🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

304. رُجُوعُ خَالِدٍ وَإِخْوَتِهِ عَنْ أَعْمَالِهِمْ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائیوں کا اپنے عہدوں سے واپس آ جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5162
فأخبَرَناه أبو سعيد الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خَيّاط، حدثني الوليد بن هشام القَحْذَمي (1) ، عن أبيه، عن جده، قال: استُشْهِد يومَ مَرْجِ الصُّفَّر خالدُ بنُ سعيد بن العاص (2) . قال خليفة: وهو في سنة ثلاثَ عشرةَ، قال: وتوفي رسولُ الله ﷺ وهو عاملُه على اليمن (3) .
ولید بن ہشام مخزومی اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں: مرج الصفر کے دن سیدنا خالد بن سعید بن عاص شہید ہوئے۔ خلیفہ کہتے ہیں: یہ واقعہ تیرہویں سن ہجری کا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یمن کے گورنر تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5162]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5163
فحدثني أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حدثنا سَلْم بن جُنادة، حدثنا إبراهيم بن يوسف بن مَعمَر بن حمزة بن عمر بن سعد بن أبي وقّاص، حدثني خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد، حدثني أبي: أنَّ أعمامَه خالدًا وأبانًا وعمرَو بن سعيد بن العاص رَجَعُوا عن أعمالهم حين بلغَهم وفاةُ رسولِ الله ﷺ، فقال أبو بكر: ما أحدٌ أحقَّ بالعملِ من عُمّال رسولِ الله ﷺ، ارجِعُوا إلى أعمالِكم، فقالوا: لا نَعملُ بعدَ رسولِ الله ﷺ لأحدٍ، فخرجوا إلى الشام، فقُتِلوا عن آخِرِهم (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5085 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا خالد بن سعید بن عمرو بن سعید اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے چچا خالد اور ابان رحمۃ اللہ علیہ اور عمرو بن سعید بن عاص کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے (ان تمام) کاموں سے انکار کر دیا (جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں کیا کرتے تھے) تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال سے زیادہ کوئی شخص معاملات کا حق نہیں رکھتا، جاؤ اپنے ذمہ داری کے کام کرو، لیکن انہوں ںے نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے کام نہیں کریں گے، یہ لوگ ملک شام کی جانب چلے گئے اور بالآخر یہ تمام قتل کر دیئے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5163]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5164
أخبرني أبو نُعيم محمد بن عبد الرحمن الغِفاري بمَرُو، حدثنا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، سمعت عبد الله بن مُسلم يَذكُر عن أبي اليَقْظان وغيره: أنَّ خالد بن سعيد بن العاص أسلمَ قبلَ أبي بكر الصِّدّيق (1) . هذا وهمٌ من قائله، فقد قدّمتُ الروايةَ أنَّ أبا بكر هو الذي دَعَاه إلى الإسلامِ حتى أسلمَ (2) .
ابوالیقظان فرماتے ہیں: سیدنا خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی پہلے اسلام لائے تھے۔ یہ قائل کی غلط فہمی ہے۔ ہم اس سے پہلے وہ روایت پیش کر چکے ہیں جس میں یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تو ان کو اسلام کی دعوت دی تھی۔ (پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام لائے ہوں) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5164]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5165
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثني ابن إسحاق، عن محمد بن عبد الله بن أبي بكر، عن أبيه: أنَّ خالد بن سعيد حين وَلّاه رسولُ الله ﷺ اليمنَ قَدِمَ بعد وفاةِ رسول الله ﷺ، وتَربَّص ببيعتِه، شهرَين، يقول: قد أمَّرني رسولُ الله ﷺ، ثم لم يَعزِلْني حتى قَبضَه اللهُ ﷿، وقد لقي عليَّ بنَ أبي طالب وعثمانَ بنَ عفّان، فقال: يا بَني عبد مَنافٍ، طِبتُم نَفْسًا عن إمرتِكم، يَلِيهِ غَيرُكم، قال: فأما أبو بكر فلم يَحفِلْها (3) عليه، وأما عمرُ فاضطَغَنَها (1) عليه، ثم بعث أبو بكر الجنودَ إلى الشام، فكان أولَ من استَعمَل على رَبْعٍ منها خالدُ بنُ سعيد، فأخذ عمرُ يقول: أتُؤمِّره وقد صَنَع ما صَنَع وقال ما قال؟! فلم يَزلْ بأبي بكر حتى عَزَله وأمَّر يزيدَ بنَ أبي سفيان (2) . حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5087 - ذا منقطع
محمد بن عبداللہ بن ابوبکر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن سعید کو یمن کا والی بنایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ مدینہ شریف آئے اور دو ماہ تک انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کی۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والی بنایا ہے اور پھر اپنی حیات میں آپ نے مجھے معزول نہیں کیا تھا۔ پھر وہ سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن عبد مناف سے ملے اور ان سے کہا: اے بنی عبد مناف! تم نے خوشدلی کے ساتھ اپنے معاملات اپنے غیر کے سپرد کر دیئے۔ یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تک پہنچا دی۔ لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کی اس بات پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تو کوئی برا نہیں مانا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بہت محسوس کی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام کی جانب لشکر روانہ فرمایا: اس فوج کے ایک چوتھائی حصے پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو نگران بنایا، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: اس کی باتوں اور اس کے کرتوتوں کو اچھی طرح جاننے اور سمجھنے کے باوجود تم نے اس کو امیر بنا دیا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہی باتیں مسلسل دہراتے رہے حتی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر کے سیدنا یزید ابن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرما دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5165]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں