🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

645. ذِكْرُ إِلْقَاءِ الْمُغِيرَةِ خَاتَمَهُ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر میں اپنی انگوٹھی گرا دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6003
حدثنا أبو أحمد إسحاق بن محمد الهاشمي بالكُوفة، حدثنا الحُسين بن الحَكَم الحِبَري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا يونس بن الحارث الطائفي، حدثني أبو عَون الثَّقَفي، عن أبيه، عن المغيرة بن شعبة، قال: لما تُوفِّي رسولُ الله ﷺ بَعثَني أبو بكر الصِّدِّيق إلى أهل النُّجَير، ثم شهدت اليمامةَ، ثم شهدتُ فُتوحَ الشام مع المسلمين، ثم شهدتُ اليرموكَ فأُصيبت عَيني يومَ اليَرمُوك، ثم شهدتُ القادسيّةَ وكنتُ رسولَ سعدٍ إلى رُستُمَ، ووَلِيتُ لِعمر بن الخطب فُتوحًا، وفَتحتُ هَمَذانَ، وشهدتُ نَهاوَنْدَ، وكنتُ على مَيسرةِ النُّعمان بن مُقَرِّن، وكان عمرُ قد كَتَب: إن هَلَك النعمانُ فالأميرُ حذيفةُ، وإن هَلَك فالأمير المُغيرةُ، وكنت أولَ مَن وَضَعَ ديوانَ البصرة، وجمعتُ الناسَ ليُعطَوا، ووَلِيتُ الكوفةَ لعمر بن الخطاب، وقتل عمرُ وأنا عليها، ثم وَلِيتُها لمعاوية (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5890 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے اہل بحیرہ کی جانب بھیجا، پھر میں جنگ یمامہ میں شریک ہوا، پھر میں شام کی فتوحات میں مسلمانوں کے ہمراہ شریک رہا، پھر میں جنگ یرموک میں شریک ہوا، اس جنگ میں میری آنکھ ضائع ہو گئی، اس کے بعد میں جنگ قادسیہ میں بھی شریک ہوا، میں سیدنا سعد کی جانب سے رستم کی طرف سفیر تھا، میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لئے بہت ساری فتوحات کیں۔ ہمدان میں نے ہی فتح کیا۔ جنگ نہاوند میں نعمان بن مقرن کے میسرہ دستے میں شریک تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر لکھی تھی کہ اگر نعمان شہید ہو گیا تو حذیفہ کو امیر بنایا جائے، اور اگر حذیفہ بھی شہید ہو جائے تو مغیرہ بن شعبہ کو امیر بنایا جائے، بصرہ میں سب سے پہلے وزارتیں میں نے مقرر کیں۔ میں نے اس معاملے میں لوگوں کا فنڈ جمع کرانے کا ذہن بنایا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے مجھے کوفہ کا گورنر بھی بنایا گیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو اس وقت میں کوفہ کا گورنر تھا، پھر سیدنا معاویہ نے بھی مجھے وہاں کا گورنر مقرر کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6003]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں