المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
31. دُخُولُ النَّاسِ فِي الْإِسْلَامِ أَفْوَاجًا بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ
فتح مکہ کے بعد لوگوں کا جوق در جوق اسلام میں داخل ہونا
حدیث نمبر: 4412
حدَّثنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطُّوسي، حدَّثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدَّثنا سليمان بن حَرْب، حدَّثنا حماد بن زيد، حدَّثنا أيوب، حدَّثنا أبو قِلابة، عن عَمرو بن سَلِمةَ، ثم قال: هو حيٌّ، ألا تَلْقاهُ فتسمعَ منه، فلقيتُ عَمرًا، فحدّثني بالحديث، قال: كنا بممرِّ الناسِ فتُحدِّثُنا الرُّكبانُ، فنسألُهم ما هذا الأمرُ، وما لِلناس؟ فيقولون: نبيٌّ زَعَمَ أَنَّ الله تعالى أرسلَه، وأنَّ الله أوحَى إليه كذا وكذا، وكانت العربُ تَلَوَّمُ بإسلامها الفتحَ، ويقولون: انظُروه، فإن ظهرَ فهو نبيٌّ فصَدِّقُوه، فلما كانَ وقعةُ الفتحِ بادَرَ كلُّ قومٍ بإسلامهم، فانطَلقَ أبي بإسلامهم إلى رسول الله ﷺ، فقَدِم فأقامَ عنده كذا وكذا، ثم جاء مِن عنده فتلقَّيناهُ، فقال: جئتُكم من عند رسول الله حَقًّا، وإنه يأمرُكم بكذا وكذا، فإذا حَضَرتِ الصلاةُ فليُؤذِّنْ أحدُكم وليَؤمَّكُم أكثرُكم قرآنًا، فنَظَروا فلم يَجِدُوا أكثرَ قُرآنًا مني، فقدَّموني، وأنا ابن سبعِ سنين أو ستِّ سنين، فكنتُ أصلِّي فإذا سجدتُ تَقلّصتْ بُردةٌ عليَّ، قال: تقولُ امرأَةٌ من الحيّ: غَطُّوا عنّا اسْتَ قارِئِكم، قال: فكُسِيتُ مُعَقَّدَةً من مُعَقَّد البَحرَينِ (1) بستةِ دراهمِ أو سبعةٍ، فما فَرِحتُ بشيءٍ كَفَرَحي بذلك (2) . قد روى البخاريّ هذا الحديث عن سليمان بن حَرْبٍ مختصرًا فأخرجتُه بطوله!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4364 - أخرج البخاري بعضه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4364 - أخرج البخاري بعضه
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم اس مقام پر رہتے تھے جہاں سے عام لوگوں کا گزر ہوتا تھا، پس گزرنے والے قافلے ہمیں خبریں سناتے تھے اور ہم ان سے دریافت کرتے تھے کہ یہ نبوت کا کیا معاملہ ہے اور لوگوں کی کیا صورتحال ہے؟ وہ بتاتے تھے کہ ایک شخص ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ اس پر فلاں فلاں وحی نازل کرتا ہے، جبکہ دیگر عرب قبائل اپنے اسلام لانے کو فتحِ مکہ سے مشروط کیے ہوئے تھے اور کہتے تھے کہ انہیں ان کی قوم کے حال پر چھوڑ دو، اگر وہ ان پر غالب آ گئے تو وہ سچے نبی ہیں پس ان کی تصدیق کر لینا، چنانچہ جب فتحِ مکہ کا واقعہ رونما ہوا تو ہر قوم نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی، میرے والد بھی اپنی قوم کے اسلام کا پیغام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، وہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد جب وہ واپس آئے تو ہم ان سے ملنے گئے، انہوں نے بتایا: میں تمہارے پاس اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان ان باتوں کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے: ”جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے اور تمہاری امامت وہ شخص کرے جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو۔“ لوگوں نے جب غور کیا تو مجھ سے بڑھ کر کسی کو قرآن کا حافظ نہ پایا، چنانچہ انہوں نے مجھے امامت کے لیے آگے کر دیا جبکہ میری عمر صرف چھ یا سات سال تھی، میں انہیں نماز پڑھاتا تھا اور جب میں سجدے میں جاتا تو میری چھوٹی سی چادر اوپر کی طرف سمٹ جاتی تھی، اس پر قبیلے کی ایک خاتون نے کہا: ”اپنے قاری کی پشت تو ہم سے چھپاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: پھر مجھے بحرین کا بنا ہوا ایک لباس چھ یا سات درہم میں خرید کر پہنایا گیا، مجھے اپنی زندگی میں کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی تھی جتنی اس لباس کے ملنے پر ہوئی۔
امام بخاری نے اس حدیث کو سلیمان بن حرب سے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے جبکہ میں نے اسے یہاں مکمل تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4412]
امام بخاری نے اس حدیث کو سلیمان بن حرب سے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے جبکہ میں نے اسے یہاں مکمل تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4412]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني، وأبو قِلابة: هو عبد الله بن زيد الجَرْمي.» [ترقيم الرساله 4412] [ترقيم الشركة 4389] [ترقيم العلميه 4364]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4413
أخبرني دَعلَج بن أحمد السِّجْزي، حدَّثنا أحمد بن علي الأبّار، حدَّثنا عبد الله بن أبي بكر المُقدَّمي، حدَّثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن أنس، قال: دخلَ رسولُ الله ﷺ مكةَ يومَ الفتحِ وذَقَنُه على رَحْلِه مُتخشِّعًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4365 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4365 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے دن مکہ مکرمہ میں اس شان سے داخل ہوئے کہ عاجزی و انکساری کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھوڑی مبارک کجاوے کے ساتھ مس ہو رہی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4413]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4413]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن أبي بكر المُقدَّمي، وقد تفرد به عن جعفر بن سليمان ذلك صححه الذهبي في "تاريخ الإسلام" 1/ 370 مع أنه أورده في "الميزان" في منكرات عبد الله بن أبي بكر المقدّمي، وقد قال ابن عدي في "الكامل" بعد أن أورده في ...» [ترقيم الرساله 4413] [ترقيم الشركة 4390] [ترقيم العلميه 4365]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 4414
حدَّثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن صاعِد، حدَّثنا إسماعيل بن أبي الحارث، حدَّثنا جعفر بن عَوْن، حدَّثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس، عن أبي مسعودٍ: أَنَّ رجلًا كَلَّم النبيّ ﷺ يومَ الفتح، فأخذَتْه الرِّعْدةُ، فقال النبي ﷺ: هَوِّنْ عليكَ، فإنما أنا ابن امرأةٍ من قُريش كانت تأكُلُ القَدِيدَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4366 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4366 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت سے) اس پر کپکپی طاری ہو گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نہایت شفقت سے) فرمایا: ”اپنے آپ پر نرمی کرو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ میں تو قریش کی ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا ہوا گوشت (قدید) کھایا کرتی تھی“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4414]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4414]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد اختُلف في وصله وإرساله كما قدَّمنا بيانه برقم (3775)، وأحمد بن محمد بن صاعد متابَع.» [ترقيم الرساله 4414] [ترقيم الشركة 4391] [ترقيم العلميه 4366]
الحكم على الحديث: حديث صحيح