المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
545. دوروا مع كتاب الله حيثما دار
قرآنِ مجید کے ساتھ رہو جدھر وہ رہے
حدیث نمبر: 5779
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجَوّاب، حدثنا يحيى بن سَلَمة بن كُهيل، عن أبيه، عن عِمْران بن أبي الجَعْد، عن الأشتَر، قال: ابتدأَنا خالدُ بنُ الوليد من غير أن أَسألَه، قال: ما أتى عليَّ يومٌ قطُّ كان أعظمَ علَيَّ من شَأْن عمّار، لما كان يومُ بَعثَني رسولُ الله ﷺ في أُناس من أصحابِه وأَمَّرني عليهم، وكان في القوم عمارٌ، فأصبْنا قومًا فيهم أهلُ بيتٍ من المسلمين، فكلَّمَني فيهم عمارٌ وناسٌ من المسلمين، قالوا: خَلِّ سبيلَهم، قلتُ: لا واللهِ لا أفعَلُ حتى يَراهُم رسولُ الله ﷺ؛ فيَرى فيهم رأيَه، فغَضِب عليَّ عمارٌ، فلما قدمتُ استأذنتُ على رسولِ الله ﷺ، فهو يَستخبِرُني وأنا أُحدِّثُه، فاستأذَن عمارٌ فأَذِن له، فدخل عمارٌ، فقال: يا رسول الله، ألم ترَ خالدًا فَعَل وفَعَل، فقلتُ: يا رسول الله، أما والله لولا مَجلِسُك ما سبَّني ابن سُميّة، فقال رسول الله ﷺ:"يا عمارُ، اخرُجْ" فخرج عمارٌ وهو يَبكي ويقول: ما نَصَرني رسولُ الله ﷺ على خالدٍ، فقال لي رسولُ الله ﷺ:"ألا أجبْتَ الرجُلَ؟!" قلت: ما مَنعَني أن أُجِيبَه إلَّا مَحقَرتُه، فغَضِبَ رسول الله ﷺ، فقال:"إنه مَن يُبغِضُ عمارًا يُبغِضُه اللهُ، ومن يَسُبُّ عمارًا يسُبُّه اللهُ، ومن يَحقِرُ عمارًا يَحقِرُه اللهُ"، فخرجتُ من عندِ رسول الله ﷺ، فلم أزَل أطلُبُ إلى عمارٍ، حتى استغفَرَ لي (1) .
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے دل میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اس دن سے ہر لمحہ بڑھتی جا رہی ہے، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ ایک جنگی مہم میں بھیجا اور مجھے ان کا امیر مقرر فرمایا، میری قوم میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم ایک قوم کے پاس پہنچے جن میں مسلمانوں کا بھی ایک گھر تھا، اس گھرانے کے بارے میں عمار رضی اللہ عنہ نے اور کچھ مسلمانوں نے مجھے کہا کہ ان کو چھوڑ دیا جائے۔ لیکن میں نے کہا: میں اس وقت تک نہیں رکوں گا۔ جب تک کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ دیکھ لیں، اور آپ ان میں اپنا علم نہ دیکھ لیں۔ لیکن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ مجھ پر برہم ہو گئے۔ پھر جب میں واپس آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں پوچھ رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احوال بتا رہا تھا، اسی دوران سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آ گئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کو اجازت دی گئی، وہ اندر آ گئے، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا کیا خیال ہے اس مہم میں خالد رضی اللہ عنہ نے فلاں معاملہ کیا۔ (سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ آپ کی مجلس نہ ہوتی تو ابن سمیہ مجھے برا بھلا نہ کہہ سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو باہر جانے کا حکم دے دیا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ روتے ہوئے یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل آئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ کے خلاف میری مدد نہیں فرمائی۔ (عمار رضی اللہ عنہ کے باہر چلے جانے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نے اس آدمی کی بات کیوں نہیں مانی؟ میں نے کہا: میں نے تو ان کو حقیر جانتے ہوئے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر برہم ہوئے اور فرمایا: جو عمار رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھتا ہے، جو عمار رضی اللہ عنہ کو گالی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو گالی کا بدلہ دیتا ہے، اور جو عمار رضی اللہ عنہ کو حقیر سمجھتا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ حقیر کرتا ہے۔ (سیدنا خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں وہاں سے نکلا اور مسلسل عمار رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈتا رہا حتی کہ (میں نے ان سے ملاقات کی، ان کو منایا اور) انہوں نے میرے لئے مغفرت کی دعا کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5779]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5779 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف يحيى بن سلمة بن كُهيل، وقد تابعه أخوه محمد، لكنه زاد في إسناده بين أبيه سلمة وبين عمران بن أبي الجعد رجلًا كنيته أبو يحيى، ولم نتبيّنه. وزاد ذكر عبد الرحمن بن يزيد بين عمران وبين الأشتر، ومحمد بن سلمة بن كهيل ضعيف كأخيه. أبو الجَوّاب: هو الأحوص بن جَوَّاب الضَّبِّي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ضعف کی وجہ یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کا ضعیف ہونا ہے۔ اگرچہ ان کے بھائی محمد نے ان کی متابعت کی ہے، لیکن انہوں نے اپنی سند میں اپنے والد سلمہ اور عمران بن ابی الجعد کے درمیان ایک آدمی کا اضافہ کیا ہے جس کی کنیت "ابو یحییٰ" ہے اور ہم اس کی شناخت نہیں کر سکے۔ نیز انہوں نے عمران اور اشتر کے درمیان عبدالرحمن بن یزید کا بھی اضافہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ محمد بن سلمہ بن کہیل بھی اپنے بھائی کی طرح ضعیف ہیں۔ 🔍 ناموں کی تحقیق: ابو الجوّاب سے مراد احوص بن جواب الضّبّی ہیں۔
وأخرجه أبو يعلى الموصلي كما في "جامع المسانيد والسنن" لابن كثير (2748) - ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 43/ 400 - والطبراني في "الكبير" (3832) من طريق الأزرق بن علي، عن حسّان بن إبراهيم، عن محمد بن سلمة بن كهيل، عن أبيه، عن أبي يحيى، عن عمران بن أبي الجعد، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن الأشتر، عن خالد بن الوليد. والأزرق ذكره ابن حبان في "ثقاته" وقال: يُغرِب.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابو یعلیٰ موصلی نے کی ہے (جیسا کہ ابن کثیر کی "جامع المسانيد والسنن" 2748 میں ہے) - اور انہی کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (43/ 400) میں - اور طبرانی نے "المعجم الكبير" (3832) میں ازرق بن علی کے طریق سے، حسان بن ابراہیم سے، وہ محمد بن سلمہ بن کہیل سے، وہ اپنے والد سے، وہ ابو یحییٰ سے، وہ عمران بن ابی الجعد سے، وہ عبدالرحمن بن یزید سے، وہ اشتر سے اور وہ خالد بن ولید سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "ازرق" کو ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ وہ "غرائب" (انوکھی روایات) لاتے ہیں۔