المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
174. وَمِنْهُمُ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورِ بْنِ صَخْرِ بْنِ خَنْسَاءَ
ان میں سے سیدنا براء بن معرور بن صخر بن خنساء رضی اللہ عنہ ہیں — نقیبوں میں سب سے پہلے گفتگو کرنے والے سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے
حدیث نمبر: 4891
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن محمد بن إسحاق، قال: حدثني الحُصين بن عبد الرحمن بن سعد بن معاذٍ أخو بني عبد الأشهَل (1) ، عن محمود بن لَبيدٍ أخي بني عبد الأشهَل (1) ، قال: لما قَدِمَ أبو الحَيْسَر أنس بن رافع مكةَ، ومعه فِتيةٌ من بني عبد الأشهل فيهم إياس بن معاذ، يَلتمِسُون الحِلْفَ من قريش على قومهم من الخزرج، فسمع بهم رسولُ الله ﷺ فأتاهم فجلس إليهم، فقال:"هل لكم إلى خيرٍ ممّا جئتُم له؟" قالوا: وما ذاك؟ قال:"أنا رسولُ الله، بَعَثني الله إلى العباد أدعُوهم إلى أن يعبدوا الله ولا يُشرِكوا به شيئًا، وأنزلَ عليَّ الكتاب"، ثم ذكرُ لهم الإسلامَ، وتلا عليهم القرآنَ، فقال إياس بن معاذ وكان غلامًا حَدَثًا: أيْ، قومِ هذا واللهِ خيرٌ ممّا جئتُم له، قال: فيأخُذُ أبو الحَيْسَر حفنةً من البَطْحاء، فضرب بها وجهَ إياس بن معاذ وقال: دَعْنا منك، فلَعَمْرِي لقد جئنا لِغيرِ هذا، فصَمَت إياسٌ، فقام رسولُ الله ﷺ فانصرفوا إلى المدينة، فكانت وقعةُ بُعاثٍ بين الأوس والخَزرج، قال: ثم لم يَلبَث إياسُ بن مُعاذ أن هَلَكَ. قال محمود بن لَبيد: فأخبرني من حَضَره مِن قومي عند موته: أنهم لم يزالوا يسمعونه يُهلِّل الله ويُكبِّرُه ويَحمده ويُسبِّحُه حتى مات قال: فما كانوا يشُكُّون أن قد مات مسلمًا، لقد كان استشعرَ الإسلامَ في ذلك المجلسِ حين سمعَ من رسولِ الله ﷺ ما سمعَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ومنهم: البراء بن مَعْرُور بن صخر بن خَنْساء أولُ نَقيبٍ كان في الإسلام ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4831 - مرسل
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ومنهم: البراء بن مَعْرُور بن صخر بن خَنْساء أولُ نَقيبٍ كان في الإسلام ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4831 - مرسل
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابو الحیسر انس بن رافع مکہ آئے اور ان کے ساتھ بنو عبد الاشہل کے چند نوجوان تھے جن میں ایاس بن معاذ بھی شامل تھے، وہ اپنی قوم خزرج کے خلاف قریش سے حلیف بننے کا معاہدہ کرنے آئے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر فرمایا: ”کیا تم اس مقصد سے بہتر چیز کی رغبت رکھتے ہو جس کے لیے تم آئے ہو؟“ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ نے مجھے اپنے بندوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے تاکہ میں انہیں اس بات کی دعوت دوں کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اس نے مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کے بارے میں بتایا اور قرآن تلاوت کر کے سنایا، تو ایاس بن معاذ نے، جو کہ ابھی نوعمر تھے، کہا: اے میری قوم! اللہ کی قسم، یہ اس مقصد سے کہیں بہتر ہے جس کے لیے تم یہاں آئے ہو، تو ابو الحیسر نے زمین سے مٹی کی ایک مٹھی بھر کر ایاس بن معاذ کے چہرے پر ماری اور کہا: ہمیں چھوڑو، میری عمر کی قسم ہم اس مقصد کے لیے نہیں آئے، پس ایاس خاموش ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے گئے اور وہ لوگ مدینہ واپس چلے گئے، پھر اوس اور خزرج کے درمیان جنگِ بعاث پیش آئی، راوی کہتے ہیں: اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ایاس بن معاذ کا انتقال ہو گیا۔ محمود بن لبید کہتے ہیں کہ مجھے میری قوم کے ان لوگوں نے بتایا جو ان کی وفات کے وقت وہاں حاضر تھے کہ وہ موت تک مسلسل اللہ کی تہلیل، تکبیر، حمد اور تسبیح بیان کرتے رہے، پس ان لوگوں کو اس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ وہ مسلمان ہو کر فوت ہوئے ہیں، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جو سنا تھا اس سے اسلام ان کے رگ و پے میں سما گیا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4891]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4891]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يَسَار المطلبي - والحصين بن عبد الرحمن فهما صدوقان حسنا الحديث، ومحمود بن لبيد صحابيٌّ صغير. وأخرجه أحمد 39 / (23619) من طريق إبراهيم بن سعد الزُّهْري، عن محمد بن إسحاق، به.» [ترقيم الرساله 4891] [ترقيم الشركة 4859] [ترقيم العلميه 4831]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4892
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بَطّة الأصبهاني، حدثنا الحسن بن جَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، عن محمد بن عمر، عن يحيى بن عبد الله بن أبي قَتَادة، عن أبيه، عن جده، قال: كان موتُ البَراء بن مَغرور في صَفَر قبل قُدوم النبي ﷺ بشهر. وكان أول من تكلم من النُّقَباء (1) .
یحییٰ بن عبد اللہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ کی وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے ایک ماہ قبل صفر کے مہینے میں ہوئی، اور وہ نقباء میں سے سب سے پہلے گفتگو کرنے والے شخص تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4892]
تخریج الحدیث: «محمد بن عمر» [ترقيم الرساله 4892] [ترقيم الشركة 4860]
الحكم على الحديث: محمد بن عمر