🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

545. دُورُوا مَعَ كِتَابِ اللَّهِ حَيْثُمَا دَارَ
قرآنِ مجید کے ساتھ رہو جدھر وہ رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5779
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجَوّاب، حدثنا يحيى بن سَلَمة بن كُهيل، عن أبيه، عن عِمْران بن أبي الجَعْد، عن الأشتَر، قال: ابتدأَنا خالدُ بنُ الوليد من غير أن أَسألَه، قال: ما أتى عليَّ يومٌ قطُّ كان أعظمَ علَيَّ من شَأْن عمّار، لما كان يومُ بَعثَني رسولُ الله ﷺ في أُناس من أصحابِه وأَمَّرني عليهم، وكان في القوم عمارٌ، فأصبْنا قومًا فيهم أهلُ بيتٍ من المسلمين، فكلَّمَني فيهم عمارٌ وناسٌ من المسلمين، قالوا: خَلِّ سبيلَهم، قلتُ: لا واللهِ لا أفعَلُ حتى يَراهُم رسولُ الله ﷺ؛ فيَرى فيهم رأيَه، فغَضِب عليَّ عمارٌ، فلما قدمتُ استأذنتُ على رسولِ الله ﷺ، فهو يَستخبِرُني وأنا أُحدِّثُه، فاستأذَن عمارٌ فأَذِن له، فدخل عمارٌ، فقال: يا رسول الله، ألم ترَ خالدًا فَعَل وفَعَل، فقلتُ: يا رسول الله، أما والله لولا مَجلِسُك ما سبَّني ابن سُميّة، فقال رسول الله ﷺ:"يا عمارُ، اخرُجْ" فخرج عمارٌ وهو يَبكي ويقول: ما نَصَرني رسولُ الله ﷺ على خالدٍ، فقال لي رسولُ الله ﷺ:"ألا أجبْتَ الرجُلَ؟!" قلت: ما مَنعَني أن أُجِيبَه إلَّا مَحقَرتُه، فغَضِبَ رسول الله ﷺ، فقال:"إنه مَن يُبغِضُ عمارًا يُبغِضُه اللهُ، ومن يَسُبُّ عمارًا يسُبُّه اللهُ، ومن يَحقِرُ عمارًا يَحقِرُه اللهُ"، فخرجتُ من عندِ رسول الله ﷺ، فلم أزَل أطلُبُ إلى عمارٍ، حتى استغفَرَ لي (1) .
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے دل میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اس دن سے ہر لمحہ بڑھتی جا رہی ہے، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ ایک جنگی مہم میں بھیجا اور مجھے ان کا امیر مقرر فرمایا، میری قوم میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم ایک قوم کے پاس پہنچے جن میں مسلمانوں کا بھی ایک گھر تھا، اس گھرانے کے بارے میں عمار رضی اللہ عنہ نے اور کچھ مسلمانوں نے مجھے کہا کہ ان کو چھوڑ دیا جائے۔ لیکن میں نے کہا: میں اس وقت تک نہیں رکوں گا۔ جب تک کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ دیکھ لیں، اور آپ ان میں اپنا علم نہ دیکھ لیں۔ لیکن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ مجھ پر برہم ہو گئے۔ پھر جب میں واپس آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں پوچھ رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احوال بتا رہا تھا، اسی دوران سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آ گئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کو اجازت دی گئی، وہ اندر آ گئے، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا کیا خیال ہے اس مہم میں خالد رضی اللہ عنہ نے فلاں معاملہ کیا۔ (سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ آپ کی مجلس نہ ہوتی تو ابن سمیہ مجھے برا بھلا نہ کہہ سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو باہر جانے کا حکم دے دیا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ روتے ہوئے یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل آئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ کے خلاف میری مدد نہیں فرمائی۔ (عمار رضی اللہ عنہ کے باہر چلے جانے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نے اس آدمی کی بات کیوں نہیں مانی؟ میں نے کہا: میں نے تو ان کو حقیر جانتے ہوئے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر برہم ہوئے اور فرمایا: جو عمار رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھتا ہے، جو عمار رضی اللہ عنہ کو گالی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو گالی کا بدلہ دیتا ہے، اور جو عمار رضی اللہ عنہ کو حقیر سمجھتا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ حقیر کرتا ہے۔ (سیدنا خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں وہاں سے نکلا اور مسلسل عمار رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈتا رہا حتی کہ (میں نے ان سے ملاقات کی، ان کو منایا اور) انہوں نے میرے لئے مغفرت کی دعا کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5779]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5780
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله (1) بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو أُسامة، حدثنا مُسلم أبو (2) عبد الله الأعور، عن حَبّة العُرَني، قال: دخلْنا مع أبي مسعود الأنصاري على حُذيفة بن اليمان أسألُه عن الفِتَن، فقال: دُورُوا مع كتابِ الله حيثُ دار، وانظُروا الفئةَ التي فيها ابن سُميّة فاتَّبعُوها، فإنه يَدُور مع كتابِ الله حيثُ ما دار، قال: فقلنا له: ومَنِ ابن سُميّةَ؟ قال: عمارٌ؛ سمعتُ رسول الله ﷺ يقول له:"لن تَموتَ حتى تَقتُلَك الفئةُ الباغِيَة، تَشربُ شَرْبةً ضَيَاحٍ تكونُ (3) آخِرَ رِزْقِك من الدنيا" (4) .
هذا حديث صحيحٌ عالٍ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5676 - صحيح
سیدنا حبہ عرنی فرماتے ہیں: ہم سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس فتنوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے گئے، انہوں نے فرمایا: کتاب اللہ کے ہمراہ گھوموں جیسے وہ گھومے اور اس جماعت کو دیکھو جس میں ابن سمیہ ہیں اور اس گروہ کے ہمراہ ہو جاؤ، کیونکہ ابن سمیہ کتاب اللہ کا پیروکار ہے، ہم نے ان سے پوچھا: ابن سمیہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم فوت نہیں ہو گے، بلکہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا تم پانی ملا دودھ پیو گے اور وہ تمہارے لئے دنیا کا آخری مشروب ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند عالی ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5780]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5781
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عُبيد الله بن مُعاذ العَنْبري، حدثنا أبي، حدثنا ابن عَون، عن الحَسن، قال: قال عَمرو بن العاص: إني لأرجُو أن لا يكونَ رسولُ الله ﷺ ماتَ يومَ ماتَ وهو يُحِبُّ رجلًا يَدخُلَ النارَ أبدًا، قالوا: إنا كنا نَراه يُحبُّك ويَستعِينُ بك ويَستعمِلُك، فقال: واللهُ أعلمُ بحُبِّي، ولكن كَفَى به، وكنا نَراهُ يُحبُّ رجلًا، قالوا: ومَن ذاكَ؟ قال: عمارُ بنُ ياسر، قالوا: فذاك قَتِيلُكم يومَ صِفِّينَ (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، إن كان الحسنُ بن أبي الحسن سمعه من عَمرو بن العاص، فإنه أدركه بالبصرة بلا شَكّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5677 - لكنه مرسل
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں یہ امید رکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری دم تک جس سے محبت کرتے رہے وہ کبھی بھی دوزخ میں نہیں جائے گا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم یہ دیکھا کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت بھی کرتے تھے، تم سے معاونت بھی حاصل کرتے تھے اور تمہیں ذمہ داریاں بھی عطا فرمائیں۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ میری محبت کو جانتا ہے اور وہ مجھے کافی ہے۔ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا) لیکن ہم یہ بھی تو دیکھا کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک (دوسرے) آدمی سے (بھی تو) بہت محبت کرتے تھے، انہوں نے پوچھا: کون؟ لوگوں نے کہا: عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ جو کہ جنگ صفین میں تمہارے ہی ہاتھوں قتل ہوئے۔ ٭ اگر حسن ابن ابی حسن نے عمرو بن العاص سے سماع کیا ہے (کیونکہ بلاشک و شبہ بصرہ کے اندر ان دونوں کی ملاقات ثابت ہے) تو یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5781]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں