🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. ذِكْرُ مَا أُصِيبَ ثَنَايَا أَبِي عُبَيْدَةَ عِنْدَ إِخْرَاجِ حَلْقِ الْمِغْفَرِ عَنْ وَجْنَتَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
غزوۂ اُحد میں حضرت سعدؓ کی تیر اندازی اور نبی کریم ﷺ کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4360
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق (3) ، عن عثمان بن عبد الرحمن، عن عائشة بنت سعد، عن أبيها سعد بن أبي وقاص، قال: لما جالَ الناسُ عن رسول الله ﷺ تلك الجولة يوم أُحُدٍ، تَنحَّيتُ، فقلت: أذُودُ عن نفسي، فإما أن أستشهَد، وإما أن أنجو حتى ألقى رسول الله ﷺ، فبينا أنا كذلك إذا برجُلٍ مُخَمِّرٍ وجهَه ما أَدري مَن هو، فأقبل المُشركون حتى قلتُ: قد رَكِبُوه، ملأ يده من الحصى، ثم رمى به في وجوههم فتنكَّبوا على أعقابهمُ القَهْقَرى، حتى يأتُوا الجَبَلَ، ففعل ذلك مرارًا، ولا أدري من هو وبيني وبينه المقدادُ بن الأسود، فبينا أنا أُريدُ أن أسأل المقداد عنه إذ قال المِقدادُ: يا سعدُ، هذا رسول الله ﷺ يَدعوك، فقلت: وأين هو؟ فأشار لى المقداد إليه، فقمت وكأنه لم يُصِبْني شيءٌ من الأذى، فقال رسول الله ﷺ:"أين كنتَ اليومَ يا سعدُ؟" فقلتُ: حيث رأيت يا رسول الله، فأجلسني أمامه، فجعلْتُ أرمي وأقولُ: اللهم سهمُك فازم به عَدُوَّك، ورسولُ الله ﷺ يقول:"اللهم استجب لسعدٍ، اللهم سَدِّد لسعد رَمْيتَه، إيها سعدُ، فداك أبي وأمي"، فما من سهمٍ أرمي به إِلَّا قالَ رسولُ الله ﷺ:"اللهمَّ سَدِّدْ رَمْيته، وأجِبْ دعوته، إيهًا سعدُ"، حتى إذا فرغتُ مِن كِنانتي نَثَرَ رسول الله ﷺ ما في كنانته فنَبَلَني سَهمًا نَضِيًّا، قال: وهو الذي قد رِيْشَ، وكان أشدَّ من غيره (1) . قال الزُّهْري: إنَّ السِّهام التي رمَى بها سعدٌ يومئذٍ كانت ألف سهمٍ.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4314 - على شرط مسلم
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے منتشر ہو گئے تو میں ایک طرف ہٹ گیا اور میں نے سوچا کہ میں اپنا دفاع خود کرتے ہوئے (آگے بڑھوں) حتی کہ یا تو میں شہید ہو جاؤں یا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاؤں۔ (میں نے آگے بڑھنا شروع کر دیا) اسی دوران میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے۔ ادھر مشرکوں نے پیش قدمی شروع کر دی حتی کہ میں نے سوچا کہ وہ اس آدمی پر حملہ کر دیں گے۔ اس نے اپنے ہاتھ میں کنکریاں لیں اور ان (مشرکین) کے چہروں پر پھینک دیں، تو وہ انہیں قدموں پر پیچھے ہٹ گئے حتی کہ وہ یہاں تک پہنچ گئے۔ اس نے کئی مرتبہ اسی طرح کیا، مجھے ابھی تک بھی پتہ نہ تھا کہ یہ کون ہے، اس وقت میرے اور اس کے درمیان سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں مقداد سے اس کے بارے میں پوچھنا ہی چاہتا تھا کہ مقداد خود ہی بول پڑے: اے اسود! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ میں پوچھا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ تو مقداد نے مجھے اشارے سے بتا دیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ گیا لیکن مجھے کسی قسم کا کوئی زخم نہیں آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! آج تم کہاں تھے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں آپ دیکھ رہے تھے۔ آپ نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، میں نے تیر اندازی شروع کر دی اور ساتھ ہی یہ دعا بھی مانگ رہا تھا اے اللہ! یہ تیرا تیر ہے، تو یہ اپنے دشمن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شمن کو مار ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں کہتے تھے اے اللہ! سعد کی دعا قبول فرما، اے اللہ! سعد کا نشانہ ٹھیک لگا ۔ اے سعد! بالکل ٹھیک (کر رہے ہو) تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، میں جب بھی تیر پھینکتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے اے اللہ! اس کا نشانہ ٹھیک لگا، اس کی دعا قبول فرما۔ سعد بالکل ٹھیک (کر رہے ہو) حتی کہ میرا ترکش خالی ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ترکش جھاڑ کر ایک نضیب مجھے تھما دیا (راوی) کہتے ہیں: نضیب اس تیر کو کہتے ہیں جو پر کے بغیر ہو۔ تاہم یہ دوسروں کی بہ نسبت زیادہ سخت ہوتا ہے۔ زہری کہتے ہیں: اس دن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پورے ایک ہزار تیر برسائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4360]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4361
حدثني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا مِنْجاب بن الحارث، حدثني علي بن أبي بكر الرازي، حدثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، عن موسى بن طلحة، عن عائشة، قالت: قال أبو بكر الصديق: لما جالَ الناسُ عن رسول الله ﷺ يومَ أُحُدٍ كنتُ في أول من فاءَ إليه، فبَصُرتُ به من بُعدٍ، فإذا أنا برجلٍ قد اعتَقَبني مِن خَلْفي مثلَ الطَّير، يريدُ رسول الله ﷺ، فإذا هو أبو عُبيدة بن الجراح، وإذا أنا برجُل يرفَعُه مرةً ويَضَعُه أخرى، فقلتُ: أما إذْ أخطأني أن أكون أنا هو، ويجيءُ طلحة، فداك أبي وأمي (1) ، فانتهينا إليه، فإذا طلحةُ يرفعُه مرّةً ويَضعُه أخرى، وإذا بطلحة ستٌّ وستون جراحةً، وقد قَطَعت إحداهن أَكْحَلَه، فإذا رسول الله ﷺ قد ضُرِب على وَجْنَتَيه، فلَزْقَت حَلْقَتان من حَلَقِ المِغْفَر في وجنتيه، فلما رأى أبو عُبيدة ما برسول الله ﷺ، ناشَدَني الله لَمَا أَن خَلَّيتَ بيني وبين رسول الله ﷺ، فانتهز إحداهما بثنِيَّته، فمَدْها فنَدَرَتْ ونَدَرَتْ ثَنيَّتُه، ثم نَظَر إلى الأخرى، فناشَدَني الله لَمَا أَن خَليتَ بيني وبين رسول الله ﷺ، فانتهزها بالثنيَّة الأخرى، فمَدَّها، فنَدَرَتْ ونَدَرَتْ ثَنيَّته، فكان أبو عُبيدة أَثْرَمَ الثَّنايا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4315 - ابن إسحاق متروك
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن جب لوگ تتر بتر ہو گئے تو سب سے پہلے میں آپ کے پاس پہنچا۔ تو میں نے دور سے دیکھا کہ ایک آدمی میرے پیچھے سے پرندے کی طرح لپکتا آ رہا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ رہا تھا یہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر میں نے ایک اور آدمی کو دیکھا وہ کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا لیتا اور کبھی چھوڑ دیتا تھا، میں نے سوچا کہ مجھے موقع ملا تو میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوں گا اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچوں گا۔ یہ سوچتے ہوئے ہم ان کے قریب پہنچے تو وہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اٹھا لیتے تھے اور کبھی چھوڑ دیتے تھے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو 66 زخم آ چکے تھے اور ان کے بازو کی ایک رگ بھی کٹ چکی تھی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کے رخسارے زخمی تھے اور خود کی دو کڑیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار مبارک میں پیوست ہو چکی تھیں، جب سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت دیکھی تو انہوں نے مجھے اللہ کی قسم دے کر کہا کہ میں اس کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان سے ہٹ جاؤں، پھر انہوں نے اپنے دانتوں سے پکڑ کر ایک کڑی کو کھینچا، کڑی تو نکل گئی لیکن ساتھ ساتھ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا ایک دانت بھی ٹوٹ گیا، پھر انہوں نے دوسری کڑی دیکھی تو پھر مجھے قسم دے کر کہا کہ میں اس کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان سے ہٹ جاؤں۔ انہوں نے دوسرے دانت کے ساتھ دوسری کڑی کو کھینچا (اب کی بار بھی) کڑی نکل گئی اور ان کا دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا۔ چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اثرم الثنایا تھے (اثرم الثنایا اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے سامنے والے دونوں دانت جڑ سے ٹوٹے ہوئے ہوں) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4361]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4362
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: فحدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن جده، أنَّ الزُّبير بن العوام قال: والله لقد رأيتُني انظر إلى [خَدَم] (1) هند بنتِ عُتبة وصواحِباتِها مُشمِّراتٍ هَواربَ، ما دونَ أَخْذِهِنّ قليلٌ ولا كثيرٌ، إِذْ مالَتِ الرُّماةُ إلى العسكر حين (2) كشفنا القومَ عنه يُريدُون النَّهْب، وخَلَّوا ظَهْرَنا للخَيلِ، فأُتِينا من أدبارنا، وصرح صارخٌ: ألا إنَّ محمدًا قد قُتِلَ، فانكفأنا وانكفأ القومُ بعد أن أصبنا اللواء حتى ما يَدنُو منه أحدٌ من القوم (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4316 - على شرط مسلم
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خدا کی قسم! میں نے ہند بنت عتبہ اور اس کی ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ تھوڑی یا زیادہ کوئی بھی چیز لئے بغیر تیزی سے دوڑی جا رہی تھیں اور تیر انداز میدان جنگ میں آ گئے حتی کہ ہم نے قوم کو وہاں سے بھگا دیا، یہ لوگ مال غنیمت لوٹنے کا ارادہ رکھتے تھے اور انہوں نے ہماری پشت گھڑ سواروں کے لئے خالی چھوڑ دی تو ہماری پشت کی جانب سے ہم پر حملہ ہو گیا۔ ادھر ایک آدمی نے چیخ کر کہا: خبردار! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو شہید کر دیا گیا ہے۔ (یہ خبر سن کر) ہم منتشر ہو گئے اور قوم بھی منتشر ہو گئی۔ حالانکہ اس سے پہلے ہم علم تک پہنچ چکے تھے۔ اس کے بعد پوری قوم میں سے کوئی بھی علم کے قریب نہ پہنچ سکا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4362]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں