المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
349. جَعَلَ النَّبِيُّ مُعَاذًا عَامِلًا عَلَى الْيَمَنِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل مقرر فرمانا
حدیث نمبر: 5276
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني عيسى بن النعمان، عن مُعاذ بن رِفاعة، عن جابر بن عبد الله قال: كان معاذُ بن جَبَل من أحسنِ الناس وجهًا، وأحسنِهم خُلقًا، وأسمحِهم كَفًّا، فادّانَ دَينًا كثيرًا، فلزمه غُرَمَاؤُه، حتى تَغَيَّب عنهم أيامًا في بيتِه حتى استأدَى (2) رسولَ الله ﷺ غرماؤُه، فأرسلَ رسول الله ﷺ إلى معاذٍ يدعُوه، فجاء ومعَه غُرماؤه، فقالوا: يا رسول الله، خذ لنا حَقَّنا منه، فقال رسول الله ﷺ:"رَحِمَ اللهُ مَن تَصدَّق عليه" فتصدَّق عليه ناسٌ وأبى آخرون، وقالوا: يا رسول الله، خذ لنا بحقِّنا منه، قال رسول الله ﷺ:"اصبر لهم يا مُعَاذُ" قال: فخَلَعه رسولُ الله ﷺ من ماله فدفعه إلى غُرمائه، فاقتَسَمُوه بينهم، فأصابهم خمسةُ أسباع حقوقِهم، قالوا: يا رسول الله، بِعْه لنا، قال رسول الله ﷺ:"خَلُّوا عنه، فليس لكم عليه سَبيلٌ"، فانصرفَ مُعاذٌ إلى بني سَلِمَة، فقال له قائل: يا أبا عبد الرحمن، لو سألتَ رسولَ الله ﷺ، فقد أصبحت اليوم مُعدِمًا، فقال: ما كنتُ لِأسألَه، قال: فمَكَثَ أيامًا، ثم دَعاهُ رسولُ الله ﷺ فبعثَه إلى اليَمَن، وقال:"لعلَّ اللَّهَ أَن يَجْبُرَكَ ويُؤدَّيَ عنك دَيْنَك". قال: فخرج معاذٌ إلى اليمن، فلم يَزَلْ بها حتى تُوفِّي رسولُ الله ﷺ، فوافَى السنةَ التي حَجَّ فيها عمرُ بنُ الخطاب مكةَ فاستعملَه أبو بكر على الحَجِّ، فالتقَيا يومَ التَّرْوية بها، فاعتَنَقا وعَزّى كلُّ واحدٍ منهما صاحبَه برسولِ الله ﷺ، ثم أخْلَدا إلى الأرض يَتحدَّثانِ، فرأى عمرُ عند مُعاذ غِلْمانًا، فقال: ما هؤلاء؟ ثم ذكر الأحرفَ التي ذكرتُها فيما تقدّم (1) . ذكرُ مناقب الفَضْل بن عبَّاس بن عبد المُطلّب ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5195 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5195 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے خوبصورت چہرے والے، بہترین اخلاق کے مالک اور انتہائی سخی تھے، وہ بہت زیادہ قرض دار ہو گئے یہاں تک کہ ان کے قرض خواہوں نے ان کا پیچھا کیا، چنانچہ وہ کئی دنوں تک اپنے گھر میں ان سے چھپے رہے یہاں تک کہ قرض خواہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقاضا کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو بلانے کے لیے پیغام بھیجا، وہ اپنے قرض خواہوں کے ساتھ حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان سے ہمارا حق دلوا دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس شخص پر رحم کرے جو ان کو صدقہ دے“، چنانچہ کچھ لوگوں نے ان پر صدقہ کیا اور دوسروں نے انکار کر دیا اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارا پورا حق دلوائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! ان کے لیے صبر کرو“، راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا سارا مال ان کے قرض خواہوں میں تقسیم کر دیا، ان کے حصے میں ان کے اصل حقوق کے سات میں سے پانچ حصے آئے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انہیں (غلام بنا کر) ہمارے ہاتھ بیچ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، اب تمہارے لیے ان پر کوئی راستہ نہیں ہے“، چنانچہ معاذ بنو سلمہ کی طرف واپس آگئے، کسی نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اگر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ لیتے (تو بہتر ہوتا) کیونکہ آج آپ بالکل خالی ہاتھ ہو گئے ہیں، انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگنے والا نہیں تھا، راوی کہتے ہیں: وہ کچھ دن ٹھہرے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر یمن کی طرف روانہ کیا اور فرمایا: ”امید ہے کہ اللہ تمہاری حالت درست فرمائے گا اور تمہارا قرض ادا کر دے گا“، چنانچہ معاذ یمن چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک وہیں رہے، پھر وہ اس سال (مدینہ) پہنچے جس میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مکہ میں حج کیا تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں (معاذ کو) حج کا امیر مقرر کیا تھا، ان دونوں کی ملاقات یومِ ترویہ کے دن ہوئی، انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ایک دوسرے سے تعزیت کی، پھر وہ زمین پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، تو عمر نے معاذ کے پاس کچھ غلام دیکھے اور پوچھا: یہ کون ہیں؟ پھر انہوں نے وہی الفاظ کہے جن کا تذکرہ میں پہلے کر چکا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5276]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد لا بأس به في المتابعات والشواهد، فإنَّ محمد بن عمر - وهو الواقدي - يُكتب حديثه - يعني في المتابعات والشواهد - كما انتهى إليه الذهبي في "السير" 9/ 469، ومَن دُون الواقدي لا بأس بهم وهم بعضُ رواة كتب الواقدي كما تقدم بيانه برقم (4060)، ...» [ترقيم الرساله 5276] [ترقيم الشركة 5231] [ترقيم العلميه 5195]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره