المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
393. ذِكْرُ مَنَاقِبِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيِّ وَهُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لِأُمِّهِ
سیدنا قتادہ بن نعمان ظفری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان، جو امّی رشتے سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے
حدیث نمبر: 5363
حدثنا محمد بن علي الصَّنْعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوري، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن معاوية بن سُوَيد بن مُقَرِّن، عن سُويد بن مُقرِّن، قال: كنَّا بني مُقرِّن سبعةً على عهدِ رسول الله ﷺ لنا خادمٌ، فلَطَمَه أحدنا، فقال النبي ﷺ:"أعتِقوها" (1) . ذكرُ مناقب قَتَادة بن النُّعمان الظَّفَري، وهو أخو أبي سعيد الخُدْري لأُمِّه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5280 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5280 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم مقرن کے سات بیٹے تھے، ہمارا ایک خادم تھا، ایک بھائی نے ان کو تھپڑ مار دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (اس کے کفارے کے طور پر) اس کو آزاد کر دو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5363]
حدیث نمبر: 5364
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا محمد بن رُسْتَه الأصبهاني، حدَّثنا سليمان بن داود الشاذكُوني، حدَّثنا محمد بن عمر، قال: وقَتَادة بن النُّعمان بن زَيد بن عَمرو بن سَوَاد بن ظَفَر - واسمُ ظَفَر كعبٌ - بن الخَزْرج بن عمرو - وهو النَّبِيت - ابن مالك بن أوس، وكان قَتَادة يُكنى أبا عمرو، وهو جَدُّ عاصم ويعقوب ابنَي عُمر بن قَتَادة، وكان عاصم بن عُمر من العلماء بالسِّيَر وغيرها، وشَهِد قَتَادة بن النُّعمان العقَبةَ مع السبعين من الأنصار، وكان من الرُّماة المذكورين من أصحاب رسول الله ﷺ، شهد بدرًا وأحُدًا، ورُمِيَت عينُه يومَ أحُد، فسالَتْ حَدَقَتُه على وَجْنَتِه، فأتى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، إنَّ عندي امرأةً أُحِبُّها، وإن هي رأت عَيني خَشِيتُ تَقذَرُها، فردَّها رسولُ الله ﷺ بيده فاستَوتْ ورجعت، وكانت أقوى عينَيه وأصحَّهما بعد أن كَبِر، وشهد أيضًا الخندقَ والمَشاهِد كلَّها مع رسول الله ﷺ، وكانت معه رايةُ بني ظَفَرٍ في غزوة الفتح (2) .
محمد بن عمر کہتے ہیں: اور قتادہ بن نعمان بن یزید بن عمرو بن سواد بن ظفر۔ اور ظفر کا نام ”کعب بن خزرج بن عمرو“ ہے۔ یہ ”نبیت بن مالک بن اوس “ ہیں۔ سیدنا قتادہ کی کنیت ”ابوعمرو“ تھی، یہ سیدنا قتادہ کے دونوں بیٹوں عاصم اور یعقوب کے دادا ہیں۔ اور عاصم بن عمرو سیر وغیرہ کے علماء میں سے تھے۔ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے ستر انصاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراه عقبہ میں شرکت کی تھی۔ اور جنگ احد میں تیر اندازوں میں بھی شامل تھے۔ جنگ بدر اور احد میں شرکت کی ہے۔ جنگ احد کے موقع پر ان کی آنکھ پر تیر لگا جس کی وجہ سے ان کی آنکھ باہر آ گئی تھی، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے، اگر اس نے میری یہ پھوٹی ہوئی آنکھ دیکھ لی تو مجھے خدشہ ہے کہ وہ مجھ سے نفرت کرنے لگ جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ، آنکھ کے مقام پر لگا کر درست فرما دی، ان کی بینائی لوٹ آئی، بلکہ اس آنکھ کی بینائی دوسری سے زیادہ ہو گئی۔ اور بڑھاپے کے عالم میں بھی یہ آنکھ سلامت رہی۔ آپ جنگ خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے، اور فتح مکہ کے موقع پر بنی ظفر کا جھنڈا انہیں کے ہاتھوں میں تھا۔ ٭٭ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5364]
حدیث نمبر: 5365
قال محمد بن عُمر: أخبرني محمد بن صالح، عن عاصم بن عُمر بن قَتَادة، قال: مات قَتَادة بن النعمان سنة ثلاث وعشرين، وهو يومئذٍ ابن خمس وستين سنةً، وصلَّى عليه عمر بن الخطاب بالمدينة، فنزل في قبره أخوه لأمِّه أبو سعيد الخُدري ومحمدُ بن مَسْلَمة والحارثُ بن خَزْمة (1) . ذكرُ مناقب العلاء بن الحَضْرمي ﵁ -
محمد بن عمرو اپنی سند کے ہمراہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ 23 ہجری میں فوت ہوئے، وفات کے وقت ان کی عمر 65 برس تھی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، ان کے ماں شریک بھائی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حارث بن خزیمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو لحد میں اتارا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5365]