المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
358. ذِكْرُ مَنَاقِبِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعَدَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ثعلبہ بن صعیر عدوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5295
حدثنا أبو زكريا العَنْبَري، حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا عامر بن صالح الزُّبَيري، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، عن الحارث بن هشام: أنه سألَ النبيَّ ﷺ: كيف يَنزِلُ عليكَ الوَحْيُ؟ فقال رسول الله ﷺ: في مثل"صَلْصَلَة الجَرَس، فيَفْصِمُ عني وقد وَعَيتُ ما قال، وهو أشدُّه عليَّ، وأحيانًا يأتيني المَلَكُ، فيتَمَثَلُ لي فيكلِّمُني فأَعِي ما يقول" (2) . لا أعلم أحدًا قال في هذا الحديث: عن عائشة عن الحارث، غيرَ عامر بن صالح، وقد رواه أصحابُ هشامٍ عن أبيه عن عائشة: أنَّ الحارث بن هشام سأل … ذكرُ مناقب ثَعْلبة بن صُعَيرٍ العَدَويّ ﵁ -
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھنٹی بجنے کی آواز کی طرح۔ اور جب وہ مجھ سے ختم ہوتی ہے تو میں اس کو یاد کر چکا ہوتا ہوں، اور یہ کیفیت مجھ پر بہت بھاری ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے تو میں اس کی باتوں کو یاد کر لیتا ہوں۔ ٭٭ (امام حاکم کہتے ہیں) میں نہیں جانتا کہ عامر بن صالح کے علاوہ کسی راوی نے اس کی سند میں کہا ہو کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں حارث بن ہشام سے۔ البتہ ہشام کے کئی ساتھیوں نے ان کے والد کے حوالے بیان کیا ہے ام المومنین نے روایت کیا ہے کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5295]