المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
544. حَدِيثُ مُنَازَعَةِ عَمَّارٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَقَضَاءُ النَّبِيِّ وَقَوْلُ النَّبِيِّ: " مَنْ يُبْغِضُ عَمَّارًا يُبْغِضُهُ اللَّهُ "
سیدنا عمار اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلاف اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کا بیان
حدیث نمبر: 5773
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم ومحمد بن كثير، قالا: حدثنا سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن أبي البَخْتَري: أن عمار بن ياسر أُي بشَرْبةٍ من لَبَنٍ، فضَحِك، فقيل له: ما يُضحِكُك؟ فقال: إنَّ رسولَ الله ﷺ قال: آخِرُ شَرابٍ أشربُه حتى أموتَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5669 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5669 - على شرط البخاري ومسلم
ابوالبختری فرماتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس دودھ لایا گیا تو وہ دودھ کو دیکھ کر مسکرا دیئے، آپ سے مسکرانے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق میری زندگی کا آخری مشروب جو کہ میں نے مرنے سے پہلے پینا تھا وہ یہی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5773]
حدیث نمبر: 5774
أخبرنا محمد بن صالح، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عُمر بن حفص بن غِيَاث، حدثنا أبي، عن الحسن بن عُبيد الله، عن محمد بن شَدّاد، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن الأشْتَر، قال: سمعت خالدَ بنَ الوليد يقول: بَعثَني رسولُ الله ﷺ في سَرِيّة ومعي عمّارُ بن ياسر، فأصبْنا ناسًا منهم أهلُ بيتٍ قد ذَكَروا الإسلامَ، فقال عمار: إنَّ هؤلاء قد وَحَّدوا، فلم ألتفِتْ إلى قولِه، فأصابَهم ما أصابَ الناسَ، قال: فجعل عمارٌ يَتوعَّدُني؛ لو قد رأيتُ رسول الله ﷺ فأخبرتُه، فأتى النبيَّ ﷺ فأخبرَه، فلما رآهُ لا يَنصُره ولّى وعَيْناهُ تَدمَعان قال: فدعاني، فقال:"يا خالدُ، لا تَسُبَّ عمارًا، فإنه من يَسُبُّ عمارًا، يسُبُّه اللهُ، ومن يُبغِضُ عمارًا يُبغِضُه اللهُ، ومن يُسَفِّه عمارًا يُسفِّهُهُ اللهُ"، قال خالد: استغفِرْ لي يا رسولَ الله، فواللهِ ما مَنَعني أن أُجيبَه إلَّا تَسفِيهي إياهُ، قال خالدٌ: وما مِن شيءٍ أخوفَ عندي من تَسفِيهي عمارَ بن ياسر يومئذٍ (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهكذا رواه مسعود بن سعد الجُعْفي ومحمد بن فُضَيل بن غَزْوانَ عن الحسن بن عُبيد الله النَّخَعي. أما حديث مسعود بن سعد:
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک جنگی مہم پر بھیجا، میرے ہمراہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے، اس مہم کے دوران ہم ایک گھر میں پہنچے جو کہ اسلام کا تذکرہ کرتے تھے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ لوگ توحید کو ماننے والے ہیں، لیکن میں نے ان کی بات کی جانب کوئی توجہ نہ دی اور ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جو دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا۔ سیدنا عمار مسلسل مجھے دھمکی دیتے رہے کہ میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ بات عرض کروں گا، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر پورا واقعہ سنایا، جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا تو وہ آبدیدہ ہو کر واپس لوٹ گئے، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس بلا کر فرمایا: اے خالد! عمار کو گالی مت دو، کیونکہ جو شخص عمار کو گالی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو گالی کا بدلہ دیتا ہے اور جو عمار سے بغض رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو بغض کا بدلہ دیتا ہے، جو عمار کو بے وقوف کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو بے وقوف کہتا ہے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔ خدا کی قسم! ان کا سامنا کرنے سے مجھے یہ بات روکتی ہے کہ میں نے ان کو بے وقوف سمجھا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس دن میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بے وقوف سمجھا اس سے زیادہ مجھے کسی بات کا خوف نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا، اور اسی حدیث کو مسعود بن سعد جعفی نے اور محمد بن فضیل بن غزوان نے حسن بن عبیداللہ نخعی کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ (مسعود بن سعد کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5774]
حدیث نمبر: 5775
فأخبرَناه علي بن عبد الرحمن بن عيسى الدِّهْقان بالكوفة، حدثنا الحُسين بن الحَكَم الحِبَري، حدثنا أبو غَسّان مالك بن إسماعيل، حدثنا مسعود بن سعد (1) . وأما حديث محمد بن فُضيل:
اس کی ایک سند مذکورہ بالا ہے۔ وَأَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ (محمد بن فضیل سے مروی حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5775]
حدیث نمبر: 5776
فأخبرَناه محمد بن المؤمَّل بن الحَسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعَيم بن حماد، حدثنا محمد بن فُضَيل، عن الحَسن بن عُبيد الله، عن محمد بن شَدّاد، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن الأشتَر، عن خالد بن الوليد، قال: بعثَني رسولُ الله ﷺ في غَزاةٍ، فأصبناهُم، فقال عمارُ بن ياسر: إنهم قد احتَجَبُوا منا بالتوحيدِ، فلم ألتفِتْ إلى قولِه، وذكَر الحديثَ بنَحْوه (2) . قال الحاكم: قد قدّمتُ حديثَ أبي داود عن شُعبة عن سلمة بن كُهيل عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد عن أبيه عن الأشتر؛ أنه من أفرادِ أبي داود، فوجدتُه من حديث عمرو بن مَرزُوق، عن شُعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5670 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5670 - صحيح
محمد بن فضیل نے اپنی سند کے ہمراہ بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: میں نے اس سے پہلے ابوداؤد کی مروی حدیث نقل کی ہے جس کی سند یوں ہے۔ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَشْتَرِ اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ ابوداؤد کے افراد میں سے ہے، پھر مجھے عمرو بن مرزوق کی شعبہ سے روایت کردہ درج ذیل حدیث مل گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5776]
حدیث نمبر: 5777
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْلُ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عمرو بن مرزُوق، أخبرنا شُعبة، أخبرني سَلَمة بن كُهَيل، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن أبيه، عن الأشتر، عن خالد بن الوليد، قال: كان وَقَعَ بيني وبين عمّار بن ياسر كلامٌ، فشكوتُه إلى رسولِ الله - صلى الله عليه وسل -، فقال رسولُ الله ﷺ:"يا خالدُ، مَن يُسابُّ عمارًا يسُبُّه الله، ومن يُعادِ (3) عمارًا يُعادِهِ اللهُ، ومن يَحْقِرُ عمارًا يَحقِرُه الله" (4) . رواه العَوّام بن حوشَبٍ عن سَلَمة بن كُهَيل، وخالفَ شعبةَ في إسنادِه؛ فإنه قال: عن سَلَمة عن علقمة عن خالد بن الوليد:
عمرو بن مرزوق کی مذکورہ اسناد کے ہمراہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہو گئی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خالد! جس نے عمار کو گالی دی، اللہ تعالیٰ اس کو گالی کا بدلہ دیتا ہے اور جس نے عمار سے دشمنی کی، اللہ تعالیٰ اس کو دشمنی کا بدلہ دیتا ہے جس نے عمار کی تحقیر کی، اس کی اللہ تعالیٰ تحقیر کرتا ہے۔ ٭٭ اسی حدیث کو عوام بن حوشب نے سلمہ بن کہیل کے حوالے سے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد میں شعبہ نے مخالفت کی ہے کیونکہ انہوں نے سلمہ کے بعد علقمہ کے واسطے سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5777]
حدیث نمبر: 5778
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا العَوّام بن حَوشَبٍ، حدثني سلَمة بن كُهَيل، عن علقمة، عن خالد بن الوليد، قال: كان بيني وبين عمّار بن ياسِر كلامٌ، فأغلظْتُ له، فانطلقَ عمار يَشكُو إلى النبيّ ﷺ، فجاء خالدٌ وهو يَشكُوه، فجعل يُغلِظُ له، ولا يَزيدُه إِلَّا غِلْظةً، والنبيُّ ﷺ ساكتٌ، فبكى عمار، وقال: يا رسول الله، ألا تَراهُ؟! قال: فرفع النبيُّ ﷺ رأسَه، وقال:"مَن عادى عمارًا عاداهُ اللهُ، ومن أبغضَ عمارًا أبغضَه اللهُ"، قال خالدٌ: فخرجتُ فما كان شيءٌ أحبَّ إليَّ مِن رضا عمارٍ، فلقِيتُه، فرَضِيَ (1) . حديث العَوّام بن حّوشّب
هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد على شرط الشيخين؛ لاتفاقِهما على العَوّام بن حَوشَب وعلقمة، على أنَّ شعبةَ أحفظُ منه؛ حيث قال: عن سَلَمة بن كُهيل، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن أبيه، عن الأشتر (2) ، والإسنادانِ صحيحانِ.
هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد على شرط الشيخين؛ لاتفاقِهما على العَوّام بن حَوشَب وعلقمة، على أنَّ شعبةَ أحفظُ منه؛ حيث قال: عن سَلَمة بن كُهيل، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن أبيه، عن الأشتر (2) ، والإسنادانِ صحيحانِ.
سلمہ بن کہیل، علقمہ کے واسطے سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (سیدنا خالد بن ولید فرماتے ہیں کہ) میرے اور سیدنا عمار کے درمیان کچھ چپقلش تھی، میں نے اس وجہ سے ان کو کچھ سخت سست کہہ دیا، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر میری شکایت کر دی، پھر سیدنا خالد بھی ان کی شکایت کرنے کے لئے بارگاہ مصطفی میں پہنچ گئے اور یہاں آ کر بھی انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں بہت سخت گفتگو کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی کے ساتھ سنتے رہے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ رو پڑے، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ اس کو ملاحظہ نہیں فرما رہے؟ راوی کہتے ہیں: تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: جس نے عمار رضی اللہ عنہ سے دشمنی کی، اللہ تعالیٰ اس کو دشمنی کا بدلہ دیتا ہے، جس نے عمار رضی اللہ عنہ سے بغض رکھا، اللہ تعالیٰ اس کے بغض بدلہ دیتا ہے۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد مجھے سب سے زیادہ اس بات کی خواہش تھی کہ میں عمار رضی اللہ عنہ کو کسی بھی طرح منا لوں، پھر میں نے عمار رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان کو راضی کر لیا۔ ٭٭ عوام بن حوشب کی روایت کردہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے عوام سے حوشب اور علقمہ کی روایات نقل کی ہیں، مزید برآں یہ کہ شعبہ، حوشب سے زیادہ مضبوط حافظہ رکھتے ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل سند منقول ہے۔ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَشْتَرِ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: دونوں اسنادیں ہی صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5778]