المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. حِكَايَةُ قُدُومِ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ عِنْدَ النَّبِيِّ وَإِسْلَامِهِ
ضمام بن ثعلبہ کا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آنا اور اسلام قبول کرنا
حدیث نمبر: 4428
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني محمد بن الوليد، عن كُريب مولى ابن عبّاس، عن ابن عبّاس قال: بَعَثَت بنو سعد بن بكر ضِمَامَ بن ثَعْلبة إلى رسول الله ﷺ، فقَدِمَ علينا، فأناخَ بعيرَه على باب المسجد فعقَلَه، ثم دخل على رسول الله ﷺ وهو في المسجد جالسٌ مع أصحابه، فقال: أيُّكم ابن عبد المطَّلِب؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"أنا ابن عبد المطَّلب" فقال: محمدٌّ؟ قال:"نعم" قال: يا محمدُ، إني سائِلُك ومُغلِظٌ عليك في المَسألة، فلا تَجِدنَّ عليَّ في نفسِك، فإني لا أجِدُ في نفسي، قال:"سَلْ عمَّا بَدا لكَ" قال: أنشُدُك الله إلهَكَ وإلهَ مَن قبلَك وإلهَ مَن هو كائنٌ بعدَك، آللهُ بعثَك إلينا رسولًا؟ فقال:"اللهمَّ نعم" قال: أنشُدُك الله إلهَك وإلهَ مَن قبلَك وإلهَ مَن هو كائنٌ بعدَك، آللهُ أمرك أن نَعْبُدَه لا نشركَ به شيئًا، وأن نَخْلعَ هذه الأوثانَ والأنداد التي كان آباؤنا يَعبُدون؟ فقال ﷺ:"اللهمَّ نَعَم"، ثم جعل يَذكُر فرائضَ الإسلامِ فَريضةً فَريضةً: الصلاةَ والزكاةَ والصيامَ والحجَّ وفرائضَ الإسلام كلَّها، يَنشُدُه عند كُلِّ فَريضةٍ كما أَنشَدَه (1) في التي كان قبلها، حتى إذا فَرَغَ قال: فإني أشهد أن لا إله إلا الله وأنك عبده ورسوله، وسأؤدي هذه الفرائضَ، واجتنب ما نهيتني عنه، لا أزيد ولا أَنقُصُ، ثم انصرف راجعًا إلى بعيره، فقال رسول الله ﷺ حين ولى:"إن يَصدُقْ ذو العَقِيصتَين يَدخُلِ الجنة"، وكان ضمامٌ رِجلًا جَلْدًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرتَين. ثم أتى بَعِيرَه، فأطلقَ عِقالَه حتى قدم على قومِه، فاجتمعوا إليه، فكان أولُ ما تَكلَّم به وهو يَسُبُّ اللاتَ والعُزّى، فقالوا: مَهْ يا ضِمامُ اتَّقِ البَرَصَ والجُذَامَ والجُنون، فقال: وَيْلَكُم، إنهما واللهِ ما يَضُرَّانِ ولا ينفعانِ، إن الله قد بعث رسولًا وأنزل عليه كتابًا استنقذكُم به مما كنتُم فيه، وإني أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وإني قد جئتُكم من عنده بما أمَرَكُم به ونَهاكُم عنه، فواللهِ ما أمسَى ذلك اليومَ من حاضِرَتِه رجلٌ ولا امرأةٌ إلَّا مسلمًا (2) . قال ابن عبّاس: فما سَمِعْنا بوافدِ قومٍ كان أفضلَ من ضِمَام بن ثَعْلبة (3) . قد اتفق الشيخان على إخراج وُرُود ضِمامٍ المدينةَ (1) ، ولم يسُق واحدٌ منهما الحديثَ بطُولِه، وهذا صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4380 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4380 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تو وہ ہمارے پاس آیا، اس نے مسجد کے دروازے پر اپنا اونٹ بٹھایا اور اس کو باندھ دیا۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے کہا: تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہوں عبدالمطلب کا بیٹا۔ اس نے کہا: محمد؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: اے محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں، تو اگر میرے لہجے میں سختی پائیں تو آپ اس کو محسوس مت کیجئے گا۔ کیونکہ وہ سختی میرے دل میں نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: تم جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو۔ اس نے کہا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جو تمہارا معبود ہے اور تم سے پہلوں کا معبود ہے۔ اور ان سب کا معبود ہے جو تمہارے بعد ہوں گے۔ کیا اللہ نے تم کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جو تمہارا معبود ہے، تم سے پہلے لوگوں کا معبود ہے اور ان تمام لوگوں کا معبود ہے جو تمہارے بعد ہوں گے۔ کیا اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم صرف اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور یہ کہ ہم ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کیا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر اس نے فرائض اسلام، نماز، روزہ، حج اور زکاۃ میں سے ایک کا نام لے کر ہر ایک کے ساتھ اسی طرح قسمیں دے دے کر سوال کئے، جب وہ تمام سوالات سے فارغ ہوا تو بولا: میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں ان فرائض پر عمل کروں گا۔ اور ان چیزوں سے رکوں گا جن سے آپ نے مجھے منع فرمایا ہے۔ نہ ان میں اضافہ کروں گا اور نہ ان میں کمی کروں گا پھر وہ واپس اپنے اونٹ کی طرف پلٹ گیا۔ جب وہ واپس جا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس دو چوٹیوں والے نے سچ کہا ہے تو یہ جنتی ہے۔ سیدنا ضمام طاقتور اور گھنے بالوں والے آدمی تھے اور یہ اپنے بالوں کی دو چوٹیاں رکھتے تھے۔ پھر وہ اپنے اونٹ کے پاس آئے، اپنا اونٹ کھولا اور اپنی قوم کے پاس آ گئے، سب لوگ ان کے اردگرد جمع ہو گئے۔ انہوں نے گفتگو شروع کرتے ہوئے لات اور عزی کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ لوگوں نے کہا: اے ضمام! بس کر۔ تو برص، جذام، اور جنون (جیسی مہلک بیماریوں سے) بچ۔ ضمام نے کہا: تمہارے لئے ہلاکت ہو، خدا کی قسم! بے شک یہ تمہیں نہ کوئی فائدہ دے سکتے ہیں نہ کوئی نقصان دے سکتے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا ہے اور اس پر ایسی کتاب اتاری ہے جو تمہیں اس (کفر و طغیان) سے بچاتی ہے۔ جس (کی دلدل) میں تم پھنسے ہوئے ہو اور بے شک میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور میں تمہارے پاس وہ چیز لایا ہوں جس میں انہوں نے تمہیں کچھ کام کرنے کے بتائے ہیں۔ اور کچھ سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے خدا کی قسم اس دن جتنے لوگ وہاں موجود تھے شام سے پہلے پہلے سب مرد عورتیں مسلمان ہو چکی تھیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کسی قوم کا سفیر نہیں سنا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا ضمام کے مدینہ منورہ میں آنے کا تذکرہ تو کیا ہے تاہم ان دونوں میں سے کسی نے بھی اس تفصیل کے ساتھ حدیث نقل نہیں کی۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4428]