🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. مُدَّةُ قِيَامِ النَّبِيِّ بِمَكَّةَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ
ہجرت سے پہلے مکہ میں نبی کریم ﷺ کے قیام کی مدت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4301
أخبرنا أبو الصّقر أحمد بن الفَضْل الكاتب بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين بن دِيْزِيل، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر الخزاميّ، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن عمرو بن دينار، قال: قلتُ لِعُرُوة بن الزُّبير: كم لبثَ النبيُّ ﷺ بمكّة؟ قال: عشرَ سنين، قلت: فإنَّ ابن عبّاس يقول: لبثَ بِضْعَ عشرةَ حِجَّةً، قال: إنما أخذَه من قول الشاعر؛ قال سفيانُ: حدثنا يحيى بن سعيد قال: سمعت عجوزًا من الأنصار تقول: رأيتُ ابن عبّاس يَختلِف إلى صِرْمةَ بن قَيس يتعلَّم منه هذه الأبيات: ثَوَى في قريش بِضْعَ عشرةَ حِجَّةً … يُذكَّر لو أَلْفَى (1) صديقًا مُواتِيا ويَعرِضُ في أهلِ المَواسِمِ نفسَه … فلم يَرَ مَن يُؤوي ولم يَرَ داعِيا فلما أتانا واستقرّت به النَّوى … وأصبحَ مسرورًا بطَيْبةَ راضِيا وأصبحَ ما يَخشى ظُلَامةَ ظالمٍ … بعيدٍ وما يَخشى من الناس باغِيا بَذلْنا له الأموالَ مِن جُلِّ مالِنا … وأنفسَنا عند الوَغَى والتأسِّيا نُعادِي الذي عادَى مِن الناسِ كُلِّهم … بحقٍّ وإن كان الحبيبَ المُواتِيا ونعلمُ أن الله لا شيءَ غيرُه … وأنَّ كتاب الله أصبحَ هادِيا (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وهو أَولى ما تقومُ به الحُجّة على مُقامِ سيدنا المصطفى ﷺ بمكةَ بضْعَ عشرةَ سنةً. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4255 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کتنا عرصہ مکہ میں رہے؟ انہوں نے کہا: دس سال۔ میں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما تو کہتے ہیں: دس اور کچھ حج۔ (یعنی دس سال سے کچھ عرصہ زیادہ) رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: انہوں نے (یہ) نتیجہ شاعر کے اشعار سے اخذ کیا ہو گا۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: یحیی بن سعید کا بیان ہے کہ ایک انصاری خاتون کہا کرتی تھیں کہ میں نے کئی مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو صرمہ بن قیس کے پاس یہ اشعار سیکھنے کے لئے آتے دیکھا ہے۔ آپ قریش میں دس حج اور کچھ عرصہ ٹھہرے ہیں، ذکر کرتا اگر کوئی موافقت کرنے والا دوست پاتا۔ وہ حج کے موقعوں پر اپنے آپ کو پیش کرتا لیکن کوئی ایسا نہ ملتا جو ٹھکانہ دیتا اور نہ کوئی بلانے والا نظر آتا۔ جب وہ ہمارے پاس آ گیا اور اس کے دل کو قرار آ گیا تو وہ طیبہ کی سرزمین پر راضی اور مسرور ہو گیا۔ اور ظالم کے جس ظلم کا اور لوگوں کی بغاوت کا جو خدشہ تھا وہ بھی ہو گیا۔ ہم نے لڑائی اور تسلی کے ہر موقع پر اپنا مال اور اپنی جانیں ان پر قربان کی ہیں۔ ہم ہر اس شخص کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں جو حق کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے اگرچہ وہ پہلے ہمارا کتنا ہی موافقت کرنے والا دوست ہی کیوں نہیں تھا۔ ہم جانتے ہیں ایک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں ہے اور بے شک اس کی کتاب ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکۃ المکرمہ میں دس سالوں سے کچھ زیادہ قیام پر بہت اچھی دلیل ہے۔ (نوٹ): اور اس کی ایک شاہد حدیث بھی ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے۔ وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4301]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4302
حدَّثَناه أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا حجّاج بن مِنْهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن عمار بن أبي عمار، عن ابن عبّاس قال: أقام النبيُّ ﷺ بمكة خمس عشرة سنة، سبعًا وثمانيًا يرى الضَّوءَ ويسمعُ الصوتَ، وأقام بالمدينة عشرًا (1) . ﷽ وصلَّى الله على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم تسليمًا كثيرًا [كتاب الهجرة] وقد صحَّ أكثرُ أخبارها عند الشيخين، وأخرجا جميعًا اختلاف الصحابة ﵃ في مُقام رسول الله ﷺ بمكة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4256 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (اعلان نبوت کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پندرہ سال رہے، یعنی سات جمع آٹھ، (اور ان میں ایسا بھی وقت گزرا) جب آپ (روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے) آپ روشنی دیکھ سکتے تھے (باہر سے آنے والی) آواز سن سکتے تھے اور مدینۃ المنورہ میں دس سال رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 4302]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں