المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
56. ذِكْرُ بَلَاءِ أَيُّوبَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش کا بیان
حدیث نمبر: 4160
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد إملاءً، حدثنا أحمد بن مِهْران حدثنا سعيد بن الحكم بن أبي مريم، حدثنا نافع بن يزيد، أخبرني عُقَيل بن خالد، عن ابن شِهَاب، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ أيوبَ نبيَّ الله لَبِثَ به بَلاؤُه خمسَ عشرة سنةً، فرفَضَه القريبُ والبعيدُ، إلّا رجلَين من إخوانه، كانا من أخَصِّ إخوانِه، قد كانا يَغدُوان إليه ويَرُوحان، فقال أحدُهما لصاحبِه ذاتَ يوم: تَعلَمُ، والله لقد أذنب أيوبُ ذنْبًا ما أذنَبَه أحدٌ من العالمين، فقال له صاحبُه: وما ذاك؟ قال: منذ ثمانيةَ عشرَ سنةً لم يرحمْه اللهُ فيكشفَ عنه ما به، فلما راحا إلى أيوبَ لم يَصبِرِ الرجلُ حتى ذَكَر له ذلك، فقال أيوبُ: لا أدري ما تقول، غيرَ أنَّ الله يعلمُ أني كنتُ أمُرُّ بالرجُلَين يَتنازَعان يَذكُران الله، فأرجعُ إلى بيتي فأُكفِّرُ عنهما كراهيةَ أن يُذكَر اللهُ إلَّا في حَقٍّ، وكان يَخرُج لحاجته، فإذا قضى حاجتَه أمسكتِ امرأتُه بيدِه حتى يَبلُغَ، فلما كان ذاتَ يوم أبطأَ عليها، فأوحَى اللهُ إلى أيوبَ في مكانِه أنِ ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ [ص: 42] ، فاستبطأتْه، فتَلقَّتْه يَنْضُو (1) ، وأقبلَ عليها قد أذهبَ اللهُ ما به من البَلاء، وهو أحسنُ ما كان، فلما رأتْه قالت: أيْ بارَكَ اللهُ فيكَ، هل رأيتَ نبيَّ الله هذا المبتلَى؟ واللهِ على ذاك ما رأيتُ رجلًا أشبَهَ به منكَ إذ كان صحيحًا، قال: فإني أنا هُو، قال، وكان له أنْدَرَانِ: أنْدَرٌ للقمح، وأنْدَرٌ للشعير، فبعث الله سحابتَين، فلما كانت إحداهُما على أندرِ القَمْح أفرغَتْ فيه الذَّهَبَ حتى فاضَ، وأفرغتِ الأُخرى في أنْدَرِ الشعير الوَرِقَ حتى فاضَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4115 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4115 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا ایوب علیہ السلام (جو کہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے) 15 سال آزمائش میں رہے۔ اس دوران آپ کے قریب و بعید (کے تمام تعلق دار) آپ کو چھوڑ گئے۔ آپ کے صرف دو رشتہ دار جو کہ آپ کے خاص الخاص رشتہ دار تھے، وہ صبح شام آپ کے پاس آتے تھے۔ ایک دن ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم جانتے ہیں کہ یقیناً ایوب علیہ السلام نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے جو پوری دنیا میں کسی نے نہیں کیا ہو گا۔ اس کے ساتھی نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: آج سے اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہ کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی آزمائش ختم فرما دی تو جب وہ دونوں شام کے وقت آپ کے پاس آئے تو وہ آدمی وہ بات آپ سے کہنے سے نہ رہ سکا تو سیدنا ایوب علیہ السلام نے اس سے فرمایا: جو کچھ تم نے کہا ہے وہ مجھے تو معلوم نہیں ہے تاہم اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے دو جھگڑنے والے آدمیوں میں فیصلہ کیا تھا، وہ دونوں اللہ کی قسمیں کھا رہے تھے۔ پھر میں اپنے گھر چلا گیا تاکہ ان دونوں کی جانب سے کفارہ ادا کروں کیونکہ مجھے یہ بات ناپسند تھی کہ ناحق اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی جائے۔ سیدنا ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کے لئے باہر جایا کرتے تھے اور فراغت کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ آپ کو سہارا دے کر واپس گھر لاتی تھیں۔ ایک دن آپ نے کافی دیر لگا دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی کہ زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ نہانے اور پینے کے لئے ٹھنڈا چشمہ ہے۔ آپ کی زوجہ نے بھی دیر محسوس کی۔ پھر وہ ان سے ملیں تو وہ بھی ان کی طرف متوجہ ہوئے تو ان کی تمام بیماری اللہ تعالیٰ نے ختم فرما دی تھی اور آپ پہلے کی طرح خوبصورت تھے۔ جب آپ کی زوجہ نے آپ کو دیکھا تو بولیں: اے فلاں! اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا ایوب علیہ السلام کو کہیں دیکھا ہے؟ خدا کی قسم! تیری شکل و صورت ان کی صحت کے زمانے کی صورت سے بالکل ملتی جلتی ہے، وہ بولے: میں ہی تو وہ ہوں۔ آپ کے دو کھلیان تھے ایک گندم کا اور ایک جو کا۔ اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے ان میں سے ایک گندم کے کھلیان پر سایہ فگن ہوا اور اس پر سونا برسایا اور دوسرا بادل جو کے ڈھیر پر آیا اور اس نے اس پر چاندی برسائی۔ حتیٰ کہ وہ بہہ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4160]