🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. حِلْيَةُ مُوسَى وَهَارُونَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کی وضع قطع کا بیان، اور یہ کہ ہر نبی پر مہرِ نبوت ہوتی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4151
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حُميد، حدثنا الحسين بن علي السُّلمي، حدثني محمد بن حسان، عن محمد بن جعفر بن محمد، عن أبيه قال: كان عِلمُ الله وحِكمتُه في ذُرِّية إبراهيمَ، فعند ذلك آتى اللهُ يوسفَ بن يعقوب مُلكَ الأرض المُقدَّسة، فمَلَك اثنتين وسبعين سنة، وذلك قولُه ﷿ فيما أَنزل من كتابه: ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [يوسف: 101] ، فعند ذلك بعثَ اللهُ موسى وهارون فأورثَهما مَشارِقَ الأرضِ ومَغارِبَها ومَلَّكهما ملكًا ناعِمًا، فمَلَك موسى ومن معه من بني إسرائيل ثمان وثمانين سنة، ثم إنَّ الله أراد أن يَرُدّ ذلك عليهم، فمَلَّكَهم مَشارِقَ الأرضِ ومَغارِبَها وآتاهُم مُلكًا عظيمًا، حتى سألوا أن يَنظُروا إلى ربهم، فقالوا: ﴿أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً﴾ [النساء: 153] ، وذلك حينَ رأوا موسى كلَّمَه ربُّه وسمِعُوا، فطَلَبُوا الرؤيةَ، وكان موسى انتقَى خِيارَهم ليَشْهَدُوا له عند بني إسرائيل أنَّ ربَّه قد كَلَّمَه، فقالوا: لن نَشْهدَ لك حتى تُرِيَنا الله جَهْرةً، ﴿فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ﴾ [الذاريات: 44] (1) .
محمد بن جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: اللہ کا علم اور اس کی حکمت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں تھی۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف بن یعقوب علیہما السلام کو ارضِ مقدس کی بادشاہت عطا فرمائی، اور انہوں نے بہتر (72) سال تک حکمرانی کی۔ اور یہی بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے جو اس نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا: ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ اے میرے رب! بلاشبہ تو نے مجھے حکومت کا ایک حصہ عطا فرمایا اور مجھے باتوں (خوابوں) کی تعبیر کا علم سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے۔ [سورة يوسف: 101] پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو مبعوث فرمایا اور انہیں زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا وارث بنایا اور انہیں ایک خوشگوار بادشاہت عطا فرمائی۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل نے اٹھاسی (88) سال تک حکمرانی کی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ یہ (بادشاہت) ان پر لوٹا دے، پس اس نے انہیں زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنا دیا اور انہیں ایک عظیم سلطنت عطا فرمائی، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے رب کو دیکھنے کا مطالبہ کر دیا اور کہنے لگے: ﴿أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً﴾ ہمیں اعلانیہ (کھلم کھلا) اللہ کو دکھائیں۔ [سورة النساء: 153] اور یہ اس وقت ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ موسیٰ علیہ السلام سے ان کے رب نے کلام فرمایا ہے اور انہوں نے اسے سنا، تو انہوں نے دیدار طلب کیا۔ حالانکہ موسیٰ علیہ السلام نے ان میں سے بہترین لوگوں کو منتخب کیا تھا تاکہ وہ بنی اسرائیل کے سامنے گواہی دیں کہ ان کے رب نے ان سے کلام کیا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا: ہم آپ کی اس وقت تک گواہی نہیں دیں گے جب تک آپ ہمیں اعلانیہ اللہ کا دیدار نہ کرا دیں۔ ﴿فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ﴾ پس انہیں ان کے دیکھتے دیکھتے کڑک (بجلی) نے آ پکڑا۔ [سورة الذاريات: 44] [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4151]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّةٍ، وقد تقدَّم مختصرًا بذكر يوسف ﵇ برقم (4133).»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرّةٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں