🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

648. مُدَّةُ وِلَايَةِ الْمُغِيرَةِ عَلَى الْكُوفَةِ
کوفہ پر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی گورنری کی مدت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6009
حدثنا أحمد بن يعقوب، حدثنا أبو مُسلم حدثنا حَجّاج بن مِنْهال، حدثنا حمّاد بن سلمة، عن زيد بن أسلَمَ: أنَّ رجلًا جاء فنادى: يَستأذِنُ أبو عيسى على أمير المؤمنين عمر، فقال عمرُ: ومَن أبو عيسى؟ قال المغيرةُ بن شُعبة: أنا، فقال عمر: وهل لعيسى من أبٍ؟! أما في كُنَى العربِ ما تَكتَنُون بها؛ أبو عبد الله وأبو عبد الرحمن؟ فقال رجلٌ: أشهَدُ لقد سمعتُ رسولَ الله ﷺ كنّى بها المُغيرةَ، فقال عمر: إِنَّ النبي ﷺ قد غُفِر له ما تَقدَّم من ذنبه وما تأخَّر، وإِنَّا فِي جَلَجٍ ما نَدْري ما يُفعَل بنا. فكنّاه بأبي عبد الله (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5896 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا زید بن اسلم فرماتے ہیں: ایک آدمی آیا اور اونچی آواز میں کہنے لگا: ابوعیسیٰ، امیرالمومنین کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ ابوعیسیٰ کون ہے؟ سیدنا مغیرہ بن شعبہ نے کہا: میں ہوں جی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی والد تھے؟ اہل عرب جو کنیتیں ابوعبداللہ، ابوعبدالرحمن وغیرہ رکھتے ہیں تم ان میں سے کوئی کنیت نہیں رکھ سکتے تھے؟ ایک آدمی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مغیرہ کی یہ کنیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اللہ تعالیٰ نے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دئیے ہیں، مجھے اس سلسلے میں بہت الجھن ہو رہی ہے، ہمیں معلوم نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی کنیت ابوعبداللہ رکھ دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6009]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6010
أخبرنا الحسن بن محمد الأزْهَري، حدثنا أبو بكر بن رَجَاء، حدثنا داود بن رُشَيد، حدثنا الهيثم بن عَديّ، عن مُجالِد بن سعيد وابن عَيَّاش وإسماعيل بن أبي خالد عن الشَّعْبي، قال: أقام المغيرةُ بنُ شُعْبة على الكوفة عشرَ سنين، ومات في سنة خمسين، فضَمّ الكوفةَ معاويةُ إلى زياد. وقد صحّت الرواياتُ أنَّ المُغيرةَ وَلِيَ الكُوفةَ سنةَ إحدى وأربعين، وهَلَكَ سنة خمسين (1) .
شعبی کہتے ہیں: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ پر دس سال حکومت کی، پچاس ہجری کو ان کا انتقال ہوا، ان کے بعد سیدنا معاویہ نے کوفہ کی ذمہ داری زیاد کو سونپ دی۔ نوٹ: روایات اس سلسلہ میں صحیح ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ 41 ہجری کو کوفہ کے گورنر بنے، اور پچاس ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6010]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6011
فحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري القاضي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن حُصَين، عن هِلال بن يِسَافٍ، عن عبد الله بن ظالم، قال: كان المُغيرةُ بن شُعبة يَنالُ في خُطبتِه من عليٍّ، وأقام خُطباءَ يَنالُون منه، فبَيْنا هو يَخطُب ونالَ من عليٍّ، وإلى جَنْبي سعيدٌ بن زيد بن عمرو بن نُفَيل العَدَوي، قال: فضَرَبَني بيدِه، وقال: ألا تَرَى ما يقول هذا - أو قال: هؤلاء -؟! أشهَدُ على التِّسعةِ أنهم في الجنّة، ولو حَلَفتُ على العاشر لصَدقْتُ، كنا مع رسولِ الله ﷺ بحِراءٍ: أنا وأبو بكر وعمرُ وعثمانُ وعليٌّ وطلحةُ والزبيرُ وسَعْدٌ وعبدُ الرحمن بن عَوف، فتَزَلْزَل الجَبَلُ، فقال النبي ﷺ:"اثْبُتْ؛ فليس عليك إلَّا نَبيٌّ، أو صِدِّيقٌ، أو شَهيدٌ" (2) .
عبداللہ بن ظالم فرماتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے خطبے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کیا کرتے تھے اور ایسے ہی خطیب مقرر کئے تھے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کرتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ خطبے میں حسب معمول سیدنا رضی اللہ عنہ کی شان میں نازیبا الفاظ بول رہے تھے، اس وقت میرے پہلو میں سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل عدوی رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اپنا ہاتھ مجھے مارا اور کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ اس نے 9 صحابہ کرام کے بارے میں تو جنتی ہونے کا اقرار کر لیا ہے۔ اگر میں دسویں کے بارے میں قسم کھا لوں تو میں اس قسم کھانے میں سچا ہوں گا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حراء میں تھا، وہاں میں تھا، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا سعد، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم موجود تھے، پہاڑ ہلنے لگ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رک جا، کیونکہ تیرے اوپر ایک نبی ہے، ایک صدیق ہے اور شہید ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6011]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں