المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. شَهَادَةُ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ وَدُخُولُهُ الْجَنَّةَ وَلَمْ يُصَلِّ صَلَاةً
حضرت عمرو بن قیسؓ کی شہادت اور بغیر نماز پڑھے جنت میں داخل ہونا
حدیث نمبر: 4363
أخبرني محمد بن محمد بن الحسن القارِزِيّ (2) ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ عمرو بن أُقيش كان له رِبًا في الجاهلية، وكان يمنعُه ذلك الرِّبا من الإسلام، حتى يأخُذَه ثم يُسلِم، فجاء ذات يوم ورسول الله ﷺ وأصحابه بأحدٍ، فقال: أين سعد بن معاذ، فقيل: بأحدٍ، فقال: أين بنُو أخيه؟ فقيل: بأحدٍ، فسأل عن قومه، فقالوا: بأحدٍ، فأخذ سيفه ورُمحَه، ولبس لأمته، ثم ذهب إلى أُحدٍ، فلما رأوه المسلمون، قالوا: إليك عنا يا عَمْرو، قال: إني قد آمنتُ، فَحَمَلَ فقاتل، فحُمِلَ إلى أهلِه جريحًا، فدخل عليه سعدُ بن مُعاذ، فقال له: جئت غضبًا الله ولرسوله، أم حَمِيّةً وغَضَبًا لقومك؟ فقال: بل جئتُ غَضَبًا الله ولرسوله. فقال أبو هريرة: فدخل الجنة وما صلَّى اللهِ صلاةً (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4317 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4317 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن اقییش کا دورِ جاہلیت کا کچھ سود لوگوں کے ذمہ واجب الادا تھا اور یہی سود انہیں اسلام قبول کرنے سے روک رہا تھا تاکہ وہ اسے پہلے وصول کر لیں اور پھر اسلام لائیں، وہ ایک دن آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مقامِ احد پر موجود تھے، انہوں نے پوچھا کہ سعد بن معاذ کہاں ہیں؟ بتایا گیا کہ احد میں، پھر پوچھا کہ ان کے بھتیجے کہاں ہیں؟ کہا گیا کہ احد میں، پھر اپنی قوم کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے کہا کہ وہ بھی احد میں ہیں، پس انہوں نے اپنی تلوار اور نیزہ پکڑا، زرہ پہنی اور احد کی طرف روانہ ہو گئے، جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا کہ اے عمرو! ہم سے دور رہو، انہوں نے جواب دیا کہ میں ایمان لا چکا ہوں، پھر انہوں نے بھرپور حملہ کیا اور قتال کیا یہاں تک کہ زخمی حالت میں اپنے گھر والوں کی طرف لائے گئے، سیدنا سعد بن معاذ ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی خاطر غصے میں آئے تھے یا اپنی قوم کی حمیت اور غیرت میں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی خاطر غصے میں آیا تھا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو گئے حالانکہ انہوں نے اللہ کے لیے ایک بار بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4363]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4363]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 4363] [ترقيم الشركة 4340] [ترقيم العلميه 4317]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4364
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عاصم بن عُمر بن قتادة، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن أبيه قال: سمعت رسول الله ﷺ إِذا ذَكَرَ أصحابَ أُحدٍ يقول:"أما واللهِ لَوَدِدتُ أني غُودِرتُ مع أصحابي نُحْصَ الجبل"، يقول: قُتِلتُ معهم (1) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی احد کے ساتھیوں کا تذکرہ کرتے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے تھے: ”اللہ کی قسم! میری تو یہ تمنا تھی کہ میں بھی اپنے صحابہ کے ساتھ پہاڑ کے دامن میں چھوڑ دیا جاتا (یعنی وہیں شہید ہو جاتا)۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4364]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق. وهو مكرر الحديث المتقدم برقم (2438).» [ترقيم الرساله 4364] [ترقيم الشركة 4341]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4365
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا القُرشي، حدثني علي بن شُعيب، حدثنا ابن أبي فديك، أخبرني سليمان بن داود، عن أبيه، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، أنَّ أباه علي بن الحسين حدثه عن أبيه: أنَّ فاطمة بنت النبي ﷺ كانت تَزُورُ قبرَ عَمِّها حمزة بن عبد المطلب في الأيام، فتُصلِّي وتبكي عنده (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4319 - سليمان بن داود مدني تكلم فيه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4319 - سليمان بن داود مدني تكلم فيه
امام علی بن حسین اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا (مختلف) دنوں میں اپنے چچا سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کے لیے جایا کرتی تھیں، وہاں نماز ادا کرتیں اور روتی تھیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4365]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4365]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كما تقدم بيانه برقم (1412).» [ترقيم الرساله 4365] [ترقيم الشركة 4342] [ترقيم العلميه 4319]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف