🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

381. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقِيَامَةِ
تفسیر سورۂ القیامہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3920
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن مُغِيرة، عن تَميم الضَّبِّي، عن سعيد بن جُبير قال: اختلفتُ إلى ابن عبَّاس سنةً لا أكلِّمُه ولا يَعرِفُني، فسمعتُ سعيدَ بن جُبير يقول: قال لي ابن عبَّاس: مَن الرجل؟ قلت من أهل العراق، قال: من أيِّهم؟ قلت: من بني أَسَد، قال: من حَرُوريَّتهم، أو ممَّن أَنْعَمَ اللهُ عليه؟ قلت: ممَّن أنعمَ الله عليه، قال: سَلْ، قلت: ﴿لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ (1) ﴾، قال: يُقِسم ربُّك بما شاء من خَلْقه، قلت: وَلَا ﴿وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (2) ﴾، قال: مِن النفس المَلُوم، قلت: ﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ (3) بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ﴾، قال: لو شاءَ لجعَلَه خُفًّا أو حافرًا، قلت: ﴿فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ﴾ [الأنعام: 98] ، قال: المستقَرُّ في الرَّحِم، والمستَودَع في الصُّلب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3877 - صحيح
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک سال تک میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس مختلف مواقع پر گیا، اس دوران نہ میں نے ان سے گفتگو کی اور نہ انہوں نے مجھے پہچانا۔ پھر ایک مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: اہل عراق سے ہوں۔ آپ نے پوچھا: کس قبیلے سے تعلق ہے؟ میں نے کہا: بنی اسد سے۔ آپ نے پوچھا: باغیوں میں سے یا ان میں سے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا؟ میں نے کہا: ان میں سے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔ آپ نے فرمایا: پوچھو (کیا پوچھنا چاہتے ہو) میں نے کہا: لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (القیامۃ: 1) روز قیامت کی قسم یاد فرماتا ہوں۔ (کا مطلب سمجھنا چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا: تمہارا رب اپنی خلق میں سے جس کی چاہتا ہے قسم کھاتا ہے۔ میں نے کہا: وَ لَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ (القیامۃ: 2) اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر ملامت کرے۔ (کا کیا مطلب ہے) آپ نے فرمایا: وہ نفس کی ملامت کی گئی ہے۔ میں نے کہا: أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ۔ بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ (القیامۃ: 3، 4) کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے، کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنا دیں۔ (کا کیا مطلب ہے) آپ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو (اس کی انگلیوں کے پورے) اونٹ یا گدھے کے کھر جیسے (بھی) بنا سکتا تھا۔ میں نے کہا: فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ (الانعام: 98) پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے اور کہیں امانت رہنا ہے۔ (کا کیا مطلب ہے) آپ نے فرمایا: ٹھہرنا رحم میں ہے اور امانت پشت میں رہنا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3920]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3921
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الحسين بن الفضل، حدَّثنا محمد بن سابِق، حدَّثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ﴾ يقول: سوف أتوبُ ﴿يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ﴾ [القيامة: 6] ، فيَبينُ له إذا بَرقَ البصرُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3878 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما: بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ (القیامۃ: 5) بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بدی کرے۔ (کے متعلق فرماتے ہیں) انسان کہتا ہے: میں عنقریب توبہ کر لوں گا۔ یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ (القیامۃ: 6) پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہو گا؟ یہ تو اس پر ظاہر ہو جائے گا، جب اس کی آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3921]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3922
أخبرنا أبو زكريا العَنبري، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق، أخبرنا جرير، عن الأعمش، عن أبي الضُّحى، عن مسروقٍ، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ﴾ [الأنعام:158] ، قال: طلوعُ الشمس من مَغرِبها، ثم قرأ هذه الآية: ﴿وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (9) يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ﴾ [القيامة: 9 - 10] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3879 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ ٰایٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ ٰامَنَتْ مِنْ قَبْلُ (الانعام: 158) جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی۔ کے بارے میں فرماتے ہیں: (وہ نشانی) سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ (القیامۃ: 9، 10) اور سورج اور چاند ملا دیے جائیں گے، اس دن آدمی کہے گا کدھر بھاگ کر جاؤں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3922]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں