المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
381. تفسير سورة القيامة
تفسیر سورۂ القیامہ
حدیث نمبر: 3920
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن مُغِيرة، عن تَميم الضَّبِّي، عن سعيد بن جُبير قال: اختلفتُ إلى ابن عبَّاس سنةً لا أكلِّمُه ولا يَعرِفُني، فسمعتُ سعيدَ بن جُبير يقول: قال لي ابن عبَّاس: مَن الرجل؟ قلت من أهل العراق، قال: من أيِّهم؟ قلت: من بني أَسَد، قال: من حَرُوريَّتهم، أو ممَّن أَنْعَمَ اللهُ عليه؟ قلت: ممَّن أنعمَ الله عليه، قال: سَلْ، قلت: ﴿لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ (1) ﴾، قال: يُقِسم ربُّك بما شاء من خَلْقه، قلت: وَلَا ﴿وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (2) ﴾، قال: مِن النفس المَلُوم، قلت: ﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ (3) بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ﴾، قال: لو شاءَ لجعَلَه خُفًّا أو حافرًا، قلت: ﴿فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ﴾ [الأنعام: 98] ، قال: المستقَرُّ في الرَّحِم، والمستَودَع في الصُّلب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3877 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3877 - صحيح
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک سال تک میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس مختلف مواقع پر گیا، اس دوران نہ میں نے ان سے گفتگو کی اور نہ انہوں نے مجھے پہچانا۔ پھر ایک مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: اہل عراق سے ہوں۔ آپ نے پوچھا: کس قبیلے سے تعلق ہے؟ میں نے کہا: بنی اسد سے۔ آپ نے پوچھا: باغیوں میں سے یا ان میں سے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا؟ میں نے کہا: ان میں سے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔ آپ نے فرمایا: پوچھو (کیا پوچھنا چاہتے ہو) میں نے کہا: لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (القیامۃ: 1) ” روز قیامت کی قسم یاد فرماتا ہوں۔“ (کا مطلب سمجھنا چاہتا ہوں) آپ نے فرمایا: تمہارا رب اپنی خلق میں سے جس کی چاہتا ہے قسم کھاتا ہے۔ میں نے کہا: وَ لَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ (القیامۃ: 2) ” اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر ملامت کرے۔“ (کا کیا مطلب ہے) آپ نے فرمایا: وہ نفس کی ملامت کی گئی ہے۔ میں نے کہا: أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ۔ بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ (القیامۃ: 3، 4) ” کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے، کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنا دیں۔“ (کا کیا مطلب ہے) آپ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو (اس کی انگلیوں کے پورے) اونٹ یا گدھے کے کھر جیسے (بھی) بنا سکتا تھا۔ میں نے کہا: فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ (الانعام: 98) ” پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے اور کہیں امانت رہنا ہے۔“ (کا کیا مطلب ہے) آپ نے فرمایا: ٹھہرنا رحم میں ہے اور امانت پشت میں رہنا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3920]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3920 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات إلّا أنَّ مغيرة - وهو ابن مقسم الضبي - يَقصُر عن أن يدرك تميمًا الضبي، وهو إنما تُعرَف روايته عن ابنه أبي الخير - ويقال: أبو جبر - عبد الرحمن بن تميم كما في كتب التراجم وكما وقع عند الطبري في "التفسير"، وعبد الرحمن بن تميم هذا ذكره ابن حبان في "ثقاته" 7/ 68 وقال: روى عنه المغيرة، وزاد أبو حاتم الرازي كما في "الجرح والتعديل" 5/ 281 في الرواة عنه أبا إسحاق الهمداني السبيعي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے راوی "ثقہ" ہیں سوائے اس کے کہ مغیرہ (ابن مقسم ضبی) تمیم الضبی کو پانے سے "قاصر" ہیں (انقطاع ہے)۔ ان کی روایت تو دراصل تمیم کے بیٹے "ابو الخیر" (جنہیں ابو جبر بھی کہا جاتا ہے) عبد الرحمن بن تمیم سے معروف ہے، جیسا کہ تراجم کی کتب میں ہے اور جیسا کہ طبری کی "تفسیر" میں واقع ہوا ہے۔ اس عبد الرحمن بن تمیم کو ابن حبان نے اپنی "ثقات" (7/68) میں ذکر کیا اور کہا کہ ان سے مغیرہ نے روایت کی ہے، اور ابو حاتم رازی نے ("الجرح والتعدیل" 5/281 میں) ان سے روایت کرنے والوں میں "ابو اسحاق ہمدانی سبیعی" کا اضافہ کیا ہے۔
إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد الضبي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد "ابن راہویہ" اور جریر سے مراد "ابن عبد الحمید ضبی" ہیں۔
وأخرجه مقطَّعًا الطبري في "تفسيره" 29/ 173 و 174 و 175 عن محمد بن حميد الرازي، عن جرير، عن مغيرة، عن أبي الخير بن تميم الضبي، عن سعيد بن جبير، عن ابن عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی تفسیر (29/173، 174، 175) میں ٹکڑوں میں محمد بن حمید رازی سے، انہوں نے جریر سے، انہوں نے مغیرہ سے، انہوں نے "ابو الخیر بن تمیم ضبی" سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
وقد سلف تفسير المستقر والمستودع عند المصنف برقم (3272) من طريق أبي بشر جعفر بن أبي وحشية عن سعيد بن جبير عن ابن عباس.
📖 حوالہ / مصدر: مصنف کے ہاں مستقر اور مستودع کی تفسیر پہلے نمبر (3272) پر ابو بشر جعفر بن ابی وحشیہ عن سعید بن جبیر عن ابن عباس کے طریق سے گزر چکی ہے۔