🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

518. انْصِرَافُ طَلْحَةَ عَنْ مَعْرَكَةِ الْجَمَلِ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا جنگِ جمل سے الگ ہو جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5692
حدثني محمد بن مُظفَّر الحافظ - وأنا سألتُه - حدثني الحسين بن يحيى بن عياش القَطّان، حدثنا الحُسين بن بَحْر (1) البَيْرُوذي، حدثنا غالب بن حَلْبَس الكَلْبي أبو الهيثم، حدثنا جُوَيرِية بن أسماء، عن يحيى بن سعيد، حدثنا عَمِّي، قال: لما كان يومُ الجَمَل نادى عليّ في الناس: لا تَرمُوا أحدًا بسهمٍ، ولا تَطعُنوا برُمح، ولا تَضرِبوا بسيف، ولا تَطلُبوا القومَ، فإنَّ هذا مَقامٌ مَن أُفلِجَ فيه فَلَجَ (2) يومَ القيامة، قال: فتواقفنا، ثم إنَّ القومَ قالوا بأجْمعَ: يا ثاراتِ عثمانَ، قال: وابنُ الحَنفيّة أمامَنا برَتْوةٍ (3) معه اللواءُ، قال: فناداهُ عليٌّ، قال: فأقبَلَ علينا بعُرْضِ وجهِه، فقال: يا أميرَ المؤمنين، يقولون يا ثاراتِ عثمانَ، فمَدَّ عليٌّ يدَيه وقال: اللهمَّ أكِبَّ قَتَلةَ عثمانَ اليومَ لوجوههم، ثم إنَّ الزُّبيرَ قال الأَساورةٍ (4) كانوا معه: ارمُوهم برَشْقٍ، وكأنه أرادَ أن يَنْشَبَ القِتالُ، فلما نَظَرَ أصحابُه إلى الانتِشابِ لم يَنتَظِروا وحَمَلُوا فهَزَمَهم اللهُ، ورمى مَروانُ بن الحَكَم طلحةَ بن عُبيد الله بسهمٍ فشَكَّ ساقَه بجَنْب فرسِه، فقَبَضَ (1) به الفرسُ حتى لَحِقه فذَبَحَه، فالتفتَ مَروانُ إلى أبانَ بن عثمانَ وهو معه، فقال: لقد كفَيتُك أحدَ قَتَلةِ أبيك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5593 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابن سعید اپنے چچا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو آواز دے کر ہدایت کی: کسی کو تیر نہ مارو، کسی کو نیزہ سے زخمی نہ کرو، کسی کو تلوار کا زخم نہ لگاؤ، نہ کسی کو گرفتار کرو، کیونکہ یہ وہ مقام ہے جو یہاں کامیاب ہو گیا وہ آخرت میں بھی کامیاب ہو جائے گا۔ ہم اس بات پر متفق ہو گئے پھر لوگوں نے بیک زبان ہو کر کہا: ہمیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ چاہئے، راوی کہتے ہیں: ابن الحنفیہ بلند ٹیلے پر ہمارے ساتھ تھے ان کے پاس علم تھا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو نداء دی تو وہ ہماری جانب اس طرح متوجہ ہوئے کہ انہوں نے اپنا چہرہ پھیر رکھا تھا۔ پھر انہوں نے کہا: اے امیرالمومنین! لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ مانگ رہے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ بلند کر کے یوں دعا مانگی اے اللہ! آج سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو منہ کے بل گرا دے۔ پھر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے شہسوار ساتھیوں سے کہا: سب لوگ یکبارگی تیر اندازی کرو، گویا کہ وہ جنگ چھیڑنا چاہتے تھے، جب ان کے ساتھیوں نے جنگ کے آغاز کو دیکھا تو انتظار کئے بغیر حملہ کر دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست سے دوچار کیا، مروان بن حکم نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا جو کہ ان کی پنڈلی سے گزر کر ان کے گھوڑے کے پہلو میں پیوست ہو گیا، انہوں نے گھوڑے کو ذبح کر دیا۔ پھر مروان، سیدنا ابان بن عثمان کی جانب متوجہ ہوا، وہ اس وقت مروان کے ساتھ تھے، اور بولا: میں نے تیرے باپ کے تمام قاتلوں کے بدلے میں ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا ہے جو ان تمام قاتلوں کے بدلے میں کافی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5692]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5693
أخبرني أبو الوليد وأبو بكر بن قُرَيش، حدثنا الحسن بن سُفيان، حدثنا أحمد (3) بن عَبْدة، حدثنا الحُسين بن الحَسن (4) ، حدثنا رِفاعة بن إياس الضَّبِّي، عن أبيه، عن جده، قال: كنّا مع عليٍّ يومَ الجَمَل، فبعث إلى طلحةَ بن عُبيد الله: أنِ الْقَني، فأتاهُ طلحةُ، فقال: نَشَدتُك الله هل سمعتَ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن كنتُ مولاهُ فعَليٌّ مَولاهُ، اللهمَّ والِ من والاهُ وعادِ مَن عاداهُ"؟ قال: نعم، قال: فلم تُقاتِلُني؟ قال: لم أذكُرْ، قال: فانصَرفَ طلحةُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5594 - الحسن هو العرني ليس بثقة
رفاعہ بن ایاس ضبی اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملیں۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے ہیں؟ جس کا میں مولیٰ ہوں، علی اس کا مولیٰ ہے، اے اللہ تو اس کی مدد کر جو علی کی مدد کرے اور تو اس کے ساتھ دشمنی کر جو علی کے ساتھ دشمنی کرے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو پھر آپ میرے ساتھ کیوں جنگ کر رہے ہیں؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یاد نہیں رہا تھا۔ پھر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5693]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں