🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

669. تَفَتُّحُ أَبْوَابِ السَّمَاءِ وَقْتَ صَلَاةِ الظُّهْرِ
نمازِ ظہر کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6052
حَدَّثَنَا أبو الوليد الإمام ﵀، حَدَّثَنَا محمد بن نُعيم، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي، حَدَّثَنَا وهب بن جَرير، حدثني أبي، قال: سمعتُ محمد بن إسحاق يقول: حدثني يزيد بن أبي حَبِيب، عن مَرْثَد بن عبد الله اليَزَني، عن أبي أُمامة الباهلي، عن أبي أيوبَ قال: لما نزل عَلَيَّ رسولُ الله ﷺ قلت: بأبي أنتَ وأُمي، إنِّي أكره أن أكون فوقَكَ وتكون أسفَلَ منِّي، فقال رسول الله ﷺ:"إِنِّي أَرفَقُ أن أكون في السُّفْلِ لِمَا يَعْشَانا من الناس"، قال: فلقد رأيتُ جرَّةً لنا انكسرت، فأُهريق ماؤها، فقمتُ أنا وأمُّ أيوب بقَطِيفةٍ لنا ما لنا لِحافٌ غيرُها نُنشِّفُ بها الماءَ فَرَقًا أن يَصِلَ إلى رسول الله ﷺ شيءٌ يؤذيه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5939 - على شرط مسلم
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں جلوہ فرما ہوئے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ آپ نیچے والے مکان میں ہوں اور میں آپ کے اوپر والے مکان میں رہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن میرے لئے آسانی اسی میں ہے کہ میں نیچے والے مکان میں ہوں کیونکہ میرے پاس لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ (اور اوپر آنے جانے میں گھر والوں کو پریشانی ہو گی) سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمارا ایک مٹکا تھا، وہ ٹوٹ گیا اور اس کا پانی بہنے لگا، ہمارے پاس ایک ہی چادر تھی، میں نے اور میری بیوی نے اس کے ساتھ پانی کو خشک کیا، اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور لحاف نہیں تھا، بس خیال یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6052]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6053
حَدَّثَنَا محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعراني، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي مريم قال: أخبرنا يحيى بن أيوب، عن عُبيد الله بن زَحْر، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن (1) أبي أُمامة، عن أبي أيوبَ الأنصاريِّ قال: نَزَلَ عليَّ رسول الله ﷺ شهرًا، فنَقَّبتُ في عملِهِ كلِّه، فرأيتُه إذا زالت - أو زاغتِ الشمس، أو كما قال - إن كان في يدِهِ عَمَلُ الدنيا رَفَضَه، وإن كان نائمًا فكأنما يُوقَظُ له، فيقومُ فيغتسلُ أو يتوضأ، ثم يَركَع أربعَ رَكَعَاتٍ يُتِمُّهِنَّ ويُحَسِّنُهُنَّ ويتمكَّنُ فيهِنَّ، فلمّا أراد أن ينطلَق قلت: يا رسولَ الله، مَكَثتَ عندي شهرًا، ووَدِدْتُ أنكَ مكثتَ أكثرَ، من ذلك، فنقَّبتُ في عملك كلِّه، فرأيتُك إذا زالت الشمسُ - أو زاغت - فإن كان في يدكَ عملُ الدنيا رفضتَه وأخذتَ في الصلاة، فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّ أبوابَ السماء يُفتَّحُنَ في تلك الساعة، فلا يُرتَجْنَ أبوابُ السماء وأبوابُ الجنة حتَّى تُصَلَّى هذه الصلاةُ، فأحببتُ أن يَصعَد لي إلى ربي في تلك الساعات خيرٌ، وأن يُرفَعَ عملي في أولِ عملِ العابدين" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5940 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ میرے گھر کو اپنے قیام سے رونق بخشی، اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کو بغور دیکھتا رہا، میں نے دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا تو اس وقت اگر آپ کسی دنیاوی کام میں مشغول بھی ہوتے تو اس کو چھوڑ دیتے، اور اگر آپ سوئے ہوئے ہوتے تو یوں اٹھ جاتے جیسے کسی نے آپ کو اٹھا دیا ہے، آپ غسل کرتے یا وضو کرتے اور ظہر کی نماز ادا کرتے، اس کے بعد بہت خشوع و خضوع کے ساتھ احسن طریقے سے چار رکعتیں ادا کرتے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر سے جانے کا ارادہ فرمایا: تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے گھر میں صرف ایک مہینہ ہی رہے ہیں، کچھ دیر مزید ٹھہر جائیے نا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ کے افعال پر بہت غور کیا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ اگر کسی دنیاوی معاملہ میں مصروف بھی ہوتے تب بھی آپ اس کو چھوڑ دیتے اور نماز میں مشغول ہو جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: بے شک آسمان کے دروازے انہی اوقات میں کھلتے ہیں، اور نماز کی ادائیگی تک کھلے رہتے ہیں، میں یہ چاہتا ہوں کہ ان اوقات میں نیکیاں اللہ پاک کی بارگاہ میں پہنچیں، اور یہ کہ میرا عمل عبادت گزاروں کے اعمال میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6053]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں