🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. ذِكْرُ مَقَامَاتِ مُرُورِ النَّبِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْهِجْرَةِ
ہجرت کے دوران نبی کریم ﷺ کے گزرنے کے مقامات کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4318
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا مسروق بن المرزبان، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، قال: قال ابن إسحاق: حدثني محمد بن جعفر بن الزبير ومحمد بن عبد الرحمن بن عبد الله بن حصين (1) ، عن عُروة بن الزبير، عن عائشة، قالت: لما خرج رسول الله ﷺ من الغار إلى الله تعالى مهاجرًا، ومعه أبو بكر وعامر بن فهيرة مُردِفه أبو بكر خَلْفَه، وعبد الله بن أُريقِط الليثي، فَسَلَك بهما أسفل من مكة، ثم مضى بهما حتى هَبَط بهما على الساحل أسفل من عُسفان، ثم استجاز بهما على أسفل أمج، ثم عارض الطريق بعد أن أجاز قديدًا، ثم سَلَكَ بهما الخرّار (2) ، ثم أجازَهُما ثَنِيَّةَ المَرَة (3) ، ثم سَلَكَ لَفْتا (4) ، ثم أجاز بهما مَدْلَجةَ لِقْفٍ، ثم استبطَنَ بهما مَدْلَجة مَجَاحٍ (5) ، ثم سَلك بهما مَرْجِح (6) ، ثم ببطن مَرْجِح من ذي الغَضَوَين (7) ، ثم ببطن ذي كِشد، ثم أخذ الجداجد (1) ، ثم سلك ذي سَلَمٍ من بطن أعداء (2) مَدْلَجة، ثم أحدَرَ القاحَةَ، ثم هَبَط العَرْجَ، ثم سلك ثَنيّة الغائر عن يمين رَكُوبة، ثم هبط بطن رِئمٍ، فَقَدِمَ قُباءً على بني عمرو بن عوف (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4272 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں غار سے نکل کر ہجرت کا سفر آگے بڑھایا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اور سیدنا عبداللہ بن اریقط لیثی رضی اللہ عنہ پیچھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہمراہ مکہ کے نشیبی علاقے سے روانہ ہوئے اور چلتے چلتے عسفان کے ساحل پر جا نکلے۔ پھر امج سے گزرتے ہوئے قدید سے آگے نکل کر یہ راستہ چھوڑ دیا اور حجاز کا رخ کیا اور ثنیۃ المرار سے ہوتے ہوئے حفیاء پہنچے، پھر ثقف، صحاح، مذحج اور ذی الغض سے ہوتے ہوئے ذی کشد آئے، پھر جباجب، ذی سلم، قاحہ سے ہوتے ہوئے عرج میں آئے، پھر وہاں سے دائیں جانب ثنیۃ الغائر سے گزر کر ریم سے ہوتے ہوئے قباء میں بنی عمرو بن عوف کے پاس پہنچے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4318]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4319
حدثنا أبو بكر بن إسحاق [أخبرنا محمد بن غالب] (4) حدثنا أبو الوليد، حدثنا عبيد الله بن إياد بن لَقِيط، حدثنا إياد بن لَقِيط، عن قيس بن النعمان قال: لما انطلق النبي ﷺ وأبو بكر مُستَخْفِيين، مرُّوا بعبد يرعى غنمًا، فاستسقياه من اللبن فقال: ما عندي شاةٌ تُحلَبُ غيرَ أنَّ هاهنا عَناقًا حَمَلتْ أول الشتاء، وقد أَخدَجَتْ، وما بقي لها لَبنٌ، فقال:"ادْعُ بها"، فدعا بها، فاعتقلها النبيُّ ﷺ وَمَسَحَ ضَرْعَها، ودعا حتى أنزلَتْ، قال: وجاء أبو بكر بمَجَنٍّ، فحلب فسقى أبا بكر، ثم حَلَبَ فسقى الراعي: ثم حَلَبَ فشرب، فقال الراعي: بالله مَن أنتَ، فوالله ما رأيتُ مِثلَك قَطُّ؟ قال:"أوَتَراك تكتُم عَليَّ حتى أُخبرك؟" قال: نعم، قال:"فإني محمد رسول الله" فقال: أنت الذي تزعم قريش أنه صابئ؟، قال: إنهم ليقولون ذلك" قال: فأشهد أنك نبي، وأشهد أنَّ ما جئتَ به حقٌّ، وأنه لا يفعل ما فعلت إلا نبي، وأنا مُتبعك، قال:"إنك لن تستطيع ذلك يومك، فإذا بَلَغَك أني قد ظهرت فأتِنا" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4273 - صحيح
سیدنا قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مستخف ہو کر (مکہ سے) نکلے۔ (مستخف اس آدمی کو کہتے ہیں جس کو اس کی قوم نے حقیر جانا ہو) تو ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا، وہ بکریاں چرا رہا تھا۔ انہوں نے اس سے دودھ مانگا، اس نے کہا: اس وقت میرے پاس دودھ دینے والی صرف ایک یہی بکری ہے اور یہ بھی سردیوں کے شروع میں حاملہ ہو گئی تھی لیکن اس نے بچہ گرا دیا تھا، اور اب یہ دودھ نہیں دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ، وہ اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ٹانگ کو اپنی ٹانگ اور ران کے درمیان دبا لیا اور اس کے تھنوں پر ہاتھ لگایا اور دعا مانگی، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور دعا کی برکت سے) اس بکری کا دودھ اتر آیا۔ (راوی) کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈھال لے آئے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں) اس کو دوہا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا اور اس کو دوہا، پھر چرواہے کو بلایا اور پھر دوہا۔ سب نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ چرواہا بولا: تجھے خدا کی قسم ہے تم مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو؟ خدا کی قسم! میں نے آپ جیسا انسان کبھی نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میری راز داری رکھو تو میں تمہیں بتاؤں گا (کہ میں کون ہوں) اس نے راز داری کی حامی بھر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے کہا: اچھا تم ہی ہو وہ شخص جس کے بارے میں قریش کا گمان ہے کہ وہ صابی (ستارہ) پرست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک وہ لوگ ایسے ہی کہتے ہیں۔ اس نے کہا: تو میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ نبی ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ جو کچھ لائے ہیں سب حق ہے۔ اور جو کمال آپ نے کر کے دکھایا ہے یہ نبی کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اور بے شک میں آپ کے ہمراہ چلوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تو تمہارا ہمارے ساتھ جانا مناسب نہیں ہے البتہ جب تمہیں میرے غلبہ کی خبر مل جائے تب ہمارے پاس چلے آنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْهِجْرَةِ/حدیث: 4319]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں