🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. ذِكْرُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا
سیدنا اسحاق بن سیدنا ابراہیم علیہما السلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4085
حدثنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُباب، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن الحسن، عن الأحنف بن قيس، عن العباس بن عبد المطلب، قال: قال رسول الله ﷺ:"قال نبي الله داود: يا رب، أسمعُ الناسَ يقولون: رَبُّ إسحاق، قال: إنَّ إسحاق جادَ لي بنفسه" (2) .
هذا حديث صحيح، رواه الناس عن علي بن زيد بن جدعان، تفرد به.
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! میں لوگوں کی زبان سے یہ الفاظ سنتا ہوں اے (ابراہیم) اسحاق (اور یعقوب) کے رب میں چاہتا ہوں کہ (اسی طرح میرے نام کے ساتھ بھی تجھے پکارا جائے اور یوں کہا جائے) اے داؤد کے رب (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: (ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا) بے شک اسحاق علیہ السلام نے ہمارے لئے اپنی جان پیش کی (اور یعقوب علیہ السلام کو ان کے بیٹے سیدنا یوسف علیہ السلام کا فراق دیا گیا، اتنی آزمائشوں کے بعد ان کے نام کے ساتھ مجھے پکارا جاتا ہے جبکہ آپ کو تو اس طرح کی کسی آزمائش میں مبتلا نہیں کیا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے اس کو کئی محدثین نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کیا ہے اور وہ اس کی روایت کرنے میں متفرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4085]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4086
أخبرني أبو أحمد محمد بن إسحاق العَدْل الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن حماد، حدثنا أسباط بن نصر، عن السُّدِّي، عن عكرمة، عن ابن عبّاس، قال: كانت سارة بنت تسعين سنة وإبراهيم ابن عشرين ومئة سنة، فلما ذهب عن إبراهيم الرَّوعُ وجاءته البشرى بإسحاق وأمن ممن كان يخافه، قال: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ (39)[إبراهيم: 39] ، فجاء جبريل ﵇ إلى سارة بالبشرى، فقال أبشري بولد يقال له: إسحاق، ومن وراء إسحاق يعقوب، قال: فضربت جبهتها عجبًا، فذلك قوله: ﴿فَصَكَّتْ وَجْهَهَا﴾ [الذاريات: 29] ، وقالت: ﴿أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ (72) قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ﴾ [هود: 72 - 73] (1) . قد احتج البخاري بعِكرمة واحتج مسلم بالسُّدِّي، والحديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4042 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا سارہ 90 سال کی تھیں اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام 120 سال کے تھے۔ جب ابراہیم علیہ السلام کا خوف زائل ہوا اور انہیں سیدنا اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری ملی اور اس چیز سے ان کو امن ہو گیا جس سے وہ خوفزدہ تھے تو بولے۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام دئیے، بے شک میرا رب دعا سننے والا ہے۔ تو سیدنا جبریل علیہ السلام سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک بیٹے کی خوشخبری لے کر آئے، جن کا نام اسحاق علیہ السلام ہے اور اسحاق علیہ السلام کے بعد یعقوب علیہ السلام آپ (سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا) نے حیرانگی کے عالم میں اپنا ماتھا پکڑ لیا۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فصکت وجھھا (پھر اپنا ماتھا ٹھونکا) اور بولیں: میں بچہ جنوں گی؟ حالانکہ میں بوڑھی ہوں اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہے۔ یہ بڑی عجیب شے ہے۔ فرشتے بولے: کیا اللہ تعالیٰ کے کام کو عجیب سمجھتی ہو؟ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اس گھر والو، بے شک وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ رضی اللہ عنہ کی اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سدی کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4086]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں