🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

648. مُدَّةُ وِلَايَةِ الْمُغِيرَةِ عَلَى الْكُوفَةِ
کوفہ پر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی گورنری کی مدت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6010
أخبرنا الحسن بن محمد الأزْهَري، حدثنا أبو بكر بن رَجَاء، حدثنا داود بن رُشَيد، حدثنا الهيثم بن عَديّ، عن مُجالِد بن سعيد وابن عَيَّاش وإسماعيل بن أبي خالد عن الشَّعْبي، قال: أقام المغيرةُ بنُ شُعْبة على الكوفة عشرَ سنين، ومات في سنة خمسين، فضَمّ الكوفةَ معاويةُ إلى زياد. وقد صحّت الرواياتُ أنَّ المُغيرةَ وَلِيَ الكُوفةَ سنةَ إحدى وأربعين، وهَلَكَ سنة خمسين (1) .
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ دس سال تک کوفہ کے گورنر رہے اور سن 50 ہجری میں وفات پائی، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی امارت زیاد کے سپرد کر دی۔
یہ روایات بالکل درست ہیں کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سن 41 ہجری میں کوفہ کے گورنر بنے اور سن 50 ہجری میں وفات پائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6010]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6010] [ترقيم الشركة 5951]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6011
فحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري القاضي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن حُصَين، عن هِلال بن يِسَافٍ، عن عبد الله بن ظالم، قال: كان المُغيرةُ بن شُعبة يَنالُ في خُطبتِه من عليٍّ، وأقام خُطباءَ يَنالُون منه، فبَيْنا هو يَخطُب ونالَ من عليٍّ، وإلى جَنْبي سعيدٌ بن زيد بن عمرو بن نُفَيل العَدَوي، قال: فضَرَبَني بيدِه، وقال: ألا تَرَى ما يقول هذا - أو قال: هؤلاء -؟! أشهَدُ على التِّسعةِ أنهم في الجنّة، ولو حَلَفتُ على العاشر لصَدقْتُ، كنا مع رسولِ الله ﷺ بحِراءٍ: أنا وأبو بكر وعمرُ وعثمانُ وعليٌّ وطلحةُ والزبيرُ وسَعْدٌ وعبدُ الرحمن بن عَوف، فتَزَلْزَل الجَبَلُ، فقال النبي ﷺ:"اثْبُتْ؛ فليس عليك إلَّا نَبيٌّ، أو صِدِّيقٌ، أو شَهيدٌ" (2) .
عبداللہ بن ظالم سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے خطبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کیا کرتے تھے اور انہوں نے ایسے خطیب مقرر کیے ہوئے تھے جو ان پر سب و شتم کرتے تھے، ایک مرتبہ جب وہ خطبہ دے رہے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا کلمات کہہ رہے تھے تو میرے پہلو میں سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل عدوی رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے، انہوں نے میرے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور فرمایا: کیا تم دیکھ رہے ہو کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ (یا فرمایا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟) میں ان نو اشخاص کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے متعلق بھی حلف اٹھا لوں تو سچا ہوں گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر موجود تھے، جن میں میں خود، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمن بن عوف (رضی اللہ عنہم) شامل تھے، تو پہاڑ لرزنے لگا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جا! کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق یا ایک شہید کے سوا کوئی اور موجود نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6011]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن جزم النسائي والدارقطني أنَّ هلال بن يِسَاف لم يسمعه من عبد الله بن ظالم، كما مضى بيانه برقم (5469)، إلّا أنَّ للمرفوع منه طُرُقًا أخرى قوية تقدم تخريجها هناك. وقد نقص من هذه الرواية ذكر رجلين من العشرة، وهما سعيد ...» [ترقيم الرساله 6011] [ترقيم الشركة 5952]

الحكم على الحديث: المرفوع منه صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6012
حدثنا إبراهيم بن فِراس الفقيهُ بمكة، حدثنا بَكر بن سهل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا الحَكَم بن هشام الثَّقَفي، حدثني عبد الملك بن عُمير، عن وَرّادٍ مولى المغيرة بن شعبة، عن المغيرة بن شُعبة، قال: سَرَينا مع رسول الله ﷺ ليلةً، فضرب بيدِه على عُنُق راحلتي، ثم قال:"معك ماءٌ؟" قلت: نعم، هذه سَطِيحةٌ من ماءٍ معي، قال: فنزل فقضى الحاجةَ، ثم أتاني، فقال:"أتريدُ الحاجَةَ؟" قلت لا فغَسَل يديه ثلاثًا وتمضمض ثلاثًا واستنشق ثلاثًا، وغسَل وجهَه ثلاثًا، ثم أراد أن يُخرجَ ذِرَاعَيه، وكانت عليه جُبّةٌ من صُوفٍ ضَيِّقةٌ، فلم يَقدِرْ أن يُخرجَ ذِراعَيه منها، فأخرج يَدَيه من تحت الجُبّة ثم غسل ذِراعَيه ثلاثًا ثلاثًا، ثم مَسَحَ برأسِه، ومَسَح على الخُفّين، ثم سِرْنا فَلَحِقْنا القومَ، فصلّى بهم عبدُ الرحمن بن عوف، فأردتُ أن أُوذِنَه بمكانِ رسول الله ﷺ فَمَنَعَني، فصلَّينا معه ركعةً، ثم قَضَينا الثانيةَ (1) . غريب صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّيَاقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5899 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اونٹنی کی گردن پر اپنا ہاتھ مارا اور پھر دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، میرے پاس پانی کا یہ چمڑے کا برتن موجود ہے، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے اور حاجت سے فارغ ہوئے، پھر میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا: کیا تمہیں حاجت ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ہاتھ دھوئے، تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈالا اور تین بار اپنا چہرہ مبارک دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو باہر نکالنے چاہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اون کا ایک تنگ آستینوں والا جبہ زیب تن فرمایا ہوا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے بازو نہ نکال سکے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبے کے نیچے سے اپنے ہاتھ نکالے اور پھر تین تین بار اپنے بازو دھوئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا، پھر ہم چلے اور لوگوں تک پہنچے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے، میں نے چاہا کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کی اطلاع دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا، چنانچہ ہم نے ان کے ساتھ ایک رکعت ادا کی اور پھر اپنی دوسری رکعت (سلام کے بعد) مکمل کی۔
یہ حدیث غریب صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6012]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف بكر بن سهل الدِّمْياطي، لكنه قد توبع.» [ترقيم الرساله 6012] [ترقيم الشركة 5953] [ترقيم العلميه 5899]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں