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "وقلت" واؤ کے ساتھ ہے، اور اس کا گرانا زیادہ بہتر ہے۔
(4) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن ميسرة: وهو الحضرمي الشامي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے عبد الرحمن بن میسرہ (الحضرمی الشامی) کی وجہ سے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17842 - 17845)، وابن ماجه (2707) من طرق عن حريز بن عثمان، بهذا الإسناد. ولم يذكروا فيه تلاوة الآية.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (29/17842-17845) اور ابن ماجہ (2707) نے حریز بن عثمان سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے اس میں آیت کی تلاوت کا ذکر نہیں کیا۔
وسيأتي برقم (8112).
📖 حوالہ / مصدر: یہ آگے نمبر (8112) پر آئے گا۔