المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
196. ذِكْرُ إِسْلَامِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے اور ابو جہل کی اذیت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4938
أخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني عبد الله بن جعفر المَخْرمي (1) ، عن أم بكر بنت المِسْور بن مَخْرمة، عن أبيها: أن آمنةَ بنت وَهْبٍ أُمَّ رسول الله ﷺ كانت في حَجْر عمِّها أُهَيب بن عبد مَناف بن زُهْرة، وإنَّ عبد المطّلب بن هاشم جاء بابنه عبد الله بن عبد المطّلب أبي رسول الله ﷺ، فتزوجَ عبدُ الله آمنةَ بنتَ وهْبٍ، وتزوّج عبد المطَّلب هالةَ بنتَ أُهَيب بن عبد مَناف بن زُهْرة، وهي أم حمزة بن عبد المطّلب في مجلس واحدٍ، وكان قريبَ السنِّ من رسولِ الله ﷺ، وأخوه (2) من الرِّضاعة (3) . ذكرُ إسلامِ حمزةَ بن عبد المطّلب
سیدنا ام بکر بنت المسور بن مخرمہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ سیدنا آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا، اپنے چچا اہیب بن عبد مناف بن زہرہ کی پرورش میں تھیں، سیدنا عبدالمطلب بن ہاشم اپنے بیٹے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد گرامی سیدنا عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لائے اور ان کے ساتھ سیدنا آمنہ بن وہب کا نکاح کر دیا اور اسی مجلد میں سیدنا عبدالمطلب نے خود اپنا نکاح ہالہ بنت اہیب بن عبد مناف بن زہرہ کے ساتھ کر لیا، یہی (ہالہ بنت عبداہیب) سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں۔ سیدنا حمزہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً ہم عمر ہی ہیں۔ اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4938]
حدیث نمبر: 4939
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: فحدثني رجلٌ من أسلَمَ - وكان واعيةً -: أنَّ أبا جهل اعترضَ لرسولِ الله ﷺ عند الصفا، فآذاهُ وشَتَمه، وقال فيه ما يَكرهُ من العَيب لِدينِه، والتضعيفِ له، فلم يُكلمه رسول الله ﷺ، ومولاةٌ لعبد الله بن جُدْعان التَّيمي في مَسكنٍ لها فوق الصفا تسمع ذلك، ثم انصرفَ عنه، فعَمَد إلى نادي قُريشٍ عند الكعبة، فجلس معهم، ولم يلبث حمزةُ بن عبد المطلب أن أقبل مُتوشّحًا قوسَه راجعًا من قَنْصٍ له، وكان إذا فعل (1) ذلك لم يَمرَّ على نادي قريش إلَّا وقف وسلّم، وتحدّث معهم، وكان أعزَّ قريش، وأشدَّها شَكِيمةً، وكان يومئذٍ مشركًا على دين قومه، فجاءته المولاةُ وقد قامَ رسولُ الله ﷺ ليرجعَ إلى بيته، فقالت له: يا أبا عُمارة، لو رأيتَ ما لقي ابن أخيك محمدٌ من أبي الحكم آنفًا، وجدَه هاهُنا فآذاهُ وشَتَمه وبلَغ ما يَكرَهُ، ثم انصرف عنه، ولم يُكلّمْه محمدٌ، فاحتملَ حمزةَ الغضبُ لما أراد الله من كرامتِه، فخرج سريعًا لا يقف على أحدٍ كما كان يصنعُ يريد الطواف بالبيتِ متعمِّدًا لأبي جهل أن يقع به، فلما دخل المسجدَ نَظَر إليه جالسًا في القوم فأقبل نحوه، حتى إذا قامَ على رأسِه رفعَ القوسَ فضرَبه على رأسِه ضربةً مملوءةً، وقامت رجالٌ من قريش من بني مَخْزوم إلى حمزة لِينصُروا أبا جهل، فقالوا: ما نراك يا حمزةُ إِلَّا صَبَأتَ؟ فقال: حمزةُ وما يَمنعُني وقد استبانَ لي ذلك منه، أنا أشهدُ أنه رسولُ الله وأنَّ الذي يقول حقٌّ، فوالله لا أنزِعُ فامنَعُوني إن كنتُم صادِقين، فقال أبو جهل: دَعُوا أبا عُمارة، لقد سبَبتُ ابنَ أخيه سبًّا قبيحًا، ومَرَّ حمزةُ على إسلامِه وتابع (1) رسولَ الله ﷺ، فلما أسلم حمزةُ علمت قريشٌ أنَّ رسولَ اللهِ ﷺ قد عَزَّ وَامتَنَعَ، وأَنَّ حمزةَ سيَمنعُه، فكَفُّوا عن بعض ما كانوا يتناولونه ويَنالُون منه، فقال في ذلك شِعرًا (2) حين ضَرَب أبا جهل، فذكر رَجَزًا غيرَ مُستقِرٍّ، أولُه: ذُق [يا] أبا جَهلٍ بما غَشِيتْ (3) قال: ثم رجع حمزةُ إلى بيتِه فأتاهُ الشيطانُ، فقال: أنت سيدُ قريشٍ اتبعتَ هذا الصابئ وتركتَ دِينَ آبائك، لَلْموتُ خيرٌ لك مما صنعتَ، فأقبلَ على حمزةَ بَثُّه (4) ، فقال: ما صنعتُ؟! اللهم إن كان رَشَدًا فاجعل تصديقَه في قلبي، وإلَّا فاجعل لي ممّا وقعتُ فيه مخرجًا، فبات بليلةٍ [لم يَبِتْ] (5) بمثلها من وسوسة الشيطان، حتى أصبح فغدا على رسول الله ﷺ فقال: ابنَ أخي، إني وقعتُ في أمرٍ لا أعرفُ المَخرجَ منه، وإقامةُ مثلي على ما لا أدري ما هو أرَشَدٌ هو أم غَيٌّ، شديدٌ، فحدِّثْني حديثًا فقد اشتَهيتُ يا ابن أخي أن تحدِّثَني، فأقبلَ رسولُ الله ﷺ فذكَّره ووعَظَه، وخَوَّفه وبَشَّره، فألقى اللهُ في نفسه الإيمانَ كما قال رسول الله ﷺ، فقال: أشهدُ إنك لَصادِقٌ شهادَة الصِّدق (1) والعارف، فأظهِرْ يا ابن أخي دِينَك، فوالله ما أُحبُّ أنَّ لي ما أظلَّتِ السماء (2) وإنِّي على دينيَ الأوّلِ. قال: فكان حمزةُ ممَّن أعزّ الله به الدِّينَ (3) .
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی اسلم کے ایک شخص نے ہمیں بتایا ہے کہ ابوجہل لعین کوہ صفا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑا ہوا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیفیں اور گالیاں دے رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کردار کشی کر رہا تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہ دیا۔ اور عبداللہ بن جدعان کی آزاد کردہ لونڈی کوہ صفا کے اوپر اپنی رہائش گاہ میں یہ سب سن رہی تھی۔ پھر ابوجہل وہاں سے نکل آیا اور کعبہ کے قریب قریش کی ایک مجلس میں آ کر بیٹھ گیا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ سیدنا عبداللہ بن عبدالمطلب اپنی کمان زیب تن کئے ہوئے شکار سے واپس لوٹے، اور آپ جب بھی شکار سے واپس لوٹتے تو گھر جانے سے پہلے کعبۃ اللہ کا طواف کرتے، پھر وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس ٹھہرتے، دعا سلام کے بعد ان کے پاس بیٹھ کر کچھ دیر بات چیت کرتے۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ قریش کے جوانوں میں سے سب سے زیادہ معزز اور غیور تھے۔ اور سیدنا حمزہ ابھی تک اپنی قوم کے دین پر قائم تھے، مشرک تھے۔ وہ لونڈی سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی (اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر جانے کے لئے روانہ ہو چکے تھے) اور کہنے لگی: اے ابوعمارہ! کاش کہ تم وہ حالات دیکھ لیتے جو ابوالحکم نے تیرے چچا زاد بھائی محمد کے ساتھ کیا ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے یہاں پر اس (بدبخت) کی ان سے ملاقات ہوئی اور اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکلیف دی اور گالیاں بکی ہیں، اور بہت برا بھلا کہا۔ پھر وہ یہاں سے کعبہ کے قریب بیٹھے ہوئے قریش کی ایک مجلس کی جانب چلا گیا ہے، اس پورے معاملہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو بہت غصہ آیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و کرامت ڈال دی تھی۔ آپ بہت جلدی کے ساتھ وہاں سے نکلے، اور جس طرح پہلے بیت اللہ کے طواف کے لئے جاتے ہوئے لوگوں کے پاس ٹھہرا کرتے تھے اس دن کسی کے پاس بھی نہیں ٹھہرے بلکہ ابوجہل کو تلاش کرتے ہوئے سیدھے مسجد حرام میں گئے، جب مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے ابوجہل پر نظر پڑ گئی، تو آپ سیدھے اسی کے پاس آئے، اس کے پاس کھڑے ہو کر اپنی کمان اس کے سر پر بہت زور سے ماری، بنی مخزوم کے کچھ لوگ ابوجہل کی حمایت میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑنے کے لئے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے حمزہ! ہمیں لگ رہا ہے کہ تم اپنا دین چھوڑ رہے ہو، سیدنا حمزہ نے فرمایا: مجھے کوئی روک سکتا ہے؟میرے اوپر یہ حقیقت آشکار ہو گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور بے شک جو کچھ وہ کہتے ہیں برحق ہے۔ خدا کی قسم! میں اس دین کو نہیں چھوڑتا ہوں، اگر تم سچے ہو تو مجھے روک کر دکھاؤ، ابوجہل نے کہا: ابوعمارہ کو چھوڑ دو، میں نے اس کے چچا زاد بھائی کو بہت غلیظ گالیاں دی ہیں۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اسلام پر قائم رہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آسانیاں پیدا کرتے رہے۔ جب سیدنا حمزہ مسلمان ہو گئے تو قریش کو یہ یقین ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقویت پا رہے ہیں، اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ان کا دفاع کریں گے اس لئے تم جو سازشیں مسلمانوں کے خلاف کر رہے تھے ان سے اب باز رہو، اسی سلسلہ میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا ہے جب ابوجہل کو پہلی ضرب لگائی تو غیر مستقرر جز میں جو کچھ کہا اس کا آغاز یوں کیا: ذق اباجھل بما غشیت راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر تشریف لائے، تو شیطان آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ قریش کے سردار ہیں، آپ نے اس صابی کی پیروی اختیار کر لی ہے اور اپنے آباء و اجداد کا دین چھوڑ دیا ہے، آپ نے جو کچھ کیا ہے اس سے تو موت بہتر ہے۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی: یا اللہ اگر میں ہدایت پر ہوں تو اس کی تصدیق میرے دل میں ڈال دے ورنہ میں جس میں مبتلا ہو چکا ہوں اس سے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے۔ آپ نے یہ رات اس قدر پریشانی میں گزاری کہ اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا تھا، ساری رات شیطانی وسوسے آتے رہے، جب صبح ہوئی تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے میرے بھتیجے! میں ایسے مخمصے میں پھنسا ہوا ہوں کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس سے کیسے جان چھڑاؤں، میں ایسے نظرئیے پر قائم نہیں رہ سکتا جس کے بارے میں مجھے یہ پتا ہی نہیں ہے کہ یہ راہ حق ہے یا گمراہی ہے۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی بات بتا دیں کہ جس سے مجھے اطمینان قلبی حاصل ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو وعظ و نصیحت فرمائی، کچھ خوشخبریاں سنائیں، کچھ ڈر سنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پند و نصائح کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ایمان مضبوط کر دیا۔ تب وہ بولے: میں ایک سمجھدار، مصدق کی طرح گواہی دیتا ہوں کہ آپ بے شک سچے ہیں۔ اس لئے اے میرے چچا کے بیٹے! آپ اپنے دین کو ظاہر کریں، خدا کی قسم! میں نہیں چاہتا کہ آج کا سورج طلوع ہو اور میں اپنے سابقہ دین پر ہوں۔ چنانچہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی بدولت اللہ تعالیٰ نے دین کو عزت بخشی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4939]