🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

670. دُعَاءُ النَّبِيِّ عُقَيْبَ كُلِّ صَلَاةٍ
ہر نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6054
حَدَّثَنَا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الحضرمي، حَدَّثَنَا أبو كُريب، حَدَّثَنَا فِرْدوس الأشعري، حَدَّثَنَا مسعود بن سليمان (1) ، عن حَبِيب بن أبي ثابت، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه، عن ابن عبّاس: أنَّ أبا أيوب خالد بن زيد الذي كان رسولُ الله ﷺ حين هاجر إلى المدينة نزل في داره (2) غزا أرضَ الرُّوم، فمرَّ على معاوية فجَفَاه معاويةُ، ثم رجع من غزوته فجَفَاه ولم يَرفَعْ به رأسًا، قال أبو أيوب: إنَّ رسول الله ﷺ أنبأني أنَّا سنرى بعده أَثَرةً، قال معاوية: فيمَ أمرَكُم؟ قال: أمرَنا أن نصبر، قال: فاصبِروا إذًا، فأتى عبدَ الله بنَ عبّاس بالبصرة، وقد أمَّره عليٌّ عليها، فقال: يا أبا أيوب، إنِّي أريدُ أن أَخرُجَ لك من مَسكَني كما خرجتَ لرسول الله ﷺ، فأَمَرَ أهله فخرجوا، وأعطاه كلَّ شيءٍ كان في الدار، فلما كان وقتُ انطلاقه قال: حاجتُكَ؟ قال: حاجتي عطائي وثمانيةُ أَعبُدٍ يعملون في أرضي، وكان عطاؤه أربعةَ آلاف، فأضعَفَها له خمسَ مِرارٍ، وأعطاه عشرين ألفًا وأربعين عبدًا (1) . قد تقدَّم هذا الحديث بإسنادٍ متّصل صحيح، وأعدتُه للزيادات فيه بهذا الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5941 - قد تقدم بإسناد صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ جن کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا، یہ روم کی جنگ میں شریک ہوئے، اس دوران ان کا گزر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، معاویہ نے ان کے ساتھ زیادتی کی، پھر جب یہ واپس آئے تب بھی انہوں نے ان کے ساتھ زیادتی کی، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تم بعد میں کون کون سی آزمائشوں میں مبتلا ہو گے، سیدنا معاویہ نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایسے حالات میں کیا طرز عمل اپنانے کا حکم دیا تھا؟ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبر کرنے کا حکم دیا تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر صبر کرو۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بصرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو بصرہ کا عامل مقرر کیا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے ابوایوب رضی اللہ عنہ جیسے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے گھر خالی کروا دیا تھا، میں بھی آپ کے لے اپنا گھر خالی کروا دینا چاہتا ہوں، پھر انہوں نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا تو وہ لوگ گھر سے نکل گئے، اور سازوسامان سمیت پورا گھر ان کے سپرد کر دیا۔ پھر جب سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے روانہ ہونے کا وقت آیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ آپ کی کوئی حاجت؟ انہوں نے کہا: میری حاجت میرا قرضہ ہے، اور 8 غلام میری ضرورت ہیں جو میری زمین میں کام کاج کرتے ہیں۔ ان کا قرضہ 4 ہزار تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو بیس ہزار عطا فرمائے اور چالیس خدام بھی دئیے۔ ٭٭ یہ حدیث متصل صحیح اسناد کے ہمراہ پہلے گزر چکی ہے۔ میں نے اس کو دوبارہ اس لئے ذکر کیا ہے کیونکہ اس اسناد کے ہمراہ اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6054]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں