المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
649. جُرْأَةُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عِنْدَ الْمُلُوكِ
بادشاہوں کے سامنے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی جرأت
حدیث نمبر: 6012
حدثنا إبراهيم بن فِراس الفقيهُ بمكة، حدثنا بَكر بن سهل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا الحَكَم بن هشام الثَّقَفي، حدثني عبد الملك بن عُمير، عن وَرّادٍ مولى المغيرة بن شعبة، عن المغيرة بن شُعبة، قال: سَرَينا مع رسول الله ﷺ ليلةً، فضرب بيدِه على عُنُق راحلتي، ثم قال:"معك ماءٌ؟" قلت: نعم، هذه سَطِيحةٌ من ماءٍ معي، قال: فنزل فقضى الحاجةَ، ثم أتاني، فقال:"أتريدُ الحاجَةَ؟" قلت لا فغَسَل يديه ثلاثًا وتمضمض ثلاثًا واستنشق ثلاثًا، وغسَل وجهَه ثلاثًا، ثم أراد أن يُخرجَ ذِرَاعَيه، وكانت عليه جُبّةٌ من صُوفٍ ضَيِّقةٌ، فلم يَقدِرْ أن يُخرجَ ذِراعَيه منها، فأخرج يَدَيه من تحت الجُبّة ثم غسل ذِراعَيه ثلاثًا ثلاثًا، ثم مَسَحَ برأسِه، ومَسَح على الخُفّين، ثم سِرْنا فَلَحِقْنا القومَ، فصلّى بهم عبدُ الرحمن بن عوف، فأردتُ أن أُوذِنَه بمكانِ رسول الله ﷺ فَمَنَعَني، فصلَّينا معه ركعةً، ثم قَضَينا الثانيةَ (1) . غريب صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّيَاقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5899 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5899 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری سواری کی گردن پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟میں نے کہا: جی ہاں۔ پانی کا یہ ایک مشکیزہ میرے پاس ہے، راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے، قضائے حاجت فرمائی، پھر میرے پاس تشریف لائے، اور پوچھا: کیا تم نے بھی قضائے حاجت کرنی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ہاتھ دھوئے، تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آستینوں والا جبہ زیب تن کیا ہوا تھا، آپ علیہ السلام نے اس کی آستینیں اوپر چڑھانا چاہیں، لیکن آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے وہ اوپر نہ چڑھ سکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبے کے نیچے ہاتھ نکال لئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح کیا اور موزوں پر بھی مسح کیا، اس کے بعد ہم نے اپنا سفر شروع کر دیا اور قافلے کے ساتھ جا ملے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جماعت شروع کروا چکے تھے، میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی اطلاع دینا چاہتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا، چنانچہ ہم لوگ بھی جماعت میں شریک ہو گئے، دوسری رکعت جماعت کے ساتھ پڑھی اور پہلی رکعت جو رہ گئی تھی وہ ہم نے بعد میں پڑھی۔ ٭٭ یہ حدیث غریب ہے صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6012]