🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
545. دوروا مع كتاب الله حيثما دار
قرآنِ مجید کے ساتھ رہو جدھر وہ رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5780
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله (1) بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو أُسامة، حدثنا مُسلم أبو (2) عبد الله الأعور، عن حَبّة العُرَني، قال: دخلْنا مع أبي مسعود الأنصاري على حُذيفة بن اليمان أسألُه عن الفِتَن، فقال: دُورُوا مع كتابِ الله حيثُ دار، وانظُروا الفئةَ التي فيها ابن سُميّة فاتَّبعُوها، فإنه يَدُور مع كتابِ الله حيثُ ما دار، قال: فقلنا له: ومَنِ ابن سُميّةَ؟ قال: عمارٌ؛ سمعتُ رسول الله ﷺ يقول له:"لن تَموتَ حتى تَقتُلَك الفئةُ الباغِيَة، تَشربُ شَرْبةً ضَيَاحٍ تكونُ (3) آخِرَ رِزْقِك من الدنيا" (4) .
هذا حديث صحيحٌ عالٍ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5676 - صحيح
سیدنا حبہ عرنی فرماتے ہیں: ہم سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس فتنوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے گئے، انہوں نے فرمایا: کتاب اللہ کے ہمراہ گھوموں جیسے وہ گھومے اور اس جماعت کو دیکھو جس میں ابن سمیہ ہیں اور اس گروہ کے ہمراہ ہو جاؤ، کیونکہ ابن سمیہ کتاب اللہ کا پیروکار ہے، ہم نے ان سے پوچھا: ابن سمیہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم فوت نہیں ہو گے، بلکہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا تم پانی ملا دودھ پیو گے اور وہ تمہارے لئے دنیا کا آخری مشروب ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند عالی ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5780]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5780 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ب) إلى: عبيد الله.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں یہ نام تحریف کا شکار ہو کر "عبیداللہ" ہو گیا ہے۔
(2) في نسخنا الخطية: بن، والجادّة ما أثبتناه كما في كتب التراجم، وجاء فيها أنَّ اسم أبيه كيسان.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں لفظ "بن" لکھا ہے، لیکن درست وہ ہے جو ہم نے ثابت (تحریر) کیا ہے جیسا کہ کتبِ تراجم (Biography Books) میں ہے۔ ان کتابوں میں ہے کہ ان کے والد کا نام "کیسان" ہے۔
(3) في نسخنا الخطية: تكن، والجادة ما أثبتناه
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "تکن" لکھا ہے، جبکہ درست اور معیاری وہ ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے۔
(4) إسناده ضعيف جدًّا كما تقدَّم التنبيه عليه عند رواية الحديث المتقدمة برقم (2684) من طريق إسرائيل بن يونس عن مسلم الأعور، والمرفوع منه صحيح من غير هذا الوجه كما تقدم في الأحاديث السابقة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس پر تنبیہ پہلے گزر چکی ہے جب حدیث نمبر (2684) اسرائیل بن یونس کے طریق سے مسلم الاعور سے روایت کی گئی تھی۔ البتہ اس کا "مرفوع" حصہ اس طریق کے علاوہ دیگر طرق سے "صحیح" ثابت ہے، جیسا کہ گزشتہ احادیث میں گزر چکا ہے۔