🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

321. وَفَاةُ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ
سیدنا عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات سن چوالیس ہجری میں ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5204
حدثنا أبو جعفر البغدادي محمدُ (1) بنُ أحمد بن سعيد الرازي، حدثنا أبو زُرعة الرازي، حدثنا محمد بن سعيد بن سابِق، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن سِماك، عن عبد الله بن عُتبة بن مسعود، عن أبيه، قال: قام رسولُ الله ﷺ يصلِّي صلاةَ الغَداة، فأهْوى بيده قُدّامَه، فسألَه رجلٌ من القوم حين قَضَى الصلاةَ، فقال:"جاء الشيطانُ فانتَهَرْتُه، ولو أخذْتُه لرَبَطتُه إلى ساريةٍ من سَواري المسجد، حتى يَطُوفَ به وِلْدانُ أهلِ المدينة" (2) .
سیدنا عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھا رہے تھے کہ آپ نے اپنی اگلی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا۔ نماز کے بعد ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بابت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان آیا تھا، میں نے ہاتھ سے اس کو دھکیل دیا اگر میں چاہتا تو اس کو پکڑ لیتا اور مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5204]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5205
أخبرني عبد الله بن غانم، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجي، سمعتُ يحيى بن بُكَير يقول: توفي عُتبة بن مسعود سنة أربع وأربعين، وله حديثٌ واحدٌ (1) .
سیدنا یحیی بن بکیر فرماتے ہیں: سیدنا عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ 44 ہجری میں فوت ہوئے، ان سے صرف ایک ہی حدیث مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5205]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5206
حدثنا بالحديثِ الذي ذكره ابن بُكَير: أبو علي الحافظ، أخبرنا أحمد بن يحيى بن زهير، حدثنا عُبيد الله بن محمد الحارثي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا أبو مَعْدان المِنْقَري - يعني عامرَ بنَ مسعود - حدثنا عَوْن بن عبد الله بن عُتبة، حدثني أبي، عن جدي، قال: جاءتِ امرأةٌ إلى رسول الله ﷺ بأمَةٍ سوداءَ، فقالت: يا رسول الله، إنَّ عليَّ رقبةً مؤمنةً، أفتُجزئُ عنِّي هذه؟ فقال رسول الله ﷺ:"مَن ربُّكِ؟" قالت: ربِّيَ اللهُ، قال:"فما دِينُك؟" قالت: الإسلامُ، قال:"فمَن أنا؟" قالت: أنت رسولُ الله، قال:"فتُصلِّين الخَمسَ وتُقِرِّين بما جئتُ من عند الله؟" قالت: نعم، فضرب على ظَهْرِها وقال:"أَعتِقِيها" (2) . وعبد الله بن عتبة بن مسعود أدركَ النبيَّ ﷺ وسَمِعَ منه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5126 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عون بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کالے رنگ والی لونڈی لے کر آئی، اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ذمے ایک لونڈی کو آزاد کرنا ہے کیا یہ آزاد کر کے میں عہدہ برا ہو سکتی ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تیرا رب کون ہے؟ اس سے کہا: میرا رب اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تیرا دین کیا ہے؟ اس نے کہا: اسلام۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو نماز پنجگانہ پڑھتی ہے اور میرے لائے ہوئے احکام کو تسلیم کرتی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو شاباش دی اور فرمایا: ٹھیک ہے تو اس کو آزاد کر دے۔ ٭٭ عبداللہ بن عتبہ بن مسعود صحابی رسول ہیں اور ان کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع بھی ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5206]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں