🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. اسْتِجَارَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عِنْدَ عُثْمَانَ وَشَفَاعَتُهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبد اللہ بن ابی سرح کا حضرت عثمانؓ کے پاس پناہ لینا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ان کی سفارش کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4408
حدَّثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا أبو داود سليمان بن الأَشْعث، حدَّثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدّثني أحمد بن المفضّل، حدَّثنا أسباطُ ابن نَصْر، قال: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عن مُصعب بن سَعْد، عن سعدٍ قال: لما كان يومُ فتح مَكةَ اختَبأ عبدُ الله بن سَعْد بن أبي سَرْحٍ عند عثمان بن عفان، فجاءَ به حتى أوقَفَه على النبيّ ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، بايعْ عبدَ الله، فرفع رأسَه فنَظَر إليه ثلاثًا، ثم أقبَلَ على أصحابِه، فقال:"أما كان فيكُم رجلٌ رَشِيدٌ يقومُ إلى هذا حين رآني كَفَفْتُ يدي عن بَيعَتِه فيَقْتُلَه؟" فقالوا: ما نَدري يا رسول الله ما في نفسك، ألَا أَومأْتَ إلينا بعَينِك؟ فقال:"إنه لا يَنبَغي لِنبي أن تكون له خائنةُ الأَعيُنِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4360 - على شرط مسلم
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب مکہ کی فتح کا دن تھا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، پھر سیدنا عثمان اسے لے کر آئے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور تین بار اس کی طرف دیکھا، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی ایسا نہ تھا جو اس وقت کھڑا ہوتا جب اس نے دیکھا کہ میں نے اس سے بیعت لینے کے لیے اپنا ہاتھ روک لیا ہے، اور اسے قتل کر دیتا؟ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں نہیں معلوم تھا کہ آپ کے دل میں کیا ہے، آپ نے ہمیں اپنی آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ اس کی آنکھیں خائن یعنی اشارہ کرنے والی ہوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4408]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أسباط بن نَصْر والسُّدِّي: واسمه إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كَريمة. وهو في "سنن أبي داود" (2683) و (4359).» [ترقيم الرساله 4408] [ترقيم الشركة 4385] [ترقيم العلميه 4360]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4409
حدثناه بكر بن محمد الصيرفي بمَرْو، حدَّثنا إبراهيم بن هلال، حدَّثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدَّثنا الحُسين بن واقِد، عن يزيد النَّحوي، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: كان عبدُ الله بن أبي سَرْح يكتب لرسولِ الله ﷺ، فأزلَّه الشيطان فلَحِقَ بالكُفّار، فأمر به رسولُ الله ﷺ أن يُقتل، فاستجارَ له عثمانُ فأجارَه رسولُ الله ﷺ (2) . صحيح على شرط البخاريّ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4361 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (وحی) لکھا کرتے تھے، پھر شیطان نے انہیں لغزش میں مبتلا کر دیا اور وہ کافروں سے جا ملے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے پناہ طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دے دی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4409]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن هلال» [ترقيم الرساله 4409] [ترقيم الشركة 4386] [ترقيم العلميه 4361]

الحكم على الحديث: حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4410
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني شُرَحْبيل بن سَعْد، قال: نزلتْ في عبد الله بن أبي سَرْحٍ: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ﴾ [الأنعام: 93] ، فلما دخَلَ رسولُ الله ﷺ مكةَ فَرَّ إلى عثمان بن عفان، وكان أخاه من الرَّضاعة، فَغَيَّبه عنده حتى اطمأن أهل مكة، ثم أتى به رسول الله ﷺ فاستأمَنَ (1) . قال الحاكم: قد صحّتِ الرواية في الكتابَين (2) أنَّ رسول الله ﷺ أمرَ قبلَ دخولِه مكةَ بقتلِ عبد الله بن سَعْد وعبد الله بن خَطَل، فمن نَظَر في مَقتَل أمير المؤمنين عثمان بن عفّان وجِنايات عبد الله بن سَعْد عليه بمصر إلى أن كان من أمرِه ما كان، عَلِمَ أَنَّ النبيّ ﷺ كان أعرفَ به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4362 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
شرحبیل بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سرح کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ﴾ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا یہ کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو، اور جو یہ کہے کہ میں بھی ویسا ہی کلام نازل کر دوں گا جیسا اللہ نے نازل کیا ہے [سورة الأنعام: 93] ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف بھاگ گیا، وہ ان کے رضاعی بھائی تھے، انہوں نے اسے اپنے پاس چھپائے رکھا یہاں تک کہ اہل مکہ کو اطمینان ہو گیا، پھر وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور انہوں نے امان طلب کی۔
امام حاکم فرماتے ہیں: دونوں کتابوں (بخاری و مسلم) میں یہ روایت صحیح ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے عبداللہ بن سعد اور عبداللہ بن خطل کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پس جو شخص امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور مصر میں عبداللہ بن سعد کی ان کے خلاف کی گئی زیادتیوں پر نظر ڈالے گا یہاں تک کہ ان کا جو انجام ہوا سو ہوا، وہ جان لے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان (کے شر) سے سب سے زیادہ واقف تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4410]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف شُرَحْبيل بن سَعْد، وهو تابعي فخبره هذا مُرسَل، على أنَّ قصة ابن أبي سرح قد صحَّت من غير هذا الطريق كما في الحديثين المتقدمين قبله.» [ترقيم الرساله 4410] [ترقيم الشركة 4387] [ترقيم العلميه 4362]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف شُرَحْبيل بن سَعْد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں