المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
408. تَفْسِيرُ سُورَةِ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} - سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ
تَفْسِيرُ سُورَةِ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} - سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ
حدیث نمبر: 3984
حدَّثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عبد الله بن محمد بن وَهْب الحافظ، أخبرنا عبد الله بن محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثني أبي، حدَّثنا سفيان، عن عُبيد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مَوهَب، قال: سمعتُ عليَّ بن الحسين يحدِّث عن أبيه، عن جدِّه قال: قال رسول الله ﷺ:"ستةٌ لَعنتُهم، ولَعَنَهم الله وكلُّ نبيٍّ مُجابٍ: الزائدُ في كتاب الله، والمكذِّبُ بقَدَر الله، والمتسلِّطُ بالجَبَروتِ ليُذِلُّ من أعزَّ اللهُ ويُعِزَّ من أذلَّ الله، والتاركُ لسُنَّتي، والمستحِلُّ من عِتْرتي ما حرَّم الله، والمستحلُّ لحُرَم الله (1) . قال سفيان: اقرؤوا سورة ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى (5) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى (7) وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى (8) وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى (9) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى﴾. هكذا حدَّثَناه أبو علي، وله إسنادٌ صحيح أخشى أني ذكرتُه فيما تقدَّم (2) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3940 - سكت عنه الذهبي في التلخيص في هذا الموضع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3940 - سكت عنه الذهبي في التلخيص في هذا الموضع
علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 6 لوگ ایسے ہیں جن پر میں لعنت کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور ہر نبی (جو کہ مستجاب الدعوات ہوتا ہے) نے ان پر لعنت کی ہے۔ (1) قرآن کریم میں اضافہ کرنے والا۔ (2) اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو جھٹلانے والا۔ (3) جبراً اقتدار پر مسلط ہونے والا تاکہ ان لوگوں کو ذلیل کرے جن کو اللہ نے عزت دی اور ان کو عزت دے جنہیں اللہ نے ذلیل کیا ہے۔ (4) میری سنت کا تارک۔ (5) میری آل کا بے ادب۔ (6) اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھنے والا۔ سیدنا سفیان نے کہا: سورۃ وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی ” اور رات کی قسم جب چھائے۔“ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی ” تو جس نے دیا اور پرہیزگاری کی “ وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ” اور سب سے اچھی کو سچ مانا “ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی ” تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کر دیں گے۔“ وَ اَمَّا مَنْ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰی ” اور جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا “ وَ کَذَّبَ بِالْحُسْنٰی ” اور سب سے اچھی کو جھٹلایا “ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی ” تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کر دیں گے “ ابوعلی نے ہمیں ایسے ہی حدیث بیان کی ہے اس کی سند صحیح ہے اور میرا خیال ہے کہ میں پہلے بھی اس کو نقل کر چکا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3984]
حدیث نمبر: 3985
حدَّثَناه عبد الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ الفارسي، حدَّثنا يعقوب بن سفيان، حدَّثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدَّثنا عبد الرحمن بن أبي المَوَال (1) ، عن عبيد الله بن مَوهَب، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"ستةٌ لَعنتُهم، لَعَنَهم الله وكلُّ نبيٍّ مجاب: الزائدُ في كتاب الله، والمكذِّبُ بأقدار الله، والمتسلِّطُ بالجَبَروت ليُذِلُّ من أعزَّ الله ويُعزَّ من أذلَّ الله، والمستحِلُّ لحُرَمِ الله، والمستحِلُّ من عِتْرتي ما حرَّم الله، والتاركُ لسُنَّتي" (2) . قد احتجَّ الإمامُ البخاري بإسحاق بن محمد الفَرْوي وعبد الرحمن بن أبي المَوَال في"الجامع الصحيح"، وهذا أولى بالصواب من الإسناد الأول.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چھ آدمی ایسے ہیں جن پر میں لعنت کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ اور ہر نبی لعنت کرتا ہے۔ (1) کتاب اللہ میں زیادتی کرنے والا۔ (2) اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا۔ (3) اقتدار پر مسلط ہونے والا تاکہ ان لوگوں کو عزت دے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ذلیل کیا اور ان کو ذلیل کرے جنہیں اللہ نے عزت دی۔ (4) اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھنے والا۔ (5) میری آل کا گستاخ۔ (6) میری سنت کا تارک۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ” جامع الصحیح “ اسحاق بن ممد الفروی اور عبدالرحمن بن ابی الرجال کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث پہلی کی بہ نسبت زیادہ درست ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3985]
حدیث نمبر: 3986
حدَّثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدَّثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدَّثنا سعيدٌ بن يحيى الأُمَوي، حدثني عمِّي عبد الله بن سعيد، عن زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني محمد بن عبد الله بن أبي عَتِيق، عن عامر بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه قال: قال أبو قُحَافة لأبي بكر: أَراك تُعتِقُ رِقابًا ضِعافًا، فلو أنك إذ فعلتَ ما فعلتَ، أعتقتَ رجالًا جُلْدًا يَمنعونَك ويقومون دُونَك، فقال أبو بكر: يا أبت، إني إنما أريدُ ما أريد، إنما نَزَلت هذه الآياتُ فيه: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى (5) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى﴾ إلى قوله ﷿: ﴿وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى (19) إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى (20) وَلَسَوْفَ يَرْضَى﴾ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. 93 - تفسير سورة (والضُّحى) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3942 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. 93 - تفسير سورة (والضُّحى) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3942 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو کمزور غلاموں کو آزاد کرتا ہے، اگر تو طاقتور اور مضبوط غلاموں کو آزاد کرے تو تیرا دفاع کریں اور تیرے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کریں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابا جی! میں نے تو جو بھی ارادہ کیا ہے اس آیت کے نزول پر کیا ہے: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى۔ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى (سورۃ الیل: 5، 6، 7) ” تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی، اور سب سے اچھی کو سچ مانا، تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کر دیں گے۔“ اس آیت تک: وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓی اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی (سورۃ الیل: 19، 20، 21) ” اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے، صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے، اور بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہو گا “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3986]