🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

348. الدُّعَاءُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ
ہر فرض نماز کے بعد دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5274
حدثنا أبو علي الحُسين بن علي الحافظ، أخبرنا الحسين بن عبد الله بن يزيد القَطّان بالرَّقّة، حدثنا عمرو بن بكر السَّكْسَكي، حدثنا مُجاشِع بن عَمرو الأسَدي، حدثنا الليث بن سعد، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن محمود بن لَبيد، عن معاذ بن جبل: أنه مات له ابنٌ، فكتبَ إليه رسولُ الله ﷺ يُعزِّيه عليه:"بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله إلى مُعاذ بن جَبَل سَلامٌ عليك، فإني أحمَدُ إليك الله الذي لا إله إلَّا هو، أما بَعدُ، فأعظَمَ الله لك الأجرَ، وألهَمَك الصبرَ، ورَزَقَنا وإياك الشُّكرَ، فإن أنفُسَنا وأموالَنا وأهلينا وأولادَنا من مَواهب الله ﷿ الهَنيّة، وعَوارِيِّه المُستودَعَة، مَتَّعك به في غِبْطَةٍ وسُرور، وقَبَضَه منك بأجرٍ كبير، الصلاةُ والرحمةُ والهُدى إن احتَسبتَه فاصبِرْ، ولا يُحبِطُ جَزَعُك أجرَك فتَندمَ، واعلم أنَّ الجَزَعَ لا يَرُدُّ شيئًا، ولا يَدفَعُ حُزنًا، وما هو نازِلٌ فكأَنْ قَدْ، والسلامُ" (1) . غريبٌ حسنٌ إِلَّا أَنَّ مُجاشِع بن عمرو ليس من شَرْط هذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5193 - ذا من وضع مجاشع بن عمرو
محمود بن لبید روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جانب ایک تعزیتی مکتوب لکھا (جس کا مضمون درج ذیل تھا) بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے معاذ بن جبل کی طرف۔ تم پر سلامتی ہو، میں اس خدا کی حمد و ثناء کرتا ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ امابعد! اللہ تعالیٰ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے، اور تمہیں صبر کی توفیق عطا فرمائے اور مجھے اور آپ کو شکر کی توفیق دے۔ بے شک ہماری جانیں، ہمارے مال، ہمارے اہل و عیال سب اللہ کا قیمتی تحفہ اور مفت کی عطا ہے۔ اس نے تمہیں اس کے ذریعے رشک اور خوشی کی دولت عطا فرمائی۔ اور بہت بڑے اجر کے بدلے وہ تم سے واپس لے لیا، دعا، رحمت اور ہدایت یہ ہے کہ ثواب کی نیت رکھے تو صبر اختیار کر۔ تاکہ تیرا رونا دھونا تیرے اجر کو کم نہ کر دے (کہ اگر تیرا اجر کم ہو گیا تو) تو نادم ہو گا۔ اور جان لو کہ رونے دھونے سے گیا ہوا واپس نہیں آ سکتا اور نہ یہ تیرے غم کو دور کر سکتا ہے جو دکھ آنا تھا وہ تو آ گیا۔ والسلام ٭٭ یہ حدیث غریب حسن ہے، مگر مجاشع بن عمرو اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5274]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں