🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. ذِكْرُ أَيُّوبَ بْنِ أَمُوصَ نَبِيِّ اللَّهِ الْمُبْتَلَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر — حضرت ایوب کے ماتھے پر لکھا تھا: آزمائش میں مبتلا صابر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4158
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثني مروان بن جعفر السَّمُري، حدثني حُميد بن مُعاذ، حدثنا مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذَكْوان، عن الحسن بن أبي الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب، عن كعب، قال: كان أيوب بن أموص نبيَّ الله الصابرَ الذي جَلَبَ عليه إبليسُ عدوُّ الله بجُنودِه وخَيلِه ورَجِلِه لِيَفتِنُوه ويُزيلُوه عن ذكر الله، فعصمَه اللهُ، ولم يجد إبليسُ إليه سبيلًا، فألقى اللهُ على أيوبَ السكينةَ والصبْرَ على بلائه الذي ابتلاهُ به، فسمّاه اللهُ: ﴿صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ [ص: 44] ، وكان أيوب رجُلًا طويلًا، جَعْدَ الشعر، واسعَ العَينَين، حسَنَ الخَلْقِ، وكان على جَبِينِه مكتوبٌ: المُبتلَى الصابر، وكان قصِيرَ العُنُق، عريضَ الصَّدر، غليظَ الساقَين والساعِدَين، وكان يُعطي الأرامِلَ ويَكسُوهُم، جاهدًا ناصحًا لله ﷿ (1) . قال الحاكم: قد اختلفوا في أيوب أنه في أيِّ وقت أُرسل، فقال وهب بن مُنبِّه: إنه من ولد إبراهيم بعد يوسف، وقال محمد بن إسحاق بن يسار: حدثني مَن لا أتَّهِمُ عن وهب: أنه أيوب بن أمُوص بن رَزاح بن عِيصا بن إسحاق بن إبراهيم، وذُكر عن محمد بن جَرير أنه كان قبل شعيب، وقد احتجَّ أبو بكر بن [أبي] خَيْثَمة أنه كان بعد سليمان بن داود، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4113 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ایوب بن اموص علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے وہ صابر نبی تھے جن کو آزمائش میں ڈالنے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکنے کے لئے شیطان نے اپنی پیادہ اور سوار تمام فوجیں چڑھا ڈالیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی اور شیطان کو آپ کے فتنہ میں مبتلا کرنے کی جانب کوئی راہ نہ ملی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب سے سیدنا ایوب علیہ السلام پر نازل کردہ آزمائش میں، ان پر سکینہ اور صبر نازل فرمایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ (ص: 30) کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا کے لقب سے نوازا۔ سیدنا ایوب علیہ السلام دراز قد تھے۔ آپ کے بال سیدھے، آنکھیں کشادہ تھیں، آپ حسن اخلاق کے پیکر تھے، آپ کی پیشانی مبارک پر لکھا ہوا تھا المبتلی الصابر آپ کی گردن چھوٹی تھی اور سینہ چوڑا تھا، کہنیاں اور پنڈلیاں بھری ہوئی تھیں، آپ رضائے الٰہی کی خاطر مساکین پر مہربانی کرتے اور انہیں کپڑے وغیرہ پہناتے تھے۔ نوٹ: امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس سلسلہ میں اختلاف ہے کہ سیدنا ایوب بن اموص علیہ السلام کو کون سے زمانے میں رسول بنا کر بھیجا گیا۔ سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور سیدنا یوسف علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ اور محمد بن اسحاق بن یسار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک غیر متہم شخص نے سیدنا وہب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان سنایا ہے کہ وہ ایوب بن اموص بن رزاخ بن عیصا بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل ہیں۔ محمد بن جریر کا موقف ہے کہ وہ سیدنا شعیب علیہ السلام سے پہلے تھے جبکہ ابوبکر بن خیثمہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آپ سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام سے پہلے تھے۔ (واللہ اعلم) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4158]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4159
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرني علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران عن ابن عبّاس: أنَّ امرأة أيوبَ قالت له: قد والله نزلَ بى من الجَهْدِ والفاقَةِ ما أن بِعْتُ قَرْني (2) برغيف فأطعمْتُك، فادْعُ الله أن يَشفيَك، قال: ويحكِ، كنا في النَّعماء سبعين عامًا، فنحنُ في البلاء سبعَ سنين (3) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ایوب علیہ السلام کی زوجہ نے آپ سے کہا: خدا کی قسم مجھ پر مشقت اور فاقہ مستی کی یہ کیفیت ہو چکی ہے، میرے رشتہ دار کوئی روٹی کا ٹکڑا بھیجتے ہیں تو میں وہ آپ کو کھلاتی ہوں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کو شفاء عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا: تیرا ستیاناس ہو، ہم ستر سال آسائشوں میں بھی تو رہے ہیں، اس لئے اب ستر سال آزمائش میں بھی (اللہ کا شکر ادا کر کے) گزارو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4159]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں