🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. قِصَّةُ إِسْلَامِ أَبِي قُحَافَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حضرت ابو قحافہؓ کے اسلام لانے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4411
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدَّثنا يحيى بن عَبّاد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه عَبّاد بن عبد الله، عن أسماء بنت أبي بكر الصِّدِّيق، قالت: لما كان عامُ الفَتحِ ونزلَ رسولُ الله ﷺ ذا طُوى، قال أبو قُحافةَ لابنةٍ له - وكانت أصغرَ ولدِه -: أي بُنيّةُ، أَشْرفي بي على أبي قُبَيس - وقد كُفَّ بصرُه - فأشرفَتْ به عليه، فقال: أي بُنيّةُ، ماذا تَرَين؟ قالت: أرى سَوادًا مجتمِعًا، وأَرى رجلًا يشتدُّ (3) بين ذلك السَّواد مُقبِلًا [ومُدبِرًا] (1) ، فقال: تلك الخَيلُ يا بُنيّة، ثم قال: ماذا تَرَين؟ فقالت: أرى السَّواد قد انتشَرَ، فقال: إذًا واللهِ دُفِعَتِ الخَيلُ، فأسرِعى بي يا بُنيّةُ إلى بيتي، فَخَرجَتْ سريعًا حتى إذا هَبَطَتْ به إلى الأبْطَحِ؛ وكان في عنقها طَوقٌ لها من وَرِق، فاقتطعه إنسانٌ من عُنُقِها، فلما دخل رسولُ الله ﷺ المسجدَ خرجَ أبو بكر حتى جاءَ بأبيهِ يَقُودُه، فلما رآه ﷺ قال:"هَلَا تَركْتَ الشيخَ في بَيتِه حتى أَجِيئَه" فقال: يَمْشي هو إليكَ يا رسول الله أحقُّ مِن أن تمشيَ إليه، فأجلَسَه بين يَدَيه، ثم مَسَحَ رسولُ الله ﷺ صَدْرَه، وقال:"أسلِمْ تَسلَمْ" فأسلَمَ، ثم قامَ أبو بكر فأخذَ بيدِ أُختِه، فقال: أَنشُدُ باللهِ والإسلامِ طَوقَ أُختي، فواللهِ ما جاء به أحدٌ، ثم قال الثانيةَ: أنشُدُ باللهِ والإسلامِ طَوقَ أُختي، فما جاء به أحدٌ، فقال: يا أُخيّةُ، احتَسِبي طَوقَكِ، فواللهِ إِنَّ الأمانةَ في الناس لَقليلٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4363 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی طوی میں تشریف لے آئے تو سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سے کہا: اے بیٹی! مجھے ابوقبیس (پہاڑ) پر لے جاؤ۔ اس وقت سیدنا ابوقحافہ کی بینائی زائل ہو چکی تھی۔ وہ ان کو ابوقبیس پہاڑ پر لے گئی۔ ابوقحافہ نے پوچھا: بیٹی! تم کیا دیکھ رہی ہو؟ اس نے کہا: میں ایک بہت بڑا مجمع دیکھ رہی ہوں اور اس بڑے مجمع کے آگے آگے ایک آدمی آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا: اے بیٹی! یہ لشکر ہے۔ پھر پوچھا: بیٹی! تمہیں کیا دکھائی دے رہا ہے؟ اس نے کہا: میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ مجمع بکھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا: خدا کی قسم! اب لشکر منتشر ہو گیا ہے۔ تم مجھے جلدی جلدی گھر لے چلو، وہ جلدی جلدی چلنا شروع ہوئی جب وہ ابطح میں پہنچے تو ان کے گلے کا چاندی کا ہار کسی نے چھین لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گئے اور اپنے والد کو ساتھ لے آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: تم اس بزرگ کو گھر رہنے دیتے اور میں خود چل کر اس کے پاس چلا آتا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا چل کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونا زیادہ اچھا تھا بہ نسبت آپ کے اس کے گھر جانے سے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: مسلمان ہو جا، سلامت رہے گا تو وہ مسلمان ہو گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوئے اور اس کے ہار چھینے جانے کا اعلان کیا لیکن کسی نے بھی وہ پیش نہ کیا۔ انہوں نے دوسری مرتبہ پھر اعلان کیا لیکن پھر بھی وہ ہار کسی سے نہ مل سکا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میری بہن! اپنے ہار سے تو ہی صبر کر لے۔ کیونکہ لوگوں میں امانت داری (کا جذبہ بہت) کم ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4411]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں