🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

709. دُعَاءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي قَتَادَةَ
نبی کریم ﷺ کی سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6144
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: أبو قتادة بنُ رِبْعِيّ بن بَلْدَمة بن خُنَاس بن سِنَان بن عُبيد بن عَدِيّ بن غَنْم بن كعب بن سلمة بن سعد بن علي بن أَسَد بن سَارِدة بن تَزِيدَ بن جُشَم بن الخَرْرَج. واختُلف في اسمه، فكان محمد بن إسحاق يقول: اسمه الحارث بن رِبعي. قال عبد الله بن محمد بن عُمارة: اسمه النعمان بن رِبعي. وقال بعضهم: عمرو بن رِبْعي. شهد أحدًا والخندقَ وما بعدَ ذلك من المشاهد مع رسول الله ﷺ.
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ابوقتادہ حارث بن ربعی بن بلدمہ بن خناس بن سنان بن عبیدہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ بن سعد بن علی بن اسد بن ساردہ بن یزید بن جشم بن جراح ان کے نام کے بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ محمد بن اسحاق کا کہنا ہے کہ ان کا نام نعمان بن ربعی ہے۔ بعض دیگر مؤرخین کا موقف ہے کہ ان کا نام عمرو بن ربعی ہے۔ آپ جنگ احد، خندق اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6144]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6145
حَدَّثَنَا (2) يحيى بن عبد الله بن أبي قَتَادة عن أبيه، عن أبي قَتَادة، قال: أدرَكَني رسولُ الله ﷺ يومَ ذي قَرَدٍ، فنظر إليَّ فقال:"اللهمَّ بارِكْ له في شَعَرِه وبَشَرِه" وقال:"أفلَحَ وجهُك"، قلتُ: ووجهُك يا رسول الله، قال:"قتلتَ مَسْعَدةَ؟" قلت: نعم، قال:"فما هذا الذي بوَجهِك؟" قلتُ: سهمٌ رُمِيتُ به يا رسول الله، قال:"فادْنُ"، فدَنَوتُ منه، فبَصَقَ عليه، فما ضَرَبَ عَلَيَّ قطُّ ولا قاحَ. قال ابن عمر: وحدثني يحيى بن عبد الله بن أبي قَتَادة قال: تُوفي أبو قَتَادة بالمدينة سنةَ أربعٍ وخمسين وهو ابن سبعين (1) . قال ابن عمر: ولم أرَ بين ولد أبي قَتَادة وأهل البلد عندنا اختلافًا أنَّ أبا قَتَادة تُوفي بالمدينة، وقد روى أهلُ الكوفة أنَّ أبا قَتَادة مات بالكوفة (2) .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ذی قرد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر یوں دعا دی اے اللہ اس کے بالوں میں اور اس کے چہرے میں برکت عطا فرما، اور کہا، اللہ تعالیٰ تیرے چہرے کو کامیاب کرے، میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ آپ کے چہرے کو بھی کامیاب فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا مسعدہ شہید ہو گئے؟ میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ نے پوچھا: یہ تمہارے چہرے پر کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تیر کا زخم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے قریب آؤ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر اپنا لعاب دہن مبارک لگایا، اس کے بعد نہ تو زخم بہا، اور نہ اس میں درد باقی رہا۔ یحیی بن عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ستر برس کی عمر میں سن 54 ہجری میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔ محمد بن عمر فرماتے ہیں: کہ ہمارے علماء میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا۔ اور اہل کوفہ کا کہنا ہے کہ سیدنا ابوقتادہ کا انتقال کوفہ میں ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6145]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں