المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. فَضِيلَةُ أَرْضِ الشَّامِ .
سرزمینِ شام کی فضیلت
حدیث نمبر: 4554
أخبرني محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني أبو عبد الله، حَدَّثَنَا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم بن العلاء الزُّبَيدي، حدثني عمرو بن الحارث الزُّبَيدي، حدثني عبد الله بن سالم الأشعَري، حدثني محمد بن الوليد بن عامر الزُّبَيدي، حَدَّثَنَا راشد بن سعد، أنَّ أبا راشِد حدثهم، يرُدُّه إلى مَعدِي كَرِبَ بن عبد كُلال، أنَّ عبد الله بن عمرو بن العاص قال: سافَرْنا مع عمر بن الخطاب آخر سَفْرةٍ إلى الشام، فلما شارفَها أُخبِر أنَّ الطاعونَ فيها، فقيل له: يا أمير المؤمنين، لا ينبغي لك أن تَهجُمَ عليه، كما أنه لو وقَعَ وأنت بها ما كان لك أن تَخرُجَ منها، فرجَع مُتوجهًا إلى المدينة، قال: فبَينا نحن نسيرُ بالليل إذ قال لي: اعرِضْ عن الطَّريق، فعَرَض وعَرضْتُ، فنزلَ عن راحِلَته، ثم وَضَع رأسَه على ذِراع جمَلِه، فنام ولم أستطع أنامُ، ثم ذهب يقول لي: ما لي ولهم رَدُّوني عن الشام! ثم ركبَ فلم أسأله عن شيء، حتَّى إذا ظننتُ أنّا مُخالِطو الناسِ قلتُ له: لِمَ قلتَ ما قلتَ حين انتبهتَ من نَومِك؟ قال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليُبعَثَنَّ مِن بين حائطِ حمصَ والزيتونِ في البَرْث (1) الأحمر سبعون (2) ألفًا ليس عليهم حِسابٌ"، ولئِن رَجَعني اللهُ من سفري هذا لأحتمِلنّ عِيالي وأهلي ومالي حتَّى أنزلَ حمصَ، فرجع مِن سفره ذلك، وقُتل، رضوان الله عليه (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4504 - بل منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4504 - بل منكر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آخری سفر میں جو کہ شام کی طرف تھا، ان کے ہمراہ تھے جب وہاں پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے۔ آپ سے عرض کی گئی: اے امیرالمومنین! آپ کو وہاں نہیں جانا چاہئے جیسا کہ اگر آپ وہاں موجود ہوتے اور طاعون آتا تو آپ کو وہاں سے نکلنا جائز نہ ہوتا۔ تو آپ مدینہ منورہ کی طرف واپس ہو لئے، اسی سفر کے دوران ہم رات کے وقت سفر میں تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: یہ راستہ چھوڑ دو، یہ کہہ کر آپ راستہ سے ہٹ گئے اور میں بھی ہٹ گیا۔ آپ اپنی سواری سے نیچے اترے اور اپنے اونٹ کی کوہان پر سر رکھ کر سو گئے، لیکن مجھے نیند نہ آئی، پھر آپ مجھ سے فرمانے لگے: میں نے ان کا کیا بگاڑا تھا کہ انہوں نے مجھے شام سے واپس کر دیا۔ پھر آپ سوار ہو گئے، میں آپ سے کچھ بھی پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا حتی کہ جب مجھے یقین ہو گیا کہ میں قافلہ میں پہنچ چکا ہوں تو میں نے عرض کی: آپ نے بیدار ہو کر جو کچھ کہا تھا اس کی وجہ کیا تھی؟ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ” حمص کی دیوار اور زیتون کے درمیان سرخ مٹی میں سے ستر ہزار آدمی قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔ ان سے حساب نہیں لیا جائے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سفر سے بخیر و عافیت واپس لوٹا دیا تو میں اپنے اہل و عیال اور مال و متاع سمیت آ کر حمص میں رہائش پذیر ہو جاؤں گا۔ لیکن آپ اس سفر سے واپس آتے ہی شہید کر دیئے گئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4554]