المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. بَيَانُ الِاخْتِلَافِ فِي مَقَامِ ذَبْحِ إِسْمَاعِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کی جگہ کے اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 4084
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، حدثنا الحسن، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا أبو عبد الله الواقدي، قال: قد اختلف علينا في إسماعيل وإسحاق أيهما أراد إبراهيم أن يذبح، وأين أراد ذبحه بمنى أو ببيت المقدس، فكتبتُ كل ما سمعتُ من ذلك من أخبار الحديث: فحدثني ابن أبي سبرة، عن أبي مالك، من ولد مالك الدار وكان مولى لعثمان بن عفان، عن عطاء بن يسار، قال: سألت خَوّات بن جبير عن ذبيح الله، أيهما كان؟ فقال: إسماعيل، لما بلغ إسماعيل سبع سنين رأى إبراهيم في النوم في منزله بالشام أن يذبح إسماعيل، فركب إليه على البراق حتى جاءه فوجده عند أمه، فأخذ بيده ومضى به لما أمر به، وجاءه الشيطان في صورة رجل يعرفه، فقال: يا إبراهيم، أين تريد؟ قال إبراهيم: في حاجَتِي، قال: تريد أن تذبح إسماعيل؟ قال إبراهيم: أرأيتَ والدًا يذبَحُ ولده؟ قال: نعم أنت، قال إبراهيم: ولم؟ قال: تَزْعُم أَنَّ الله أمرك بذلك، قال إبراهيم: فإن كان الله أمرني بذلك، فقد أطعتُ الله واحتسبتُ، فانصرف عنه، وجاء إبليس إلى هاجَرَ، فقال: أين ذهب إبراهيم بابنك؟ قالت: ذهب في حاجته، قال: فإنه يريد أن يذبحه، قالت: وهل رأيت والدًا يذبح ولده؟ قال: هو يَزْعُم أَنَّ الله أمره بذلك، قالت: فقد أحسن حيث أطاع الله، ثم أدركَ إسماعيل، فقال: يا إسماعيل، أين يذهب بك أبوك؟ قال: لحاجته، قال: فإنه يذهب بك ليذبحك، قال: وهل رأيت والدًا قط يذبح ولده؟ قال: نعم هو، قال: ولم؟ قال: يزعم أن الله أمره بذلك، قال إسماعيل: فقد أحسن حيث أطاع ربه، قال: فخرج به حتى انتهى به إلى منًى حيث أُمر، ثم انتهى إلى منحر البُدْنِ اليوم، فقال: يا بُنيّ، إِنَّ الله قد أمرني أن أذبَحَك، قال إسماعيل: فأطِعْ ربك، فإنَّ في طاعة ربك كلَّ خير، ثم قال إسماعيل: هل أعلمتَ أمي بذلك؟ قال: لا، قال: أصبتَ، إِنِّي أخاف أن تَحْزَنَ، ولكن إذا قربت السكين من حلْقي فأعرِضْ عني، فإنه أجدَرُ أن تصبر ولا تراني، ففعل إبراهيم، فذهب يَحُزُّ في حلقه، فإذا يَحُزُّ في نحاس ما تحيك الشفرة (1) ، فشحذها مرتين أو ثلاثة بالحجر، كلَّ ذلك لا يستطيع أن يَحُزَّ، قال إبراهيم: إِنَّ هذا الأمر من الله، فرفع رأسه فإذا بوَعِلٍ واقفٍ بين يديه، فقال إبراهيم: قُمْ يا بني، فقد نزل فداك، فَذَبَحَه هناك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4040 - ما للواقدي وللصحاح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4040 - ما للواقدي وللصحاح
امام واقدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں اس بات میں اختلاف تھا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق علیہما السلام میں سے کسے ذبح کرنے کا ارادہ کیا تھا، اور ذبح کرنے کا ارادہ کہاں کیا تھا، منیٰ میں یا بیت المقدس میں؟ تو میں نے اس حوالے سے احادیث کی جو بھی خبریں سنیں، وہ سب لکھ لیں۔ عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ سے ذبیح اللہ کے متعلق پوچھا کہ وہ ان دونوں میں سے کون تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ جب اسماعیل علیہ السلام کی عمر سات سال ہوئی تو ابراہیم علیہ السلام نے شام میں اپنی قیام گاہ پر خواب میں دیکھا کہ وہ اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ پس وہ براق پر سوار ہو کر ان کے پاس آئے تو انہیں ان کی والدہ کے پاس پایا۔ انہوں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور جس بات کا انہیں حکم دیا گیا تھا اسے پورا کرنے کے لیے چل پڑے۔ شیطان ایک ایسے شخص کی صورت میں ان کے پاس آیا جسے وہ پہچانتے تھے، اور کہنے لگا: اے ابراہیم! آپ کا کہاں کا ارادہ ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: میں اپنے ایک کام سے جا رہا ہوں۔ اس نے کہا: کیا آپ اسماعیل کو ذبح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم نے کسی باپ کو دیکھا ہے جو اپنے بیٹے کو ذبح کرتا ہو؟ اس نے کہا: ہاں، آپ (ایسا کرنے لگے ہیں)۔ ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: آپ کا گمان ہے کہ اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اگر واقعی اللہ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے تو میں نے اللہ کی اطاعت کی اور ثواب کی نیت کی۔ پس وہ (شیطان) ان کے پاس سے چلا گیا، اور ابلیس ہاجرہ علیہا السلام کے پاس آیا اور پوچھنے لگا: ابراہیم تمہارے بیٹے کو لے کر کہاں گئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اپنے کسی کام سے گئے ہیں۔ اس نے کہا: وہ تو اسے ذبح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: کیا تم نے کسی باپ کو اپنے بیٹے کو ذبح کرتے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: ان کا گمان ہے کہ اللہ نے انہیں اس کا حکم دیا ہے۔ تو ہاجرہ علیہا السلام نے فرمایا: اگر انہوں نے اللہ کی اطاعت کی ہے تو بہت اچھا کیا ہے۔ پھر وہ شیطان اسماعیل علیہ السلام کے پاس پہنچا اور کہنے لگا: اے اسماعیل! تمہارے والد تمہیں کہاں لے جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اپنے کسی کام سے۔ اس نے کہا: وہ تو تمہیں اس لیے لے جا رہے ہیں تاکہ تمہیں ذبح کر دیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم نے کبھی کسی باپ کو اپنے بیٹے کو ذبح کرتے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، وہ (تمہارے باپ) ایسا کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: ان کا گمان ہے کہ اللہ نے انہیں اس کا حکم دیا ہے۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا: پس اگر انہوں نے اپنے رب کی اطاعت کی ہے تو بہت اچھا کیا ہے۔ خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر ابراہیم (علیہ السلام) انہیں لے کر نکلے یہاں تک کہ منیٰ میں اس جگہ پہنچ گئے جہاں انہیں حکم دیا گیا تھا، پھر اس جگہ پہنچے جہاں آج کل قربانی کے اونٹ ذبح کیے جاتے ہیں، اور فرمایا: اے میرے بیٹے! بیشک اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھے ذبح کروں۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا: تو آپ اپنے رب کی اطاعت کیجیے، کیونکہ آپ کے رب کی اطاعت میں ہی سراسر بھلائی ہے۔ پھر اسماعیل علیہ السلام نے پوچھا: کیا آپ نے میری امی کو اس بات کی خبر دی ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا: آپ نے ٹھیک کیا، مجھے ڈر تھا کہ وہ غمگین ہوں گی۔ لیکن جب آپ چھری میرے گلے کے قریب لائیں تو اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لیجیے گا، کیونکہ اس طرح آپ کے لیے صبر کرنا زیادہ ممکن ہوگا اور آپ مجھے (تڑپتا ہوا) نہیں دیکھیں گے۔ پس ابراہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا اور ان کے گلے پر چھری چلانے لگے۔ لیکن جب وہ چھری چلاتے تو ایسا لگتا جیسے تانبے پر چلا رہے ہیں جسے چھری کاٹ نہیں پا رہی تھی۔ انہوں نے اسے پتھر پر دو یا تین مرتبہ تیز کیا، لیکن اس سب کے باوجود وہ اسے کاٹ نہیں پا رہی تھی۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: یقیناً یہ معاملہ اللہ کی طرف سے ہے۔ پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا تو اپنے سامنے ایک پہاڑی بکرا (مینڈھا) کھڑا پایا۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹے! اٹھ جاؤ، تمہارا فدیہ نازل ہو گیا ہے۔ پس انہوں نے اسے وہیں ذبح کر دیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4084]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ بمرة، ابن أبي سَبْرة - وهو أبو بكر بن عبد الله بن محمد - متروك الحديث، واتهمه بعضهم بالوضع، وممن اتهمه المصنّف نفسه، فلا ندري ما باله أورد له مثل هذا الخبر، وأبو عبد الله الواقدي - وهو محمد بن عمر - لا يعتبر بما يتفرد به أيضًا، ...» [ترقيم الرساله 4084] [ترقيم الشركة 4062] [ترقيم العلميه 4040]
الحكم على الحديث: إسناده واهٍ بمرة
حدیث نمبر: 4084M
قال الواقدي: وحدثني ربيعة بن عثمان، عن هلال بن أسامة، عن عطاء بن يَسَار، عن عبد الله بن سَلَام، أنه قال: الذبيح هو إسماعيل (1) . ذكرُ إسحاق بن إبراهيم خليل الله صلوات الله عليهما
امام واقدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ذبیح اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔“
سیدنا اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہما السلام کا ذکر: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4084M]
سیدنا اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہما السلام کا ذکر: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4084M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4084M] [ترقيم الشركة 4062/1]