المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. سُؤَالُ مُوسَى رُؤْيَةَ الرَّبِّ وَصَعْقُهُ عِنْدَ التَّجَلِّي
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رب کو دیکھنے کا سوال اور تجلی کے وقت بے ہوش ہو جانا
حدیث نمبر: 4145
أخبرني محمد بن إسحاق العدل، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ موسى بن عمران، لما كلَّمه ربُّه أحبَّ أن ينظر إليه، فقال: ﴿رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي﴾ [الأعراف:143] ، فحَفَّ حولَ الجبل الملائكة، وحَفَّ حول الملائكة بنارٍ، وحَفَّ حول النار بملائكةٍ، وحَفَّ حول الملائكة بنارٍ، ثم تجلَّى ربُّك للجبل، ثم تجلَّى منه مثل الخِنْصِر، فجعل الجبل دَكًّا، وخَرَّ موسى صَعِقًا ما شاء الله، ثم إنه أفاق فقال: ﴿سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ﴾. يعني أولَ مَنْ آمَنَ مِن بني إسرائيل (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4102 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4102 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا تو آپ کے دل میں اس کے دیدار کی خواہش پیدا ہوئی۔ آپ نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ فرمایا: تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔ ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھے گا۔ پھر پہاڑ کے گرد فرشتوں نے گھیرا ڈال لیا اور فرشتوں کے گرد آگ کا حالہ بنا دیا گیا اور آگ کو فرشتوں نے گھیرا ڈال لیا اور ان فرشتوں کے گرد بھی آگ نے گھیرا ڈالا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی مقدار تجلی ڈالی جس کی وجہ سے پہاڑ پاش پاش ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے، جتنی دیر اللہ نے چاہا (آپ بے ہوش گرے پڑے رہے) پھر آپ کو ہوش آیا تو بولے: پاکی ہے تجھے۔ میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں یعنی بنی اسرائیل کے ایمان لانے والوں میں سے میں سب سے پہلا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4145]
حدیث نمبر: 4146
حدثنا بَكْر بن محمد بن حَمْدانِ الصَّيْرفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا خلف بن الوليد الجَوهَري، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن مسعود، قال: ذُكِرتْ لي الشجرةُ التي أَوى إليها موسى نبيُّ الله صلَّى الله عليه، فسِرْتُ إليها يومَين وليلتَين، ثم صبَّحتُها، فإذا هي خضراءُ تَرِفُّ (1) ، فصلَّيتُ على النبي ﷺ وسَلّمتُ، فأهوى إليها بَعِيري وهو جائع، فأخذ منها مِلءَ فِيهِ وهو جائع، فلاكَهُ، فلم يَستطِع أن يُسِيغَه فلَفَظَه، فصليتُ على النبي ﷺ وانصرفْتُ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4103 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4103 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے اس درخت کا پتہ چلا جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے پناہ لی تھی تو میں دو دن اور دو راتوں کا سفر کر کے وہاں پہنچا تو وہ سرسبز تھا، لہلہا رہا تھا۔ تو میں نے نبی پر درود شریف پڑھا۔ میرا اونٹ بھوکا تھا، اس نے اس درخت کی خواہش کی۔ اس نے منہ بھر اس کے پتے اپنے منہ میں لئے اور چبانا شروع کیے لیکن وہ ان کو نگل نہ سکا تو اس نے ان کو اگل دیا۔ میں نے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھا اور واپس لوٹ آیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4146]
حدیث نمبر: 4147
حدثنا إسماعيل بن علي الخُطَبي ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا محمد بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ تلا هذه الآية: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ﴾ [الأعراف: 143] - أشار حمادٌ ووضع إبهامَه على مَفصِل الخِنْصِر. قال:"فَساخَ الجبَلُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا (الاعراف: 143) پھر حماد نے اشارہ کیا اور اپنا انگوٹھا اپنی چھنگلیا کے جوڑ پر رکھا اور فرمایا (صرف اتنی سی تجلی ڈالی تھی جس سے) پہاڑ دھنس گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4147]
حدیث نمبر: 4148
فحدَّثَناه الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمةَ، قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، عن النبي ﷺ إن شاء الله - شكَّ أبو سلمة موسى بن إسماعيل - ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ [الأعراف: 143] ، قال:"ساخَ الجبَلُ" (2) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے (ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے موسیٰ بن اسماعیل پر شک کیا ہے) آپ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو اس کو پاش پاش کر دیا۔ آپ فرماتے ہیں: پہاڑ دھنس گیا۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: حسن بن سفیان، عمران بن موسیٰ جرجانی اور احمد بن علی بن المثنی نے ہدبہ بن خالد کے حوالے سے حماد بن سلمہ سے خزاعی کی طرح حدیث روایت کی ہے اور اس میں ہدبہ کو شک نہیں ہے۔ سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ہارون بن عمران علیہما السلام فصیح اللسان، واضح البیان تھے۔ بہت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ گفتگو کرتے اور بردباری کے ساتھ عالمانہ کلام کیا کرتے تھے۔ ان کا قد سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے لمبا اور ویسے بھی آپ موسیٰ علیہ السلام سے عمر میں بھی بڑے تھے اور ان سے زیادہ جسیم تھے۔ ان کا رنگ بھی موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ سفید تھا اور ان کی تختیاں بھی زیادہ تھیں جبکہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگت کے گول جسامت والے شنوءۃ (علاقے) مردوں کی طرح تھے اور اللہ تعالیٰ نے جس کو بھی نبی بنا کر مبعوث فرمایا، اس کے داہنے بازو پر نبوت کی نشانی رکھی، سوائے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کی مہر نبوت آپ کے کندھوں کے درمیان تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا بھی گیا تو آپ نے فرمایا: یہ مہر جو میرے کندھوں کے درمیان ہے یہ مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی نشانیاں ہیں کیونکہ میرے بعد نہ کوئی نبی آ سکتا ہے نہ رسول۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4148]
حدیث نمبر: 4149
فحدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا الحسن بن سفيان وعِمران بن موسى الجُرْجاني وأحمد بن علي بن المُثنَّى، قالوا: حدثنا هُدْبة بن خالد، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، نحو حديث الخُزاعي، ولم يَشُكَّ فيه هُدبةُ (3) .
ہمیں یہ حدیث ابوعلی الحافظ نے بیان کی، انہوں نے حسن بن سفیان، عمران بن موسیٰ الجرجانی اور احمد بن علی بن مثنیٰ سے، انہوں نے ہدبہ بن خالد سے اور انہوں نے حماد بن سلمہ سے خزاعی کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، اور ہدبہ کو اس میں کوئی شک نہیں تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4149]
حدیث نمبر: 4150
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: كان هارون بن عِمران فَصِيحَ اللسان بَيِّنَ المَنْطِق، يَتكلَّم في تُؤَدَةٍ، ويقولُ بعِلْمٍ وحِلْمٍ، وكان أطولَ من موسى طُولًا، وأكبرَهما في السِّنِّ، وكان أكثرَهما لَحْمًا وأبيضَهُما جِسْمًا وأغلظَهما ألواحًا، وكان موسى رَجُلًا جَعْدًا آدَمَ طُوالًا كأنه من رجال شَنُوءة، ولم يَبعَثِ اللهُ نبيًّا إلَّا وقد كانت عليه شامَةُ النبوة في يده اليُمْنَى إلَّا أن يكون نبيُّنا محمد ﷺ، فإنَّ شامةَ النبوة قد كانت بين كَتِفَيه، وقد سئل نبيُّنا ﷺ عن ذلك فقال:"هذه الشامةُ التي بين كَتِفَيَّ شامةُ الأنبياءِ قَبْلي، لأنه لا نَبيَّ بعدي ولا رسولَ" (1) .
وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ ہارون بن عمران (علیہ السلام) فصیح زبان اور واضح گفتگو والے تھے، وہ ٹھہر ٹھہر کر کلام فرماتے اور علم و بردباری کے ساتھ بات کرتے تھے۔ وہ قد میں موسیٰ (علیہ السلام) سے طویل تھے اور عمر میں ان سے بڑے تھے۔ وہ جسمانی طور پر ان سے زیادہ بھرے ہوئے، رنگت میں زیادہ سفید اور چوڑی ہڈیوں والے تھے۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) گھنگھریالے بالوں والے، گندمی رنگت اور دراز قد تھے گویا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں۔ اور اللہ نے ایسا کوئی نبی نہیں بھیجا جس کے دائیں ہاتھ پر مہرِ نبوت نہ ہو، سوائے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرِ نبوت دونوں کندھوں کے درمیان تھی۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہر جو میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہے، مجھ سے پہلے کے انبیاء (کے ہاتھوں) کی مہر کی طرح ہے (جو یہاں منتقل کر دی گئی) کیونکہ میرے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی رسول“۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4150]